46

خواتین کے وراثتی حقوق سے متعلق اقدامات نہ کرنا افسوسناک ہے، سپریم کورٹ

Spread the love

خواتین کے وراثتی حقوق

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) عدالتوں کی طرف سے بار بار نشاندہی کے باوجود خواتین کے وراثتی حقوق سے متعلق ٹھوس اقدامات نہ کرنا افسوسناک ہے۔

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا خواتین کو وراثتی جائیداد میں حق سے متعلق اہم فیصلہ جاری کردیا جس میں کہاگیاکہ محض چند وسائل رکھنے والی خواتین ہی وراثتی جائیداد کے حقوق کیلئے عدالتوں سے رجوع کر پاتی ہیں،

عدالتوں میں جائیداوں کے مقدمات سست روی سے چلتے ہیں،موجودہ کیس کا چار عدالتی فورمز سے ہوکر تیرہ سال بعد فیصلہ ہوا،عدالتوں کے زریعے وسائل اور وقت ضائع کرکے انصاف لینے کے بجائے ریاست کو خواتین کے حقوق کا خود تحفظ کرنا چاہیے.

محکمہ مال میں بدعنوانی کیساتھ ساتھ نظام بھی کمزور کیساتھ استحصال کرتا ہے،خواتین کو انکی وراثتی جائیداد سے محروم رکھنا دراصل انکو معاشی، خودمختاری سے محروم رکھنا ہے،

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے فیصلے میں کہا آئین پاکستان کو بنے تقریباً پچاس سال ہو چکے ہیں، صدر مملکت اور صوبائی گورنرز پر سالانہ پرنسپل آف پالیسز پیش کرنا آئینی ذمہ داری ہے،

جب صدر اور گورنرز پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں پرنسپل آف پالیسز سے متعلق رپورٹس پیش کریں گے تو قانون ساز قانون سازی کریں گے، امید ہے صدر اور گورنرز اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں