57

ملتان سلطان پی ایس ایل 2021 کی چیمپین، زلمی کو فائنل میں شکست

Spread the love

ملتان سلطان چیمپین

ابوظبی (صرف اردو آن لائن نیوز) پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کے چھٹے ایڈیشن کے فائنل میں

ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو 47 رنز سے شکست دے کر پہلی مرتبہ لیگ کی چیمپیئن بننے کا

اعزاز حاصل کر لیا۔ فائنل میچ میں پشاور زلمی نے ٹاس جیت کر ملتان سلطانز کو بیٹنگ کی دعوت

دی تھی۔ملتان سلطانز کے تجربہ کار اوپنر اور سابق کپتان شان مسعود نے پہلے اوور میں کوئی رن

نہیں بنایا تاہم دوسرے اوور میں محمد رضوان نے چوکا لگا کر اسکور کو تھوڑا آگے بڑھایا۔دونوں

اوپنرز نے ساتویں اوور میں ٹیم کی نصف سنچری مکمل کی اور اسکور کو 68 تک پہنچا دیا۔زلمی کو

اگلے اوور میں صہیب مقصود کی اہم وکٹ لینے کا موقع ملا لیکن ایکسٹرا کور میں کھڑے حضرت

اللہ زازئی آسان کیچ نہ لے سکے۔تاہم دو گیند بعد ہی محمد رضوان وکٹوں کے عقب میں کامران اکمل

کو کیچ دے بیٹھے، انہوں نے 30 گیندوں پر 30 رنز بنائے۔اوپنرز کے آؤٹ ہونے کے بعد سلطانز کے

صہیب مقصود اور رائلی روسو نے جارحانہ بیٹنگ کی اور تیزی سے اسکور بڑھانا شروع کیا اور

صرف 22 گیندوں پر نصف سنچری شراکت مکمل کی۔صہیب مقصود نے شاندار فارم برقرار رکھتے

ہوئے 27 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی جبکہ دوسرے اینڈ سے روسو نے ان کا بھرپور ساتھ

نبھاتے ہوئے صرف 20 گیندوں پر ففٹی مکمل کی۔98 رنز کی اس شراکت کا خاتمہ اننگز کے 19ویں

اوور میں اس وقت ہوا جب ریورس سوئپ کھیلنے کی کوشش میں رائلی روسو شارٹ تھرڈ مین پر

کھڑے عرفان کو کیچ دے بیٹھے۔ثمین گل نے بہترین باؤلنگ کرتے ہوئے اگلی ہی گیند پر جانسن

چارلس کو بھی چلتا کردیا۔اننگز کے آخری اوور میں سلطانز نے خوشدل شاہ کے دو چھکوں کی

بدولت 21 رنز بنائے اور مقررہ اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 206 رنز بنائے ہیں۔یہ پاکستان

سپر لیگ کی تاریخ میں فائنل میں کسی بھی ٹیم کی جانب سے اب تک دیا گیا سب سے بڑا ہدف ہے۔

207 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پشاور زلمی کے اوپنرز خصوصاً کامران اکمل نے پراعتماد انداز

میں اننگز کا آغاز کیا اور ابتدائی پانچ اوورز میں تمام 36 رنز کامران اکمل کے بلے سے بنے۔

میچ کے چھٹے اوور میں زازئی نے بلیسنگ مزربانی کو چھکا لگا کر کھاتا کھولا لیکن اگلی ہی گیند

پر پوائنٹ پر کیچ دے بیٹھے۔اگلے ہی اوور کی پہلی گیند پر عمران خان نے کامران اکمل کی وکٹیں

بکھیر کر اپنی ٹیم کو دوسری کامیابی دلائی اور وکٹ میڈن کرا کر حریف ٹیم پر دباؤ مزید بڑھا دیا۔

شعیب ملک اور جوناتھن ویلز کی جوڑی بھی رنز کے حصول کے لیے جدوجہد کرتی رہی اور دونوں

کو درکار رن ریٹ کے مطابق تیزی سے کھیلنے میں مشکلات کا سامنا رہا۔10ویں اوور میں دو رن

لینے کی کوشش میں ناکامی پر آسٹریلیا سے آئے ویلز کو اپنی وکٹ گنوانی پڑی اور زلمی کو تیسرا

نقصان اٹھانا پڑا۔سلطانز کو جلد ہی شعیب ملک کی قیمتی وکٹ بھی مل گئی جب وہ وکٹوں کے عقب

میں کیچ ہو گئے لیکن تھرڈ امپائر نے عمران خان کا باؤلر کا پیر کریز سے باہر جانے پر نوبال قرار

دے دی۔شعیب ملک نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور روومین پاول کے ساتھ مل کر چوتھی

وکٹ کے لیے 66 رنز کی شراکت قائم کی۔15ویں اوور میں بلیسنگ مزربانی نے اپنی ٹیم کو ایک اور

اہم کامیابی دلاتے ہوئے پاول کو چلتا کردیا جنہوں نے 23 رنز بنائے، ویسٹ انڈین بلے باز نے فیصلے

کے خلاف ریویو لیا لیکن یہ کوشش بھی انہیں بچا نہ سکی۔اگلے ہی اوور میں زلمی کو بڑا دھچکا اس

وقت لگا جب شعیب ملک 48 رنز بنانے کے بعد سہیل تنویر کو وکٹ دے بیٹھے۔شرفین ردرفورڈ نے

دو چھکے لگا کر خطرناک عزائم ظاہر کرنے کی کوشش کی لیکن عمران طاہر نے ردرفورڈ سمیت

ایک ہی اوور میں تین وکٹیں لے کر اپنی ٹیم کو فتح کی دہلیز پر پہنچا دیا.انہوں نے ویسٹ انڈین بلے

باز کے بعد وہاب ریاض اور محمد عمران کو بھی ایک ہی اوور میں چلتا کر کے سلطانز کی فتح یقینی

بنا دی.عمران خان نے بھی بہتی گنگا ہاتھ دھوتے ہوئے عماد بٹ کو آؤٹ کر کے اپنی ٹیم کو نویں

کامیابی دلا دی.اور اس طرح ملتان سلطانز نے پشاور زلمی کو 47 رنز سے شکست دے کر پہلی

مرتبہ لیگ کی چیمپیئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

ملتان سلطان چیمپین

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں