لابی یا کاروباری مفاد 39

افغانستان میں بدامنی کے الزامات پاکستان پر تھوپنا غیر منصفانہ ہے،عمران خان

Spread the love

افغانستان بدامنی الزامات

تاشقند(صرف اردو آن لائن نیوز ) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی، پاکستان پر الزام لگائے جانے پر شدید مایوسی ہوئی، انخلا سے پہلے طالبان کو مذاکرات کی دعوت دینی چاہیے تھی،

اب جب طالبان کو افغانستان میں فتح نظر آرہی ہے تو وہ ہماری بات کیوں سنیں گے ، مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان سے سب سے بڑا مسئلہ ہے۔تاشقند میں وسطی اور جنوبی ایشیا رابطہ ممالک کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے تو وزیراعظم عمران خان نے انہیں فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ افغان صورتحال کا پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرانا بہت ناانصافی ہے،

جب پاکستان پر الزامات لگائے جاتے ہیں تو مجھے اس پر بہت مایوسی ہوتی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے افغان امن عمل کے لیے سنجید ہ کوششیں کیں، افغانستان میں بدامنی کے لیے پاکستان پر الزامات لگانا غیر منصفانہ ہے،

گزشتہ 15 سال میں پاکستان نے70 ہزارافراد کی قربانی دی، افغانستان میں امن سب ہمسایہ ممالک کے مفاد میں ہے، افغانستان وسطی اور جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان پل ہے، افغانستان میں امن خطے میں امن کیلیے ضروری ہے،

خدشہ ہے افغانستان میں بدامنی سے مہاجرین کی ایک نئی لہر آئے گی۔عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے ہر ممکن کوشش کی، افغان امن عمل میں افغان طالبان کو مذاکرات

کی میز پر پاکستان ہی لے کر آیا، امریکا افغانستان میں فوجی حل کی کوشش کرتا رہا جو ممکن نہیں تھا، پاکستان نے روز اول سے کہا افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں مذاکرات ہے، اب طالبان امریکا کی بات کیوں مانیں گے جب افغانستان سے فوجیوں کا انخلا ہورہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب لاکھوں امریکی و نیٹو فوجی افغانستان میں موجود تھے اس وقت طالبان سے مذاکرات کرنے چاہیے تھے، اب جب انخلا کی تاریخ دے دی گئی اور چند ہزار امریکی فوجی رہ گئے ہیں تو اب طالبان کیوں سمجھوتہ کریں گے،

وہ ہماری بات کیوں سنیں گے جب انہیں فتح دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ازبکستان، تاجکستان اور پاکستان کے لیے مل کر بیٹھنے اور افغانستان کے پرامن حل اور سیاسی تصفیے میں مدد کا وقت ہے۔

یہ ہمارے مفاد میں ہے۔عمران خان نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اوربھارت کے درمیان سب سے بڑا مسئلہ ہے، مسئلہ کشمیر کے حل سے پورے خطے میں رابطے کھل جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گوادر پورٹ پر معاشی سرگرمیاں مارچ 2019 سے شروع ہوئیں، یہ منصوبہ بی آر آئی کا فلیگ شپ منصوبہ ہے، اور پورا خطہ اس سے مستفید ہوگا، جس کے لئے خطے میں امن و سلامتی سب سے اہم ہے

افغانستان بدامنی الزامات

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں