اسرائیل کا مقبوضہ بستی 45

اسرائیل کا مقبوضہ بستی پر فوجی اڈہ تعمیر کرنے کا منصوبہ

Spread the love

اسرائیل کا مقبوضہ بستی

تل ابیب(صرف اردو آن لائن نیوز) ایک مقتول اسرائیلی کے نام پر آباد کی جانے والی ایویٹر نامی بستی کو اب خالی کرا لیا جائے گا۔

اسرائیلی وزارت دفاع نے اس علاقے کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے اور وہ وہاں ایک فوجی اڈہ تعمیر کرے گی۔میڈیارپورٹس کے مطابق بین الاقوامی اور اسرائیلی قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایویٹر نامی بستی میں گزشتہ کئی ہفتوں سے درجنوں کنبوں نے مکانات تعمیر کرنے شروع کر دیے تھے۔

اسرائیلی حکومت نے بتایا کہ مغربی کنارے میں واقع اس علاقے کو خالی کرنے کے سلسلے میں یہودی آبادکاروں کے ساتھ معاہدہ ہوگیا ہے۔ مقبوضہ علاقے میں مکانوں کی تعمیر شروع ہونے کے بعد قریب واقع فلسطینی گاوں میں زبردست مظاہرے ہوئے تھے۔

یہ مظاہرے دائیں بازو کے رہنما نیفتالی بینیٹ کی قیادت میں حال ہی میں قائم ہونے والی نئی اتحادی حکومت کے لیے پہلا امتحان تھا۔ماضی میں یہودیوں کی بازآبادکاری کی لابنگ کرنے والے گروپ کے اہم قائد کا رول ادا کرنے والے بینیٹ نے معاہدے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ ایویٹر کے رہائشی جمعے کے روز شام چار بجے تک علاقے کو خالی کردیں گے۔

بینیٹ کی طرف سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہودی آباد کاروں نے جو مکانات تعمیر کرلی تھیں وہ اور وہاں تعمیر کردہ سڑکیں برقرار رہیں گی اور فوج ان کا استعمال کرے گی۔

فوج اس علاقے کو اپنے ایک اڈے میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔اسرائیل کی وزارت دفاع بعد میں اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا یہاں کسی کو مکان تعمیر کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

اس سے یہاں بعض خاندانوں کے واپس لوٹنے کا امکان موجود ہے۔بینیٹ کی یمینا پارٹی کے رکن اور اسرائیل کے وزیر داخلہ آیلت شاکید نے یہودی باز آبادکاروں کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو ایک اہم حصولیابی قرار دیا۔فلسطینیوں نے اس معاہدے کو مسترد کر دیا ہے اور ایویٹر کے قریب واقع بیئتا گاوں میں رہنے والے فلسطینیوں نے اس معاہدے کے خلاف جد و جہد جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔

بیئتا کے ڈپٹی میئر موسی حمائل نے کہاکہ یہ معاہدہ بازآبادکاروں اور فوج کے درمیان ہوا ہے اور ہمیں اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

اسرائیل کا مقبوضہ بستی

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں