92

میرا قصور

Spread the love

جب میں پہلی بار وجود میں آئی تو مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں تھی۔ نہ کھانے کی ضرورت تھی نہ پینے کی اور نہ کپڑوں کی، نہ میں کسی کو جانتی تھی، نہ کوئی مجھے جانتا تھا۔ میں ایک ایسے سمندرمیں رہ  رہی تھی جہاں تنہائی ہی تنہائی تھی، میں وہاں خوش تھی۔ دن گذرتے گئے میں بڑی ہوتی گئی۔ ایک دن ایسا آیا کہ سمندر میں میرا وقت پورا ہوگیا اور مجھے سمندر سے نکلنا پڑا۔  پہلی بار سمندر سے باہر کی دُنیا میں قدم رکھا تو مجھے ایک خوفناک شور سنائی دیا۔ میں نے پہلی بار لوگوں کو دیکھا لوگ کپڑے پہنے ہوئے تھے، اور میں ننگی تھی لوگ مجھے دیکھ کر ہنس رہے تھے۔ میں ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا تھی۔ میں سمند ر سے نکل کر ایک کمرے میں بند ہوگئی۔ جب پہلی بار سمندرسے میں نے سر نکالا تو اُس وقت میرا سر بہت نازک تھا۔ توایک عورت نے میرا سر پکڑ لیا مجھے ایسا لگا کہ میرا سر بدن سے جدا ہوگیا۔ یہ میری برداشت سے باہر تھا۔ میں ایک چیخ مار کر رونے لگی کہ مجھے یہ دُنیا  نہیں چاہیئے، وہی سمندر میرے لیے اچھا ہے جہاں تنہائی ہے۔ جہاں امن ہے۔ جہاں کوئی چیخ وپکار نہیں۔ مگر میں کچھ نہیں کرسکتی تھی۔ کیونکہ سمندر میں میرا وقت پورا ہوگیا تھا۔ اس لئے مجھے وہاں سے نکلنا پڑا، بوڑھی عورت میرا سر پکڑ کر کھینچ رہی تھی اور میں رو رہی تھی۔ آہستہ آہستہ اُس نے مجھے سمندر سے نکال دیا۔

  ایک عورت نے قینچی اُٹھا کر میری ناف کاٹ دی۔ دوسرے عورت مجھے غور سے دیکھ رہی تھی۔ اور ہنس کر بولی۔ ارے یہ تولڑکی ہے۔ مجھے ایک ماں اور ایک باپ بھی نصیب ہوگئے۔ میرے والدین میرے پیدائش سے ناخوش تھے۔ کیونکہ وہ لوگ ایک بیٹے کے انتظار میں تھے۔ مگر اُنھیں میں ملی اور میں ایک لڑکی تھی۔ میرا نام شاکرہ رکھ دیا گیا مگر میرے والدین مجھ سے محبت نہیں کرتے تھے، نہ ہی وہ میری خیال رکھتے، نہ میرے لئے اچھی چیزیں خریدتے تھے، میں معاشرے کے رحم وکرم پہ پھلتی پُھولتی رہی۔  

پانچ سال کے بعد اللہ تعالیٰ  نے میرے والدین کو ایک بیٹا تحفے میں دیا۔ وہ بیٹے کو دیکھ کر بہت خوش ہوگئے۔ جو میرا بھائی کہلانے لگا۔ وہ میرے بھائی سے محبت میں اتنے محو تھے کہ مجھے بالکل بھول گئے۔ میں ہروقت رویا کرتی تھی۔ وہ میری چیخ وپکار کی طرف بالکل توجہ نہیں دیتے۔ اور وہ مجھے بہت مارتے پیٹتے تھے۔ جب میں سات برس کی ہوئی تو میرے والد نے مجھے ایک ہاسٹل میں داخل کروادیا۔ یہ ہاسٹل لاوارث بچوں کیلئے بنایا گیا تھا۔ اور آج میں بھی لاوارث ہو گئی۔

 میں چلا چلا کر رو رو کر اپنے والد کو پکار رہی تھی۔ ابا جان میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں۔ مجھے یہاں مت چھوڑیں۔ میں تمھارے ساتھ آنا چاہتی ہوں۔ کیونکہ میں تمھارا خون ہوں۔ نہ مجھے اچھے کپڑے، نہ اچھے جوتے، نہ مجھے کھلونے چاہئیں اور نہ ٹافیاں۔ بس اباجان مجھے صرف تمھارا پیار چاہئیے۔ مجھ یہاں نہ چھوڑیں کیونکہ تمھارے بنا میں یہاں نہیں رہ سکتی۔ مجھے تمھاری ضروت ہے۔ کیونکہ میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ اور میں تمھارا ہی بیٹی ہوں۔ پاپا کیوں سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔ کیوں میری باتیں نہیں سنتے تم کیوں مجھ میں دلچسپی نہیں لیتے۔ کیوں تم مجھے اکیلے چھوڑ کر جارہے ہو۔ آخر کار میرا گناہ کیا ہے۔ 

مگر انہوں نے میری ایک نہ سنی اور مجھے چھوڑ کر چلے گئے۔ میں بہت رو رہی تھی۔ چیخ رہی تھی۔ مدد مانگ رہی تھی۔ مگر اُس وقت ہاسٹل میں کام کرنے والا ایک شخص میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے ایک کمرے میں  لے گیا۔ اور کہا  کہ یہ تمھاری جگہ ہے اور وہ باہر نکل گیا۔ میری مدد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ دن بیت گئے، میری والدین مجھے ملنے نہیں آئے، ہرماہ صرف میرے لئے پیسے بھیجتے۔ مگر وہ یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے کہ مجھے پیسوں کی نہیں بلکہ والدین کے پیارمحبت کی ضرورت ہے۔ مجھے ہروقت اُن یاد آتیں ہے۔ 

پورے تیرہ (13) سال گذر گئے لیکن میری والدین مجھے ملنے نہ آئے۔ میں اُس وقت کا انتظار کر رہی ہوں، جس وقت میری والدین مجھ سے ملنے آئیں گے، اور میں اُن سے پوچھوں گی۔ کہ میرا قصور کیا تھا۔

کیا میرا قصور یہ تھا۔ کہ میں آپ کے گھر میں پیدا ہوگئی؟

کیا میرا قصور یہ تھا۔ کہ میں ایک لڑکی ہوں؟

کیا میرا قصور یہ تھا۔ کہ میں آپ لوگوں سے محبت کرنے لگی؟

کیا میرا قصور یہ تھا۔ کہ آپ سے کچھ مانگنے کی خواہش نہیں کرتی؟

کیا میرا قصور یہ تھا۔ کہ مجھے آپ لوگوں کی پیار ومحبت کی ضرورت تھی؟

کیا میرا قصور یہ تھا کہ میں آپ کے جائیداد کا وارث نہیں بن سکتی تھی؟ 

آخر کار وہ کون سی وجوہات تھیں کہ جن کی وجہ سے آپ لوگ مجھے لاوارث چھوڑ کر چلے گئے، اور آج تک مجھ سے نہیں ملے۔ اب میں بالغ ہوچکی ہوں۔ سوچ رہی ہوں کہ کب میری بارات آئے گی؟ کب مجھے ڈولی میں بٹھایا جائے گا؟ کب میرے والدین اپنی محبت کا ہاتھ میرے سر پر پھیر کر مجھے نیک دُعا دیں گے؟ کب میں اپنے نئے گھر چلی جاؤں گی۔ 

ابو! امّی! بیس سال سے میں آپ لوگوں کی منتظر ہوں۔ مہربانی کرکے ایک بار مجھے صرف یہ بتا دیں کہ میرا قصور کیا ہے۔ اور مجھے معاف کر کے اپنا ہاتھ میرے سر پر پھیر دیں۔ میں ساری زندگی آپ لوگوں کی خدمت کرتی رہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں