48

ایک وڈیو کے بعد چیئرمین نیب کہیں کے نہیں رہے، بلیک میل ہورہے ہیں ،سعید غنی

Spread the love

وڈیو بعد چیئرمین نیب

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) صوبائی وزیر سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ایک وڈیو کے بعد چیئرمین نیب کہیں کے نہیں رہے، بلیک میل ہورہے ہیں ،حلیم عادل شیخ کے خلاف بات کی تو پریس ریلیز آگئی ،

میرے بیان کے بعد اب میرے خلاف تحقیقات کا کہا گیا ہے، حلیم عادل شیخ کے پاس کون کی گدڑ سنگھی ہے؟ ،نیب خود حکومت کے ہاتھوں بلیک میل ہوکر ہر کیس پر اثر انداز ہو رہا ہے،نیب مجھے گرفتار کرے میں ضمانت نہیں کرائوں گا، پیر کو نیب دفتر جائوں گا، پیپلزپارٹی نے ماضی میں نہ انتقامی کارروائیاں کی نہ آئندہ کریگی ۔

صوبائی وزیر تعلیم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ ناصر شاہ اور میں نے پریس کانفرنس کی، پریس کانفرنس میں حلیم عادل شیخ کے خلاف دیگر اپوزیشن رہنمائوںکی طرح کارروائی کا مطالبہ کیا،

چیئرمین نیب ایک وڈیو کی بنیاد پر بلیک میل ہو رہے ہیں ،اس وڈیو کے بعد چیئرمین نیب کہیں کے نہیں رہے، چیئرمین نیب سے متعلق بات کرنے پر نیب نے اس طرح نہیں دھمکایا،حلیم عادل شیخ کے خلاف بات کی تو پریس ریلیز آگئی اور میری بیان کی مذمت کی گئی،میں نے بات کی تو میرے خلاف کارروائی کا کہا گیا،نیب خود حکومت کے ہاتھوں بلیک میل ہوکر ہر کیس پر اثر انداز ہو رہا ہے۔

انہوںنے کہاکہ میرے بیان کے بعد اب میرے خلاف تحقیقات کا کہا گیا ہے، حلیم عادل شیخ کے پاس کون کی گدڑ سنگھی ہے؟ جو مطالبہ کر رہا ہے کہ حلیم عادل شیخ کو گرفتار کرو اسی کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوںنے سوال اٹھایاکہ چیئرمین نیب کی وڈیو کہیں حلیم عادل شیخ کے پاس تو نہیں ہے؟حلیم عادل شیخ کا نام ای سی ایل میں کیوں نہیں ڈال رہے؟

مجھے دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ نیب مجھے گرفتار کرے میں ضمانت نہیں کرائوں گا، میں دو تین جوڑے لیکر نیب کے دفتر چلا جائوں گا۔ انہوںنے کہاکہ ملک میں گندم کا سب سے بڑا اسکینڈل ہوا، نیب اس گندم اسکینڈل پر کیوں خاموش ہے؟علی ظفر شوگر ملز کا وکیل رہا ہے، علی ظفر کو گندم اسکینڈل پر فیصلے کا کہا گیا ہے۔

انہوںنے کہاکہ سیکشن اکتیس نیب کے اپنے لوگوں پر لاگو ہوتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ میرے خلاف نیب کراچی میں کوئی تحقیقات ہو رہے ہیں پہلے ذکر نہیں کیا مگر اب نئی تحقیقات شروع کر دی ۔ انہوںنے کہاکہ پیپلزپارٹی نے ماضی میں نہ انتقامی کارروائیاں کی نہ آئندہ کریگی ۔

انہوںنے کہاکہ نیب کے لاڈلوں کے خلاف بات کرنے پر یہ کارروائیاں ہوتی ہیں ،چیئرمین نیب خود مستعفی ہو جائے اور لوگوں کی بدعائیں نہ لیں ۔انہوںنے کہاکہ میں اگر پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے کی تحقیقات کرنے کی بات کرتا ہوں تو میرے خلاف تحقیقات کرنے کا کہ دیا جاتا ہے،

نیب اس حکومت کا سیاسی ہتھکنڈے کا ہتھیار ہے۔ انہوںنے کہاکہ میں نے آج تک یونس میمن یا یونس قدوائی کو دیکھا نہ ان سے ملا،میرے پاس چار برسوں میں سات وزارتیں رہیں، ان میں ان کی مداخلت یا کام صفر ہے۔

وڈیو بعد چیئرمین نیب

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں