این آراو کرپشن 45

شفاف انتخابات کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال آخری حل،عمران خان

Spread the love

ووٹنگ مشینوں کا استعمال

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن نیوز) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ انتخابی عمل میں دھاندلی

روکنے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال واحد آپشن ہے،

اوورسیز پاکستانیز ملک کا اثاثہ ہیں ان کو انتخابی عمل میں لازما شریک بنائیں گے، انتخابی

اصلاحات، الیکٹرانک ووٹنگ اور اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔

جمعرات کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں ملک میں انتخابی عمل میں

الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر بریفنگ دی گئی ۔ بریفنگ میں وزیرِ برائے سائنس اینڈ

ٹیکنالوجی شبلی فراز، سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم، وزیر برائے ریلویز اعظم خان

سواتی، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب اور مشیر وزیر اعظم بابر اعوان شریک

تھے۔ وزیرِ اعظم کو انتخابی اصلاحات کے ضمن میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال اور قانون

سازی کے حوالے سے اب تک ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیر اعظم عمران

خان نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے انتخابی عمل میں استعمال میں شفافیت اور تمام آئینی تقاضوں کو

پورا کرنیکی ہدایت دیتے ہوئے اپنے عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ حکومت ملک کے انتخابی عمل میں

شفافیت یقینی بنانے کے حوالے سے پر عزم ہے۔ انہوں نے کہا انتخابی عمل میں دھاندلی روکنے

اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال واحد آپشن ہے، اوورسیز

پاکستانیز ملک کا اثاثہ ہیں ان کو انتخابی عمل میں لازماً شریک بنائیں گے،انتخابی اصلاحات،

الیکٹرانک ووٹنگ اور اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔وزیر اعظم

عمران خان نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک کا اثاثہ ہیں ان کو انتخابی عمل میں لازما شریک

بنائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پانی کی کمی اور خصوصا لاہور جیسے بڑے شہروں میں

ویسٹ واٹر ٹریٹمینٹ پلانٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کی کمی کو پورا کرنے اور

واٹر ٹریٹمینٹ پلانٹس کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، واٹر ٹریٹمینٹ اور ویسٹ واٹر

ڈسپوزل کے ضمن میں ایک مربوط اور جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔ جمعرات کو وزیرِ اعظم

عمران خان کی زیر صدارت راوی اربن سٹی اور سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کی پیش رفت کے

حوالے سے اجلاس ہوا جس میں وزیر خزانہ شوکت ترین، معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل،

چیئرمین نیا پاکستان ہاؤسنگ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل(ر) انور علی حیدر, سی ای او راوی اربن

ڈویلپمنٹ اتھارٹی عمران امین، وائس چیئرمین ایل ڈی اے ایس ایم عمران اور سینیر افسران شریک

تھے۔ اجلاس میں ان دونوں کلیدی منصوبوں میں ہونے والی پیش رفت پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ سیفائر-بے میں ترقیاتی کام اگلے ہفتے کنٹریکٹ کے اجراء کے بعد جلد شروع

کر دیا جائے گا۔ انڈسٹریل زون کے حوالے سے منظوری کا عمل بھی جون میں مکمل ہو جائے گا جس

کے بعد انفراسٹرکچر کی تعمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ راوی سٹی میں اقراء یونیورسٹی،

UMT اور ISC اپنے کیمپسز قائم کریں گے۔ اقراء یونیورسٹی نے اپنے کیمپس کے ساتھ ساتھ ہسپتال

کی تعمیر میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اجلاس کو راوی سٹی میں واسا کے تین واٹر ٹریٹمینٹ

پلانٹس کی منتقلی اور ویسٹ واٹر ٹریٹمینٹ کے لئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی بریفنگ دی

گئی۔ شرکاء کو جوڈیشل واٹر کمیشن کی جانب سے اینوائر نمینٹل پروٹیکشن ایجنسی کو راوی سٹی

منصوبے کے لئے منظوری کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایات کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔

شرکاء کو مقامی لوگوں کے لئے راوی سٹی منصوبے کی افادیت کے حوالے بریفنگ دیتے ہوئے آگاہ

کیا گیا کہ منصوبے میں مقامی آبادی کے لئے ملازمتوں کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے۔ ابتدائی طور پر

ایک لاکھ مقامی خاندانوں کو اس منصوبے سے روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔ اس کے علاوہ

علاج معالجے کے حوالے سے مقامی افراد کو علاج کے اخراجات میں 50 فیصد رعایت میسر ہوگی۔

وزیر اعظم نے پانی کی کمی اور خصوصا لاہور جیسے بڑے شہروں میں ویسٹ واٹر ٹریٹمینٹ پلانٹ

کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پانی کی کمی کو پورا کرنے اور واٹر ٹریٹمینٹ پلانٹس کے لئے

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ وزیر اعظم نے واٹر ٹریٹمینٹ اور ویسٹ واٹر ڈسپوزل کیضمن

میں ایک مربوط اور جامع حکمت عملی مرتب کرنے کی ہدایت دی تاکہ شہری آبادی کو صاف اور

وافر پانی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ زرعی مقاصد کے لئے بھی اضافی پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا

سکے۔ اجلاس کو سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے پر پیشرفت کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے

بتایا گیا کہ اس منصوبے میں نیلامی کا عمل جولائی 2021 کے پہلے ہفتے میں شروع کر دیا جائے

گا۔ سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ منصوبے کے حوالے سے بورڈ قائم ہو چکا ہے، نیسپاک اور ایف ڈبلیو او

سے ڈیزائن کے حوالے سے معاونت جاری ہے اور ترقیاتی کام کا آغاز اگلے ہفتے سے کیا جا رہا

ہے۔

ووٹنگ مشینوں کا استعمال

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں