ذہنی معذور بچی زیادتی 51

امریکا، سزائے موت پر عارضی پابندی کے احکامات جاری

Spread the love

سزائے موت عارضی پابندی

واشنگٹن (صرف اردو آن لائن نیوز) امریکی اٹارنی جنرل نے سزائے موت پر عمل درآمد پر عارضی طور پر روک لگانے کے احکامات جاری کردیئے ،

یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی سابقہ پالیسیوں کے بالکل برعکس ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے وفاقی سطح پر سزائے موت پر عمل درآمد کرنے کے لیے وقت مقرر کرنے پر عارضی طور پر روک لگانے کا حکم دیا ۔

اٹارنی جنرل گارلینڈ نے محکمہ انصاف کو سزائے موت کے عمل کا از سرنو جائزہ لینے کا حکم دیا ۔ انہوں نے سینیئر حکام سے اپنے ایک خط میں کہا کہ وہ سیاہ فام لوگوں پر پڑنے والے اس کے مختلف النوع اثرات سے پریشان ہیں۔ گارلینڈ نے اس امر کی جانب بھی توجہ دلائی کہ جن افراد کو سزائے موت سنائی جاتی ہے اس میں سے ایک بڑی تعداد کو بری بھی کر دیا جاتا ہے۔

اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے ایک بیان میں کہاکہ محکمہ انصاف کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ وفاقی کریمنل جسٹس سسٹم کے تحت بھی ہر شخص کو وہ تمام حقوق ملنے چاہیں جس کی امریکی آئین اور قوانین میں ضمانت دی گئی ہے اور سبھی کے ساتھ منصفانہ اور انسانی سلوک بھی ہو نا چاہیے۔

سزائے موت کے کیسز میں یہ ذمہ داری خاص طور پر بڑھ جاتی ہے۔اس حکم کی روشنی میں جب تک جائزے کا یہ عمل مکمل نہیں ہو جاتا اس وقت وفاقی سطح پر کسی بھی موت کی سزا پر عمل نہیں کیا جائے گا۔وفاقی سطح پر موت کی سزا پر عمل کو روکنے کا یہ فیصلہ سابقہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے بالکل برعکس ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں وفاقی سطح پر موت کی سزاں پر تیزی سے عمل ہوا اور سابق اٹارنی جنرل ولیئم بار کی سرپرستی میں جنوری 2020 سے جنوری 2021 کے دوران 13 افراد کو موت کی سزا دی گئی۔ گزشتہ 120 برس کی امریکی تاریخ میں کسی بھی دور صدارت میں اتنی بڑی تعداد میں سزائے موت کا یہ ایک نیا ریکارڈ ہے۔

ولیئم بار نے وفاقی سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے پینٹو بار بیٹل نامی ایک دوا کے استعمال کی سفارش کی تھی۔ تاہم اس کے ناقدین کا کہنا تھا کہ اس دوا کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور جسے دوا دی گئی ہو اسے لگتا ہے کہ جیسے وہ آہستہ آہستہ ڈوب رہا ہو اور اس سے اس کی تکلیف میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

صدر جو بائیڈن نے اپنی انتخابی مہم کے دوران موت کی سزا کو ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور موت کی سزا کے خلاف مہم چلانے والی تنظیمیں اب ان سے اپنا وعدہ پورا کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

ان تمام کوششوں کے باوجود بائیڈن انتظامیہ نے 2013 میں بوسٹن میں ہونے والی میراتھن میں دھماکہ کرنے والے والوں میں سے ایک شخص کی موت کی سزا پر عمل در آمد کرنے کے لیے محکمہ انصاف پر دبا تک ڈالنے کی کوشش کی ہے۔

سزائے موت عارضی پابندی

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں