محمد مصطفی غزالی شاعر 76

محمد مصطفی غزالی ابھرتے ہوئے شاعر

Spread the love

محمد مصطفی غزالی شاعر

اردو زبان و ادب کا دائرہ نہایت وسیع ہے اردو زبان ہمیشہ سے ہی شیری رہی ہے ۔اردو محبت تو حکومت کی زبان ہے تو گنگا جمنی تہذیب کا علمبردار بھی ہے ۔اس زبان میں وہ جادو ہے جو سامعین کو محظوظ اور قاری کو دیوانہ بنا دیتی ہے اردو کا شیری پن نہیں ہے جس کے بعد عصر حاضر میں عالمی سطح پر اردو بولا اور لکھا جانے لگا ہے ۔یہ زبان رفتہ رفتہ برصغیر ہندو پاک کے سرحد سے نکل کر عالمگیر سطح کی زبان بن چکی ہے ۔اور ان سب کے پیچھے اردو زبان و ادب سے وابستہ لوگوں شعراء ادباء کا ناقابل فراموش کردار رہا ہے ۔

خسرو سے لے کر غالب میر اور اقبال کے بعد موجودہ دور کے بے شمار اردو دوست حضرات کی خدمات کارفرما ہے ۔بے شمار ادیب اور شاعروں نے اپنی تخلیقی صلاحیت اس زبان کو سیراب کیا ہے موجودہ دور میں بھی کئی ایسے شعراء اور ادباء ہیں جو ملک و بیرون کے مختلف خطوں سے اردو کی خدمت میں دل و جان سے مصروف ہیں ۔

اس ضمن میں صوبہ بہار سے تعلق رکھنے والے ابھرتے ہوئے نوجوان شاعر محمد مصطفی غزالی کا نام اہم ہے شاعر موصوف پیشے سے وکیل ہیں جو پٹنہ ہائی کورٹ میں پریکٹس کا کام انجام دے رہے ہیں۔

محمد مصطفی غزالی کا تعلق صوبہ بہار کے شہر پٹنہ سے ہے ان کی بنیادی تعلیم گھر پر والد ماجد جناب عبدالمجید صاحب کے پاس ہوئی ۔محمدن اینگلو عربک سینئر سیکنڈری اسکول پٹنہ سٹی سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا بعد ازیں پٹنہ کالج دربھنگا ہاؤس اور پٹنہ کالج سے یکے بعد دیگرے ایل ایل ایم تک کی ڈگری حاصل کی۔پڑھائی لکھائی میں دلچسپی ہونے کے سبب انہوں نے آگے بھی پڑھائی جاری رکھا اور مدراس سے سیفٹی مینجمنٹ کورس محکمہ برائے فروغ انسانی وسائل سے کمپیوٹر کورس ڈپلومہ ان اردو لینگویج اینڈ لٹریچر گورنمنٹ ٹیچر ٹریننگ کالج مہندرو پٹنہ سے ڈی ایل ایڈ اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد سے بی ایڈ کا کورس بھی مکمل کر لیا نیز پٹنہ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری نا مکمل ہے ۔

اولا میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ میں کوئی زبان داں یا ادیب نہیں ہوں ہاں تھوڑا بہت لکھ لیتا ہوں جس سے میں اپنے لیے کافی سمجھتا ہوں اور جستجو کے ساتھ سیکھنے کی کوشش میں رہتا ہوں میری تحریر میرا ذاتی خیال ہوتا ہے اور میرا ماننا ہے کہ مصطفی غزالی شاعری کی دنیا میں نئے ضرور ہیں پر انہوں نے شاعری کی پگڈنڈیوں پر چلنا سیکھ لیا ہے شاعری کے رموز و نکات سے واقفیت بھی وہ چکی ہے میرے خیال سے اس وقت واہ عمدہ شاعری کر رہے ہیں اور اس میں نکھار پیدا کرنے کے لیے محنت بھی کر رہے ہیں ۔ان کی شاعری کی اردو حلقے میں پذیرائی ہو رہی ہے یہ دیگر بات ہے کہ انہیں شخص سے شخصیت بننے کے لیے طویل سفر طے کرنا ہے ۔

محمد مصطفی غزالی کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن سے ہی تھا البتہ اردو شاعری اور اردو زبان سے محبت گریجویشن کے بعد پیدا ہوئی ۔شعر و سخن کا شوق بھی رکھتے تھے لہذا اردو زبان و ادب کا مطالعہ شروع کیا اور پھر انہوں نے خود کو ایک ابھرتے ہوئے شاعر کے طور پر پیش کیا ۔شاعر موصوف نے حمد نعت مناجات منقبت غزل نظم قطعہ ودیگر شعری اصناف میں طبع آزمائی کی ہے اور بہترین اشعار تخلیق کیا ہے۔حمد باری تعالی کے چند اشعار دیکھیں ۔۔۔

خدا نے ہر کسی کو ایک نیا انداز بخشا ہے

کسی کو سوز بخشا ہے کسی کو ساز بخشا ہے ۔

عطا کرکے کسی کو رنگ و رونق دلکشی شوخی

جمال و حسن کا بے مثل ایک اعزاز بخشا ہے

گناہوں کو رنگ و بو سے کس قدر شاداب رکھتا ہے

پرندوں کو عجب بالوں پر پرواز رکھتا ہے

وہی محفوظ رکھتا ہے جو بن سے خار کی لیکن

جسے گل کی تمنا ہے اسے گلناز بخشا ہے ۔۔۔۔

نعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند اشعار دیکھیں کہ ان کی نعتیہ شاعری کس قدر عمدہ ہے جو قاری کو آپ نے گرفت میں لے لیتی ہے ۔

واقعی عشق نبی میں جس کو جینا آگیا

ہاتھ اس کے دو جہاں کا ہر خزینہ آ گیا

نور حق سے دو جہاں کو جگمگانے کے لئے

رحمت عالم کی صورت اک نگینہ آ گیا

سنتوں پر صدق دل سے جو عمل پیرا ہوا

درحقیقت اس کو جینے کا قرینہ آ گیا

عشق احمد کا وہ دعوی کر نہیں سکتا کبھی

علم ہے جس کے ذرا بھی بغض و کینہ آگیا۔

ان کی شاعری پر نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی شاعری کی زبان سادہ سلیس اور عام فہم ہے ان کی شاعری میں فکری عنصر نمایاں ہے اپنی شاعری کے ذریعے قوم و معاشرے میں نیک اور مثبت پیغام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں ان کی شاعری میں ہر طرح کے موضوعات شامل ہیں ہر بات کو نہایت سنجیدگی کے ساتھ پیش کرنے کا ہنر خوب جانتے ہیں وہ جذباتی فطرت کے حامل انسان ہیں اور جذبات کا یہ پہلو ان کی شاعری میں وہ سر طور پر نظر آتا ہے ۔ وہ اپنی شاعری میں ہندوستانی تہذیب کلچر اور روایت کو بھی جگہ دیتے ہیں وہ ایک پر امید مزاج کے مالک ہیں اور ان کی شاعری میں مستقبل کے خواب پنہاں ہیں اپنی شاعری میں وہ موجودہ کرب وہ کڑھن کو پیش کرتے ہیں اور تابناک مستقبل کے خواہاں ہیں ان کے اشعار میں سیاسی و سماجی شعور کا خوبصورت امتزاج نظر آتا ہے چند اشعار دیکھیں۔

بگاڑ سکتا نہیں کچھ بھی کسی طوفان سے ہرگز

چراغوں کا محافظ جب تلک فانوس ہوتا ہے

صاف گوئی کی غزالی یوں سزا ہم کو ملی

دوست جتنے تھے سبھی دشمن ہمارے ہوگئے

اسلام معظم ہے دنیا کے مذاہب میں

اس اور کا قائل تو اب سارا زمانہ ہے ۔

اپنی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں

کب میریاں غالب ہوں میں

کسی آزاد کا طالب ہوں میں

ہاں شاعری کا ذوق ہے

جس کی طرف راغب ہوں میں ۔

انہوں نے اپنی شاعری میں اردو کو جگہ دی ہے اور اردو کی روٹی کھانے والوں سے بے رخی کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

ایک مدت سے جو اردو کی کھاتے ہیں

ان کے بچے انگلش مکتب جاتے ہیں

ہیں اردو کے عہدے پر فائض لیکن

ہونٹوں پر انگریزی جملے لاتے ہیں ۔

محمد مصطفی غزالی کی شاعری میں احتجاجی عنصر بھی ابھر کر سامنے آیا ہے گزشتہ دو تین سال میں ملک وعالم کے مختلف موضوعات کو اپنی شاعری میں شامل کیا ہے خوب عمدہ اشعار تحریر کیا ہے انہوں نے اپنی قلم کے ذریعے نہ صرف اپنی قوم کی صدا بلند کی ہے بلکہ عوام الناس کو گہری نیند سے بیدار کرنے کی پرزور کوشش کی ہے انہوں نے کوروناعہد کوروناعہد کی عید طلاق ثلاثہ بل سی اے اے این آرسی ودیگر ملک مخالف قوانین کا کھل کر اختلاف کیا ہے۔شعر دیکھیں

فضا اچھی نہیں لگتی دیار ہند میں اب تو

جسے دیکھو سیاست کر رہا ہے نفرت کی

غزالی کہہ رہا ہے جو ذرا سوچو میرے پیارو

ہمارے ملک کو کتنی ضرورت ہے محبت کی ۔

وعدوں پر تیرے کسی کو ہو اعتبار کب تک

اچھے دنوں کا آخر ہو انتظار کب تک

ظلم و ستم تو کر لے جی بھر کے اے ستمگر

ظالم کے ہاتھ رہتا ہے اقتدار کب تک ۔

جب چاہا مجھ کو لوٹا جب چاہا مار ڈالا

میرے لہو کا ہوگا یہ کاروبار کب تک

مانا کے ہاتھ میں ہے تیرے ابھی تک حکومت

لیکن رہے گا تجھ کو یہ اختیار کب تک

اسی کی زبان میں ہی سمجھانا ہوگا اس کو

یہ خاموشی کب تک اور انکسار کب تک

اٹھو میرے عزیزو تختہ پلٹ کے رکھ دو

امداد غیب پر ہوں اب انحصار کب تک ۔

عید کے موقع پر لکھتے ہیں

مبارک ہو سبھی کو عید کی خوشیاں مبارک ہوں

صدا آئی میرے دل سے یہی بے ساختا یارو

مناؤ تم خوشی لیکن غریبوں کو نہیں بھولو

غزالی دے رہا ہے پاس دی کا واسطہ یارو

خدا کا شکر ہے بخشا ہمیں پھر

سے حسین موقع

تبسم کا مسرت کا خوشی کا شادمانی کا

منائی عید کی خوشیاں سبھی سب سے گلے مل کر

غزالی ہے دعاگو آپ سب کی کامرانی کا ۔

استاد کی عظمت اور برتری اور ان کی خدمات کا قایل زمانہ رہا ہے استاد ہماری زندگی کا معمار ہوتا ہے استاد کی ابدی حیثیت ہے اور اس کی تعظیم ہمارے لئے لازم ہے اس حوالے سے لکھتے ہیں

معلم کی اگر عزت نہیں ہوگی زمانے میں

تو پھر تعلیم کا معیار اونچا ہو نہیں سکتا

ترقی کے منازل پر زمانہ لاکھ بھی پہنچے

مگر انسان کا کردار اونچا ہو نہیں سکتا

اگر استاد کی عزت نہیں ہوگی زمانے میں

کسی شاگرد کا معیار اونچا ہو نہیں سکتا

فقط اونچی اڑانوں کو ترقی ہم نہیں کہتے

بنا اقدار کے کردار اونچا ہو نہیں سکتا۔۔۔۔۔۔

چند احتجاجی اشعار ملاحظہ فرمائیں

کبھی تم چین جاتے ہو کبھی جاپان جاتے ہو

کبھی جاتے ہو امریکہ کبھی جاپان جاتے ہو

خزانہ کر دیا خالی فقط تفریح کی خاطر

غضب انسان ہوں لے کر عجب پہچان جاتے ہو

کیا وعدہ مگر وعدہ کبھی پورا کیا تم نے

کے اچھے دن کے بدلے چھوڑ کر ویران جاتے ہو

رعایا منتظر ہے آج تک اپنے سوالوں پر

خاموشی سے کیے تم ختم ہر امکان جاتے ہو ۔

پشیماں ہو کہتی ہے عوام ہند یہ ساری

بنا کر کے تجھ کو رہبر خطا ہم سے ہوئی بھاری

تعصب سے بھرا قانون واپس لیجئے صاحب

نہیں دستور سے منظور ہم کو ایسی غداری ۔

عوام الناس پر جبرن سیاہ قانون نافذ کر

وقار ہند سے ہرگز نہ کیجئے آپ مکاری

ہمارے دیش کی دیرینہ عظمت یوں رہے قائم

دیار ہند میں ہر سو نظر آئے رواداری

دوسری جگہ لکھتے ہیں

یہ کیا صورت ہمارے دیش میں سرکار کر ڈالا

حوالے نفرتوں کے یہ حنسی گلزار کر ڈالا

عدم جمہوریت کے ہر طرف حالات پیدا کر

دیار ہند میں ماحول کو بیکار کر ڈالا

ابھی بھی وقت ہے اپنی حماقت چھوڑ دے ناداں

نہیں تو پھر نہ کہنا ہم نے بھی یلغار کر ڈالا

غزالی آگیا ہے وقت اب کچھ کر گزرنے کا

اسی باعث علم کو آج پھر تلوار کر ڈالا ۔

مصطفی غزالی کی شاعری کا دائرہ وسیع ہیں وہ مختلف سماجی کارکنان سیاسی شعور رکھنے والے لوگ فلم ایکٹر گلوکار اہل قلم اور شاعر و ادیب پر بھی کھل کر اظہار خیال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔لہذا ایک اہل قلم کے لئے لکھتے ہیں کہ

غضب کا فن خدا نے آپ کو بخشا میرے ہمدم

کروں تعریف میں جتنی لگے مجھ کو بہت ہی کم

اضافہ در اضافہ آپ کے علم و ہنر میں ہو

غزالی کی دعا رکھے خدا خوش آپ کو ہر دم ۔

ہندوستان کے عظیم گلوکار شہنشاہ ترنم محمد رفیع کے یوم وفات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں

خدائے پاک نے بخشا حسین انداز کا تحفہ

بڑا بے مثل تھا بے شک لگا اعجاز کا تحفہ

مچلتا ہے سبھی کا دل تیرے نغمات کو سن کر

ملا رب سے تجھے یوں دل نشیں آواز کا تحفہ ۔

صوبہ بہار سے تعلق رکھنے والے معروف شاعر رمز عظیم آبادی کے حوالے سے لکھتے ہیں

کلام رمز کو پڑھ کر ہوا محسوس یہ مجھ کو

خدا نے شاعری کا فن انہیں تحفے میں بخشا ہے

فیروزاں کر کے بزم شاعری کو شمع حکمت سے

جناب رمز نے ہم کو سخن ورثے میں بخشا ہے

عظیم آباد کی دھرتی پر ایک شاعر ہوا ایسا

دبستان عظیم آباد کا جو راہبر نکلا

مگر افسوس کہ قدر اس کی ہم سے ہو نہیں پائی

عدم جس کا ہمیشہ سنگ میل رہ گزر نکلا ۔

مصطفی غزالی کی شاعری نہ صرف رفتہ رفتہ وسیع ہو رہی ہے بلکہ ان کی شاعری میں دھار بھی پیدا ہو رہی ہے ۔ان کی زندگی اور شاعری کا مطالعہ کرنے سے معلومات نکل کر سامنے آتی ہے کہ وہ زندگی کے تمام پہلو کا باریک بینی سے مطالعہ کرتے ہیں اور جس موضوع پر قلم اٹھاتے ہیں اس کی مکمل معلومات دریافت کرتے ہیں ۔

ان کے کلام ملک کے تقریبا تمام تر اردو اخبارات میں شایع ہوچکے ہیں جن میں روزنامہ پندار قومی تنظیم تا ثیر منصف آگ قومی صحافت ہمارا سماج روزنامہ انقلاب لازوال نیا نظریہ وغیرہ اہم ہیں

اس کے علاوہ مختلف رسائل میں بھی ان کے کلام کی اشاعت کو چکی ہے جن میں ملک وہ بیرون کے چند رسائل کچھ اس طرح ہے ماہنامہ اردو ڈائجسٹ اسپین ماہنامہ زبان و ادب بہار اردو اکیڈمی اور دیگر سالوں میں بھی بکثرت شاعر ہوتے رہتے ہیں ۔

المختصر یہ کہ مصطفی غزالی کی شاعری کا مطالعہ کرنے پر گمان ہوتا ہے کہ انہوں نے روایتی شاعری سے علیحدہ راستہ اختیار کیا ہے ان کی شاعری میں زبان حال سے وابستگی اور مستقبل کے روشن خواب دیکھے ہیں اپنی شاعری میں حسن و عشق اور گل و بلبل کے مقابلے میں بے وطن فکر قوم و ملت سیاسی سماجی اور معاشرتی زوال کی فکر اور دیگر موضوع کو ترجیح دیتے ہیں ۔گویا کہ ادب برائے معاشرہ یا ادب برائے قوم و ملت کے نظریے کے حامی ہیں اپنی شاعری کو مفاد عامہ اور مفاد قوم کا رنگ دینے کی اچھی کوشش کی ہے ان کی شاعری میں مقاصد پنہاں ہوتے ہیں یہی سبب ہے کہ ان کے اشعار لایق مطالعہ ہوتی ہے

لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ ایک بہترین عمر تے ہوئے شاعر ہے اور مستقبل میں ان کی تحریر اردو ادب کے لیے قیمتی سرمایہ ثابت ہوگی ۔

اسلم آزاد شمسی

دہیا مہگاواں ،ضلع گڈا جھارکھنڈ

محمد مصطفی غزالی شاعر،محمد مصطفی غزالی شاعر،محمد مصطفی غزالی شاعر،محمد مصطفی غزالی شاعر

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں