68

بچوں پر تشدد کرنیوالے والدین، والدین پر تشدد کرنیوالے بچوں کو جیل جانا پڑیگا ، بل منظور

Spread the love

تشدد کرنیوالے والدین

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن نیوز) بچوں پر تشدد کیا تو سزا ہوگی،اگر بزرگ والدین کو گھروں سے

نکالا تو بچے جیل جائیں گے،بچوں پر تشدد پر والدین کو بھی جیل جانا ہو گا،جرم ناقابل ضمانت اور

ثابت ہونے پرتین سال تک سزا ہو گی، بزرگ شہریوں کو عوامی مقامات پر داخلہ فری،علاج معالجے

کی سہولیات،رہائش کیلئے اولڈ ہوم کی تعمیر کی جائے گی، سینٹ انسانی حقوق کمیٹی نے گھریلو

تشدد کی ممانعت اور سینئر سٹیزن بلز پاس کرلیا۔سینئر سٹیزن بل2021کے مطابق بزرگ شہریوں

کیلئے ہسپتالوں میں الگ کاونٹر بنیں گے، عوامی مقامات میوزیم پارکس میں مفت داخلہ ہوگا،ساٹھ سال

سے زائد بزرگوں کیلئے سینئرسٹیزن کارڈ بنیں گے، جن پر ریل اور ہوائی سفر میں بیس فیصد کرایہ

معاف ہوگا،بزرگ شہریوں کے تحفظ کی کونسل بنے گی،حکومت فنڈ مختص کرے گی خلاف ورزی

کرنے والے اداروں پر پچاس ہزار جرمانہ ہوگا،پرائیویٹ ہسپتال کی غفلت سے جان کھو دینے پر

متعلقہ ہسپتال پر دس لاکھ جرمانہ ہوگا،وفاقی وزیر انسانی حقوق سینئر سٹیزن کونسل کے چیئرپرسن

ہونگے،ممبران میں سول سوسائٹی کا نمائندہ،چیف کمشنر اسلام آباد،فنانس ڈویڑن کا ایک نمائندہ،قومی

صحت ڈویڑن کا نمائندہ،پاکستان بیت المال کا ایک نمائندہ،وزارت انسانی حقوق کی طرف سے نامزد

کردہ سینئر سیٹزن،ایک قومی اسمبلی کا رکن،ایک سینیٹر،ایک وزارت پاورٹی ایلیویشن کا نمائندہ اور

سیکرٹری وزارت انسانی حقوق شامل ہونگے،کونسل سینئر سٹیزن کی فلاح کیلئے قومی اور بین

الاقوامی کمٹمنٹ کی تحت تجاویز مرتب کریں گی،کونسل ہر چار ماہ بھی اجلاس منعقد کرے گی۔بل

کے مطابق حق دار سینئر سٹیزن کی حکومت معاشی امداد کریگی،انفراد ی طور پر انکم ٹیکس کی

ادائیگی سے مستثنیٰ ہونگے،سینئر سٹیزن کی پراپرٹی کی ٹرانسفر سے متعلق ٹرانسفری کو تمام متعلقہ

دستاویزات دکھانا لازم ہو گا،سینئر سٹیزنزکی شکایات کے لئے شکایات کمیٹی کا تشکیل عمل میں لایا

جائے گا، جو کہ تین ممبران پر مشتمل ہو گی،جس ادارے یا شخص کیخلاف ایکٹ پر عملدرآمد نہ

کرنے کے حوالے سے شکایات موصول ہو گی اس پر پچاس ہزار تک کا جرمانہ ہو گا۔گھریلو تشدد

کی ممانعت بل2021کے مطابق بچوں،عورتوں،کمزور افراد اور کسی بھی شخص کیخلاف جذباتی،

نفسیاتی،جنسی اور معاشی تشدد گھریلو تشدد شمار ہونگے،آوازیں کسنا بھی تشدد میں شمار ہو گا،

شخص کی تذلیل کرنا، فرد کی رازداری،آزادی اور سلامتی سے متعلق متواتر غیر مناسب الفاظ ادا

کرنا بھی تشدد میں شمار ہوگا،بیوی کوطلاق اور دوسری شادی کی دھمکی دینا،عورت کی ذات پر بے

بنیاد الزمات لگانا بھی گھریلوتشددمیں شمار ہوگا،بیوی پر جسمانی تشدد بھی جرم تصور ہوگا،گھریلو

تشدد کے مرتکب شخص کو تین سال کی سزا اور ایک لاکھ کی سزا ہو گی۔

تشدد کرنیوالے والدین

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں