66

سپریم کورٹ کا 31سال سے عارضی کلرک کو فوری مستقل کرنے کا حکم

Spread the love

عارضی کلرک فوری مستقل

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن) سپریم کورٹ نے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب میں 31 سال سے عارضی بنیادوں پر ملازمت کرنے والے سید بخت بیدار شاہ کو کلرک کی پوسٹ پر فوری مستقل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

ملازمت کی مستقلی سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت چیف جسٹس آف پاکستان نے ایڈوکیٹ جنرل پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ اے جی صاحب 31 سال تک درخواست گزار کومستقل کئے بغیر کیسے رکھا گیا؟

چیف منسٹرز کہتے رہے اور آپ انہیں ایکسٹینشن دیتے رہے؟جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا 31 سال سے ملازمت میں کبھی 6 ماہ تو کھبی سال کی ایکسٹینشن دی جاتی رہی۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ پوسٹ ایڈورٹائزمنٹ ہوئی تو ٹائپنگ ٹیسٹ میں شامل ہونے کا کہا لیکن نہیں ہوئے،

جس پر جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ ٹائپنگ اسپیڈ 25 درکار تھی اور تشکیل کردہ کمیٹی نے ٹیسٹ لیا تو 29 تھی۔وکیل درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ متعلقہ پوسٹ کیلئے تعلیم میٹرک درکار تھی جبکہ میں بی اے پاس ہوں۔

عدالت عظمیٰ نے اس موقع پر محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب میں 31 سال سے عارضی بنیادوں پر ملازمت کرنے والے سید بخت بیدار شاہ کو کلرک کی پوسٹ پر فوری مستقل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئیمعاملہ نمٹا دیا ہے۔

قبل ازیں ہائیکورٹ نے درخواست گزار کی ملازمت مستقلی مسترد کی تھی۔

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں