52

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس، افغانستان سمیت خطے کی صورتحال کا جائزہ

Spread the love

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن نیوز) قومی سلامتی کمیٹی اجلاس

قومی سلامتی کمیٹی کا کہنا ہے کہ تمام افغان گروہ یقینی بنائیں کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ندیم رضا، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خزانہ شوکت ترین سمیت دیگر اہم وزرا اور اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی۔

اعلامیہ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے شرکاء نے کہا کہ پاکستان اپنے ہمسائے ملک سے امن چاہتا ہے، پاکستان کئی دہائیوں سے افغانستان میں جاری تنازعات سے متاثر رہا ہے، پاکستان افغان مسئلے کے جامع سیاسی حل کے لئے پرعزم ہے، اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق عالمی برادری کو چار دہائیوں سے دی جانے والی قربانیوں کا بھی اعتراف کرنا چاہئے،

پاکستان افغانستان میں عدم مداخلت کے اصول پر سختی سے کاربند اورعالمی برادری و تمام افغان سٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون اور کام جاری رکھے گاجاری اعلامیہ کے مطابق افغانستان میں ہنگامی صورتحال پر قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں افغانستان کی صورت حال اور اس کے تناظر میں پاکستان پر پڑنے والے اثرات اور خطے کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔

اعلامیہ کے مطابق شرکا کو افغانستان کی تازہ صورتحال پر بریفنگ دی گئی ۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کئی دہائیوں سے افغانستان میں جاری تنازعات سے متاثر رہا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنے ہمسائے ملک سے امن چاہتا ہے۔پاکستان افغان مسئلے کے جامع سیاسی حل کے لئے پرعزم ہے۔ اجلاس کے شرکاء کا کہناتھا کہ امریکا اور نیٹو کی موجودگی میں افغان مسئلے کا بہترین حل نکالا جا سکتا تھا۔

عالمی برادری کو چار دہائیوں سے دی جانے والی قربانیوں کا بھی اعتراف کرنا چاہیئے۔پاکستان کئی دہائیوں سے افغانستان میں جاری تنازعات سے متاثر رہا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی نے کہا کہ پاکستان تمام افغان گروہوں کی نمائندگی کے ساتھ ایک جامع سیاسی تصفیے کے لیے پرعزم ہے،یہ مثبت بات ہے کہ کسی بڑے تشدد سے بچا گیا ہے ہم افغانستان میں تمام فریقوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قانون کی حکمرانی کا احترام کریں،

تمام پارٹیز افغانیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ کریں اور انکا خیال رکھا جائے۔ اعلامیے کے مطابق شرکا نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے افغان سرزمین کو کوئی دہشتگرد گروپ کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں کرے گا، افغان سر زمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان میں عدم مداخلت کے اصول پر سختی سے کاربند رہے گا۔

پاکستان عالمی برادری اور تمام افغان سٹیک ہولڈرز کے ساتھ تعاون اور کام جاری رکھے گا ۔افغان مسئلے کا کبھی بھی کوئی فوجی حل نہیں تھا۔ سابق امریکی انتظامیہ کی فوجوں کے انخلا کے فیصلے کی بائیڈن انتظامیہ کی توثیق درحقیقت تنازع کا منطقی نتیجہ ہے۔ عالمی برادری کے لئے یہ وقت ہے کہ وہ خطے اور افغانستان میں دیر پا امن، استحکام اور ترقی کیلئے پائیدار سیاسی حل کو یقینی بنانے کیلئے مل کر کام کرے ۔

اعلامیہ کے مطابق اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے ہدایات جاری کیں کہ افغانستان کے نکلنے کے خواہاں تمام پاکستانیوں،سفارتکاروں ،صحافیوں اور عالمی تنظیموں کے عملے کو ہرممکن سہولیات فراہم کی جائیں ۔وزیر اعظم نے کابل میں پاکستانی سفارتخانے کی کاوشوں اور اس حوالے سے ریاستی مشینری کے کام کو سراہا ۔۔

اس سے قبل یکساں نظام تعلیم کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ کہ افغانستان میں غلامی کی زنجیریں ٹوٹ گئیں لیکن ذہنی غلامی کی نہیں ٹوٹیں.وزیر اعظم نے کہا کہ ہم کسی کی ثقافت کو اپنا کر پیغام دیتے ہیں وہ ہم سے بہتر ہیں، کبھی بھی ایک ذہین غلام بڑا کام نہیں کرسکتا،

کسی کی نقل کرکے ہم اچھے غلام بن سکتے ہیں لیکن آگے نہیں جاسکتے کیونکہ دنیا میں اختراعی ذہن والے اوپر جاتے ہیں، ابھی افغانستان میں غلامی کی زنجیریں تو توڑ دی گئیں ہیں لیکن ذہنی غلامی کی زنجیریں نہیں ٹوٹیں۔دوسری طرف طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ ہم کسی کوبھی افغانستان کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں خصوصی طور پر گفتگو کرتے ہوئے ترجمان طالبان کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی فورسز کو کہا ہے کابل میں داخل ہونے کے بجائے قریب رہیں۔ کابل کی سیکیورٹی کوبہترکریں گے۔ ہم اسلامی حکومت بنائیں گے۔ دوحا میں بات چیت کا آپشن اب ختم ہوچکا ہے۔میزبان کی طرف سے سوال پوچھا گیا کہ افغان طالبان کی طرف سے افغانستان کو فتح کرنے کے بعد بھارت میں بہت واویلا چل رہا ہے جس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت کا رونا دھونا بیجا ہے۔ ان کا رونا دھونا افغان حکومت ختم ہونے پرہے، ان کا رونا دھونا نہیں ہونا چاہیے، افغان عوام جوحکومت بنائے انہیں تسلیم کرنا چاہیے۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ افغانستان میں تمام لوگ قانون کی نظرمیں برابر ہے۔ اقلیتی برادری کے کاموں میں بھی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، تمام گروہوں کواسلامی حکومت میں شامل کریں گے، ہم کسی کوبھی افغانستان کی سرزمین دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

ہم تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں، تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اکانومی کا حب بنائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اشرف غنی عوام کوبتائے بغیرہی ملک چھوڑکرچلے گئے، ملک چھوڑنے کا انکے قریبی ساتھیوں کوبھی علم نہیں تھا۔ ملا عبد الغنی برادر اس وقت قطر میں ہیں۔

قومی سلامتی کمیٹی اجلاس


ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں