73

طالبان کابل سے 9کلومیٹر دور

Spread the love

طالبان کابل 9کلومیٹر

کابل،برسلز،واشنگٹن،نیویارک(صرف اردو آن لائن نیوز) طالبان نے افغانستان کے سرحدی صوبے پکتیکا کے دارالحکومت شرنہ کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا،جبکہ طالبان افغان دارالحکومت سے صرف کابل سے 9کلومیٹر دور موجود ہیں اور افغان حکومت چند علاقوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔افغانستان میں طالبان کی تیزی سے پیش قدمی جاری ہے اور اب طالبان نے پاکستان کیساتھ افغان سرحدی صوبے پکتیکا کے دارالحکومت شرنہ پر بھی قبضہ کرلیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق صوبے پکتیکا کے گورنر اور دیگر عہدیداروں نے سر ینڈ رکیا جس کے بعد انہیں کابل روا نگی کیلئے محفوظ راستہ دیا گیا۔دارالحکومت شرنہ پر کنٹرول کے بعد طالبان کے قبضے میں جانیوالے صوبائی دارالحکومتوں کی تعداد 20ہوگئی ہے ۔ د و سر ی جانب صوبے بلخ کے دارالحکو مت مزارشریف کے نواح میں سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے،،

سابق گورنر اور جنگی سردار عطا محمد نور کی ملیشیا کا محاصرہ کر لیا ہے۔اْدھر امریکی انٹیلی جنس کا کہنا ہے طالبان کی جانب سے 72 گھنٹوں میں کابل کا گھیراؤ ہوسکتا ہے۔امریکہ نے کابل میں ایمرجنسی تعیناتی کیلئے ایک بریگیڈ فوج کویت بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری طرف افغانستان میں طالبان کی پے در پے کامیابیوں نے افغان حکومت کو مشکل میں ڈال دیا ہے، جس کے بعد ملک میں عبوری حکومت کے قیام پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔

افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے صدر اشرف غنی نے سیاسی رہنماؤں اور سابق جنگی سرداروں سے ہنگامی ملاقات کی ، ملاقات کے دوران افغان رہنماؤں نے طالبان کیساتھ مذاکرات کیلئے بااختیار ٹیم تشکیل دینے پر اتفاق کیا ہے۔افغان میڈیا کے مطابق افغان مفاہمتی کونسل کے سربراہ عبد اﷲ عبد اﷲ اور سینئر افغان رہنماؤں کے درمیان بھی اہم ملاقات ہوئی ، جس میں افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام کا معاملہ زیر بحث آیا۔ادھربھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کے اکثریتی علاقوں پر طالبان کے قبضے کے بعد صدر اشرف غنی استعفیٰ دیکر اہلخانہ سمیت بیرون ملک منتقل ہونے کی تیاری کر رہے ہیں،

افغان صدر اشرف غنی نے اپنے ساتھیوں سے مشورے کے بعد مستعفی ہو نے کا فیصلہ کرلیا ہے، جس کے بعد وہ کسی تیسرے ملک اہل خانہ سمیت منتقل ہوجائیں گے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق صدر اشرف غنی کا حال ہی میں آنیوالا ویڈیو پیغام گزشتہ شب ریکارڈ کیا گیا تھا اسلئے اس پیغام میں استعفیٰ کا اعلان نہیں،دوسری جانب افغان میڈیا نے کہا ہے اشرف غنی نے منظر عام پر آنیوالے ریڈیو پیغام میں حالات قابو میں ہیں کا دعوی کرتے ہوئے عہد کیا ہے وہ افغانستان میں مزید جنگ اور خونریزی نہیں ہونے دیں گے،

ملک عدم استحکام سے دوچار ہے اور میری کوشش ہو گی ملک کو مزید عدم استحکام، تشدد اور لوگوں کو بے گھر ہونے سے بچایا جائے۔اس بات کی اجازت نہیں دینگے کہ افغان شہریوں پر جنگ مسلط کی جائے جس سے ان کی جانیں ضائع ہوں۔20 سال سے جو کچھ حاصل ہوا اسے گنوا دیا جائے۔

نیوز18 کا دعویٰ ہے کہ یہ انکشاف صدر اشرف غنی کے ایک اہم اور قریبی ساتھی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کیاکہ اشرف غنی جلد مستعفی ہونے کا باضابطہ اعلان کریں گے، اس حوالے سے افغان صدر نے گزشتہ رات ایک اہم ملاقات کی جس میں امریکی سفیر نے بھی شرکت کی ، اس دوران اشرف غنی نے استعفیٰ دینے کی پیشکش کی تاہم افغانستان کے نائب صدر امراﷲ صالح واحد شخص ہیں جنہوں نے استعفے کی مخالفت کی ۔

جبکہ عرب میڈیا کے مطابق قطر نے افغان طالبان سے افغانستان میں جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا۔قطر کے وزیر خارجہ نے مذاکرات کیلئے طالبان کے سربراہ ملا عبد الغنی برادر سے اہم ملاقات کی ،جس میں قطری وزیر خارجہ نے تشدد ختم کر کے جنگ بندی کا مطالبہ کیا ۔

دوسری طرف افغانستان کے شمالی صوبوں کندز اور سرپل کے دارالحکومتوں میں طالبان جنگجوؤں اور افغان فوج کے درمیان لڑائی جاری ہے،شمال میں جوزجان صوبے کے دارا لحکو مت شبرغان میں بی 52 بمبار طیاروں کی مدد سے 200 سے زیادہ طالبان جنگجوؤں کو ہدف بنایا گیا ،

ننگرہار صوبے میں بعض مذہبی رہنماؤں نے افغان فوج کی حمایت کا اعلان کیا ہے،خوست صوبے کے شہر باک میں طالبان حملے کے بعد افغان فوج نے جوابی کارروائی شروع کردی ،شمالی پنجشیر صوبے کے مقامی حکام نے کہاہے طالبان اور حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے۔طالبان کے ترجمان ذبیح اﷲ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے مسلح گروہ نے کنڑ صوبے کے شہروں شلطن اور اسمار پر بھی قبضہ کر لیا ہے،

تاہم افغان حکومت نے تاحال ان قبضوں کی تصدیق نہیں کی ۔ادھر فن لینڈ نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ کابل کے سفارتخانے سے اپنا 130 رکنی عملے کو نکال رہا ہے۔دوسری جانب جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے کہا کہ جرمنی کابل میں موجود اپنے سفارتخانے کے سٹاف کو بہت محدود کر رہا ہے اور سفارتخانے کی سکیورٹی کو بڑھا رہا ہے۔

ادھر نیٹو سیکرٹری جنرل نے افغانستان میں نیٹو مشن جا ر ی رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے افغانستان میں جاری صورتحال تشویشناک ہے۔ افغانستان پر طالبان کے قبضے کو تسلیم نہیں کیاجائیگا۔ افغانستان میں جاری صورتحال کا جا ئز ہ لے رہے ہیں۔

نیٹو مشن افغا نستان میں افغان عوام کوتنہا نہیں چھوڑے گا۔ نیٹو افغان حکومت اورسکیورٹی فورسز کی حمایت جاری رکھے گا۔سیکریٹری جنرل نے مزید کہا طا لبا ن کوسمجھنا چاہیے ان کا اقتدار پرقبضہ عالمی قوتوں کو ناقابل قبول ہوگا۔ طالبان افغانستان میں پرتشدد کارروائیوں سے گریز کریں۔ طاقت سے حکومت پر قبضہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے ۔دوسری طرف امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے کہا ہے افغان طالبان دارالحکومت کابل کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور افغانستان میں زمینی صورتحال انتہائی تشویشنا ک ہے۔

پینٹاگون کے پریس سیکرٹری جان کربی نے پریس بریفنگ میں بتایا ہم یقینی طور پر طالبان کی تیزرفتاری سے جاری پیش رفت سے پریشان ہیں، دارا لحکو مت کابل میں اس وقت فوری خطرے کا کوئی ماحول نہیں ،تاہم انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ افغان افواج ،جس کی امریکہ حمایت جاری رکھے گا، لڑائی کا پانسہ پلٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ افغانوں کیلئے وقت ہے کہ وہ اپنی قیادت اور فوج کے اندراتحاد کا مظاہرہ کریں۔ یہاں کوئی بھی پیدا شدہ صورتحال اٹل نہیں ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے طا لبا ن کی پیش قدمی کو فوری ختم کرنے پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا کہ افغانستان قابو سے باہر نکل رہا ہے۔انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا طالبان اپنے زیر قبضہ علاقوں میں سخت پابندیاں نافذ کر رہے ہیں ۔

شہریوں پر براہ راست حملہ کرنا عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور جنگی جرم کے مترادف ہے۔انہوں نے طالبان عسکریت پسندوں سے حکومتی فورسزکیخلاف کارروائیاں بند کرنے اور افغانستان اور اس کے عوام کے مفاد میں نیک نیتی سے مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مطالبہ کیا ہے۔

افغانستان میں جاری لڑائی سے اب تک کم از کم 2لاکھ41ہزار لوگ اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، ہسپتالوں میں گنجائش باقی نہیں رہی۔خوراک اور طبی سامان کم ہو رہا ہے۔ سڑکیں ، پل ، سکول ، کلینک اور دیگر اہم انفراسٹرکچر تباہ ہو رہاہے۔ لڑائی سے ہونیوالے بھاری نقصان اور اس کے عام شہریوں پر پڑنے والا اثرات پر توجہ دیں۔

طالبان کابل 9کلومیٹر

طالبان کابل 9کلومیٹر

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں