کورونا کیسز دوبارہ بڑھنے 30

کورونا کیسز میں اضافہ , سندھ حکومت نے تفریحی مقامات اور اسکولز بند کردیئے

Spread the love

کورونا کیسز میں اضافہ

کراچی (صرف اردو آن لائن نیوز) وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبہ بالخصوص کراچی شہر میں کورونا وائرس کی بڑھتی ہوئی شرح کو مدنظر رکھتے ہوئے تفریحی مقامات، انڈور ڈائننگ اور کھیلوں کی سرگرمیاں اور کلاس ایک سے نو یں جماعت تک کے اسکولوں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے

اور اگر ایس او پیز پر صحیح طریقے سے عملدرآمد نہیں کیا گیا تو مزید سخت اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ انہوں نے یہ فیصلے بدھ کے روز وزیراعلی ہائوس میں کورونا وائرس سے متعلق صوبائی ٹاسک فورس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں صوبائی وزرا ناصر شاہ ، اکرام اللہ دھاریجو ، مشیر قانون مرتضی وہاب ، پارلیمانی سیکرٹری صحت قاسم سراج سومرو ، چیف سیکرٹری ممتاز شاہ ، آئی جی پولیس مشتاق مہر ، وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹر ساجد جمال ابڑو ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہوم قاضی شاہد پرویز ، کمشنر کراچی نوید شیخ ، سیکرٹری خزانہ حسن نقوی ، سیکرٹری اسکول ایجوکیشن احمد بخش ناریجو ، سیکرٹری صحت کاظم جتوئی ، وی سی ڈا یونیورسٹی پروفیسر سعید قریشی ، ڈاکٹر قیصر ، ڈبلیو ایچ او کے ڈاکٹر سارہ ، کور -5 اور رینجرز کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔

وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ صوبہ میں COVID-19 کا مجموعی طور پر تشخیصی شرح 7.4 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور کراچی میں 13 جولائی کو اس کی شرح 17.11 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

اس موقع پر وزیر اعلی سندھ نے بتایا کہ 7 جولائی کو شہر کی تشخیصی شرح 11 جولائی کو 11.98 فیصد تھی اور سات دنوں میں یہ شرح 17.11 فیصد پر پہنچ گئی۔ انھوں نے مزید کہاکہ صورتحال بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور اگر ضروری اقدامات نہیں کئے گئے تو صورتحال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔

سکریٹری صحت کاظم جتوئی نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ صوبہ میں 12 جولائی 2021 تک چھ قسم کے کورونا وائرس کے 365 کیسز کا پتہ چلا ہے ان میں یوکے وائرس کے 95 ، جنوبی افریقہ کے 162 ، برازیل کے 29 ، انڈیا کے 66 ،P-1(501Y.V.3) کے تین اور ایک وائلڈ ٹائپ کا شامل ہے۔

اس طرف اشارہ کیا گیا کہ جولائی میں COVID-19 کے 143 مریض فوت ہوچکے ہیں ان میں سے 98 یعنی 69 فیصد وینٹی لیٹرز پر تھے ، 29 یعنی 20 فیصد وینٹی لیٹرز پر نہیں تھے اور 16 یعنی 11 فیصد گھروں پر تھے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ یکم مارچ 2020 کو سندھ میں شروع ہونے والی پہلی لہر میں 3038 رکارڈ کیسز کی تشخیص ہوئی تھی ،

دوسری لہر کے دوران زیادہ سے زیادہ تعداد 1983 تھی ، تیسری لہر میں تعداد 2076 تھی اور جاری چوتھی لہر میں اب تک 1210 کیسز کی تشخیص ہوچکی ہے۔

وائرس کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے انڈور ڈائننگ ، اسکولز کلاس ایک سے لے کر نویں جماعت تک ، تمام تفریحی مقامات بشمول واٹر پارکس ، سی ویو، ہاکس بے ، کینجھر ، سوئمنگ پولز، سنیماز اور انڈور جمز پیر سے بند کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے

تاہم وہ اسکولز جہاں پر امتحانات ہورہے ہیں وہ اپنے معمول کے مطابق کام کرتے رہیں گے۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ آئندہ پیر کو وہ دوبارہ صورتحال کا جائزہ لیں گے اور اگر ایس او پیز پر صحیح طریقے سے عملدرآمد نہیں کیا گیا تو مزید سخت اقدامات اٹھائیں جاسکتے ہیں ۔

وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ اب تک کورونا ویکسین کی 5870997 خوراکیں موصول ہوچکی ہیں ان میں سے 4465908 خوراکیں استعمال ہوچکی ہیں۔ مراد علی شاہ نے محکمہ صحت پر زور دیا کہ وہ ویکسی نیشن مہم کو تیز کریں۔

کورونا کیسز میں اضافہ

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں