51

چاڈ کے شورش زدہ علاقے میں بوکوحرام کا حملہ،26فوجی ہلاک

Spread the love

چاڈ شورش زدہ علاقے

نجامینا(صرف اردو آن لائن نیوز) جہادیوں کے مبینہ حملے میں چاڈ کے شورش زدہ لیک چاڈ علاقے میں گشت پر مامور 26فوجی مارے گئے۔

بوکو حرام اور مغربی افریقی صوبے کی داعش نامی انتہا پسند گروپ اس علاقے میں سرگرم ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق چاڈ کی فوج کے ترجمان جنرل اعظم برمانڈووا آگونا نے بتایا کہ انتہاپسندوں کے حملے میں چاڈ آرمی کے چھبیس جوان ہلاک ہو گئے،

چودہ دیگر زخمی ہوئے ۔ ان میں آٹھ کی حالت نازک ہے جبکہ فوجی کارروائی کے دوران متعدد دہشت گرد بھی مارے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ فوجی مہم ابھی جاری ہے۔فوج نے اس حملے کے لیے بوکو حرام کو مورد الزام ٹھہرایا لیکن اس خطے میں اس کا ایک حریف گروپ اسلامک اسٹیٹ ویسٹ افریقہ پرووینس (آئی ایس ڈبلیو اے پی)بھی کافی سرگرم ہے۔

بوکوحرام نے انتہا پسندانہ سرگرمیوں کا آغاز سن 2009 میں شمال مشرقی نائجیریا سے کیا تھا اور بڑے پیمانے پر طالبات کے اغوا کی وجہ سے سرخیوں میں آیا تھا۔ اس گروپ نے بعد میں اپنی سرگرمیوں کا دائرہ پڑوسی ملکوں تک وسیع کر دیا۔آئی ایس ڈبلیو اے پی خطے میں اپنا غلبہ قائم کرنے کے لیے بوکوحرام سے لڑتی رہی ہے۔ بوکو حرام کے رہنما ابوبکر شیخو کی مئی میں موت کے بعد ایک ویڈیو جاری کیا گیا تھا جس میں دکھایا گیا تھا کہ بوکوحرام کے ممبران اپنی وفاداری تبدیل کرکے آئی ایس ڈبلیو اے پی میں شامل ہو رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق بوکوحرام کی انتہاپسندی کے آغاز کے بعد سے گذشتہ بارہ برسو ں کے دوران تقریبا تیس ہزار افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ اس لڑائی کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا ہے۔چاڈ کے سابق صدر ادریس دیبی اٹنونے اپریل 2020 میں تقریبا ایک سو فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بوکو حرام کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا۔

اس فوجی کارروائی کے دوران بوکو حرام کے لگ بھگ ایک ہزار جنگجو مارے گئے تھے۔اس برس اپریل میں حکومت مخالف جنگجووں کے ساتھ لڑتے ہوئے ادریس دیبی کی موت ہو گئی، جس کے بعد ان کے بیٹے محمد دیبی ملک کے عبوری صدر بن گئے۔محمد دیبی نے جنگجووئوں کے حملے میں فوجیوں کی موت کے حالیہ واقعے کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

چاڈ شورش زدہ علاقے

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں