35

آمر جنرل ضیاء کی سربراہی میں بغاوت پاکستانی عوام پر سفاک حملہ تھا،بلاول

Spread the love

آمر جنرل ضیاء بغاوت

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زر داری نے کہا ہے کہ آمر جنرل ضیاء کی سربراہی میں فوجی بغاوت پاکستانی عوام کی جمہوری امنگوں پر سفاک حملہ تھا،پانچ جولائی کو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیا جائے گا۔

اپنے بیان میں پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سانحہ 5 جولائی 1977کے حوالے سے پیغام میں کہاکہ 5 جولائی کو پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ایک سیاہ ترین دن کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ آمر جنرل ضیاء کی سربراہی میں وہ فوجی بغاوت پاکستانی عوام کی جمہوری امنگوں پر سفاک حملہ تھا۔

انہوںنے کہاکہ اس بغاوت کے ذریعے وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی زیرِ قیادت جمہوری طور منتخب عوامی حکومت پر شبِ خون مارا گیا۔ انہوںنے کہاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے سقوط ڈھاکہ کے بعد ٹکروں میں بٹی ہوئی قوم کو متحد کیا۔ انہوںنے کہاکہ شہید بھٹو نے ان ٹکروں کو متحرک جمہوری نظام اور مضبوط معاشی ارادوں کے سائے تلے آپس میں جوڑ دیا تھا۔

انہوںنے کہاکہ جمہوری طور منتخب وزیر اعظم کی حیثیت سے شہید ذوالفقار علی بھٹو نے اتفاقِ رائے سے آئین کی منظوری کی سرپرستی کی۔ انہوںنے کہاکہ شہید بھٹو نے پاکستان کی میکرو اکانومی کی بنیادیں رکھیں، ہر پاکستانی کو شہریت اور پاسپورٹ کا حق دیا۔ انہوںنے کہاکہ قائد عوام نے ملک کو ایٹمی طاقت بننے کی راہ پر گامزن کیا،وزیر اعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ریاست کو جمہوری بنایا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ قائدِ عوام نے چند سلیکٹڈ افراد تک محدود اقتدار کو چھین کر عوام کو اختیارات منتقل کیئے اور انہیں بااختیار بنایا، 1977ء کا مارشل لاء پاکستان کی عوام پر بدترین حملہ تھا، جس کا خمیازہ آمر کی موت کو کئی دہائیاں گذرنے کے باوجود قوم تاحال بھگت رہی ہے۔

انہوںنے کہاکہ 5 جولائی 1977 کی بغاوت نے عدم رواداری، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے بیج بوئے اور ان کی آبیاری کی۔ انہوںنے کہا کہ ن کی جڑوں کو ہمارے معاشرے میں سرایت کرنے دیا، جو آج ہمارے لیئے باعثِ مصیبت بنی ہوئی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو نے امت مسلمہ کو متحد کیا اور اپنے دوراندیش سیاسی تدبر سے عالم اسلام کی قیادت کی۔

انہورںنے کہاکہ شہید بھٹو نے دو آمروں کا مقابلہ کیا، اور بڑی بہادری کے ساتھ عوام کے حقوق کے لئے جنگ لڑی،قائدِ عوام نے تختہ دار تو قبول کر لیا، لیکن پیچھے ہٹنا گوارا نہ کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آمریت کے خلاف بھرپور اور دلیرانہ جدوجہد کی،شہید ذوالفقار علی بھٹو کے حامیوں اور پیروکاروں کو بھی کوڑے، قیدِ تنہائی اور پھانسی سمیت ہر قسم کے غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہاکہ جمہوری اور آمریت پسند قوتوں کے درمیان جنگ آج بھی جاری ہے،شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ اقتدار عوام کو دے دیا جائے، ورنہ سب کچھ ختم ہو جائے گا۔

انہوںنے کہاکہ یہ الفاظ آج کے لیئے بھی درست ہیں کیونکہ ہم آج بھی پاکستان کی جمہوری بقا کے لئے لڑ رہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو آج بھی زندہ ہے،

جبکہ انہیں ازیتیں دینے والے تاریخ کی ملامت جھیلنے کے لیئے کوڑے دان میں پڑے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک و قوم کے حقوق پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے اپنی جان نچھاور کرنے کو ترجیح دی۔

آمر جنرل ضیاء بغاوت

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں