67

غربت کا مزہ

Spread the love

ایک گاوں میں غریب نائی رہتا تھا جو ایک درخت کے نیچے کرسی لگا کے لوگوں کی حجامت کرتا۔ مشکل سے گزر بسر ہوتی. اس کے پاس رہنے کو نہ گھر تھا نہ بیوی تھی نہ بچے تھے۔ ایک چادر اور ایک تکیہ اس کی ملکیت تھی۔ جب رات ہوتی تو وہ ایک بند اسکول کے باہر چادر بچھاتا، تکیہ رکھتا اور سو جاتا.

ایک دن صبح کے وقت گاوں میں سیلاب آ گیا. اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف شور و غل تھا۔ وہ اٹھا اور سکول کے ساتھ بنی ٹینکی پر چڑھ گیا. چادر بچھائی، دیوار کے ساتھ تکیہ لگایا اور لیٹ کر لوگوں کو دیکھنے لگا۔

لوگ اپنا سامان، گھر کی قیمتی اشیا لے کر بھاگ رہے تھے. کوئی نقدی لے کر بھاگ رہا ہے، کوئی زیور کوئی بکریاں تو کوئی کچھ قیمتی اشیاء لے کر بھاگ رہا ہے۔ اسی دوران ایک شخص بھاگتا آ رہا تھا اس نے سونے کے زیور پیسے اور کپڑے اٹھا رکھے تھے۔ جب وہ اس نائی کے پاس سے گزرا تو اسے سکون سے لیٹے ہوئے دیکھا تو رک کر بولا۔
“اوئے ہماری ہر چیز اجڑ گئی ہے، جان پر بنی ہوئی ہے اور تم اوپر سکون سے بیٹھے تماشا دیکھ رہے ہو”

یہ سن کر نائی ہنس کر بولا:
“ٹھاکر جی، آج ہی تو غربت کا مزہ آیا ہے”

جب میں نے یہ کہانی سنی تو ہنس پڑی۔ مگر پھر ایک خیال سا آیا۔ میں روز محشر والے دن کا سوچنے لگی کہ روزِمحشر کا منظر بھی کچھ ایسا ہی ہوگا۔ جب تمام انسانوں کا حساب قائم ہو گا۔ ایک طرف غریبوں کا حساب ہو رہا ہو گا۔ دو وقت کی روٹی، کپڑا، حقوق اللہ اور حقوق العباد۔
ایک طرف امیروں کا حساب ہو رہا ہو گا۔ پلازے، دوکانیں، فیکٹریاں، گاڑیاں، بنگلے، سونا چاندی، ملازم، پیسہ، حلال و حرام، عیش و آرام، زکواۃ، حقوق اللہ، حقوق العباد.
اتنی چیزوں کا حساب کتاب دیتے ہوئے پسینے سے شرابور اور خوف سے تھر تھر کانپ رہے ہوں گے۔
دوسری طرف غریب کھڑے ان کو دیکھ رہے ہوں گے چہرے پر ایک عجیب سا سکون اور شاید دل ہی دل میں کہہ رہے ہوں گے.
“آج ہی تو غربت کا مزہ آیا ہے”

اپنا تبصرہ بھیجیں