نسلہ ٹاور گرانے کا 53

نسلہ ٹاور گرانے کا حکم، سندھ میں تمام سرکاری اراضی واگزار کرائی جائے ، سپریم کورٹ

Spread the love

نسلہ ٹاور گرانے کا

کراچی (صرف اردو آن لائن نیوز) سپریم کورٹ نے نے پرتعیش اپارٹمنٹس والے نسلہ ٹاور کو غیر

قانونی قرار دیتے ہوئے فوری گرانے کا حکم دیدیا،چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ نہ

صرف سروس روڈ بلکہ شاہراہ فیصل بھی عمارت کا حصہ ہے، منصوبہ فٹ پاتھ سے جا کر ملتا ہے،

فرنٹ مین کون ہے ان سب کے پیچھے؟ کراچی میں ساری چائنہ کٹنگ اسی طرح ہو رہی ہے،زمین

کچھ ہوتی ہے، قبضہ اس سے زیادہ کر لیا جاتا ہے۔ بدھ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف

جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے روبرو نسلہ ٹاور بلڈر کے

وکیل کی متفرق درخواست کی سماعت ہوئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کے ایم سی

رپورٹ میں کچھ ایریا غیر قانونی استعمال ہونے کی نشاندہی ہوئی۔ سروس روڈ کو عمارت کا حصہ

بنایا گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے نہ صرف سروس روڈ بلکہ شاہراہ فیصل بھی عمارت کا

حصہ ہے۔ آپ کا منصوبہ فٹ پاتھ سے جا کر ملتا ہے۔ بتائیں، شاہراہ قائدین کا سروس روڈ کہاں گیا؟

شاہراہ قائدین سے سروس روڈ شاہراہ فیصل تک جا ملتا ہے۔ ٹاور کے وکیل صلاح الدین نے موقف دیا

کہ ہماری عمارت سروس روڑ پر ہرگز نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا نسلہ ٹاور کا اوریجنل پلان

کہاں ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کیا کہ آپ کی اورینجنل لیز 780 اسکوائر یارڈ

تھی۔ کیا باقی اراضی ایڈیشنل لیز شدہ نہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے نسلہ ٹاور سے متصل

سروس لین آج بھی موجود ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے تصاویر دیکھیں، نسلہ ٹاور

سروس روڑ سے ملا ہوا ہے۔ صلاح الدین احمد نے موقف دیا کہ سروس روڑ ہمارے پلاٹ سے ہی لے

کر بنایا گیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے بس آپ اپنی لیز دیکھا دیں۔ صلاح الدین احمد نے موقف

اپنایا کہ کے ایم سی نے سندھی مسلم سوسائٹی کو زمین دی۔ سندھی مسلم سوسائٹی سے بلڈر نے زمین

خریدی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے سندھی مسلم نے اگر آپ کو سروس روڑ بھی بیچا تو وہ قانونی

نہیں ہوگا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس میں کہا کہ آپ نے 341 اسکوائر یارڈ پر قبضہ کیا۔

کوئی راکٹ سائنس نہیں، 780 اسکوائر یارڈ سے زیادہ کی زمین کیسے حاصل کی؟ سندھی مسلم کے

پاس تو ٹائٹل ہی نہیں تھا انہوں نے کیسے دے دی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے فرنٹ مین کون ہے

ان سب کے پیچھے؟ کراچی میں ساری چائنہ کٹنگ اسی طرح ہو رہی ہے۔ زمین کچھ ہوتی ہے، قبضہ

اس سے زیادہ کر لیا جاتا ہے۔ صلاح الدین ایڈوکیٹ نے استدعا کی کہ ایس بی سی سے عمارت گرا

دے گی۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ عمارت غیر قانونی ہے، عمارت گرائی جائے۔ عدالت نے بلڈر

اور رہائشیوں کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالت نے

نسلہ ٹاور کو فوری گرانے کا حکم دے دیا۔دوسری طرف سپریم کورٹ نے کراچی میں گجر نالہ اور

اورنگی نالہ تجاوزات آپریشن روکنے کی وفاقی حکومت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہاہے کہ

کراچی کے خلاف بہت بڑی سازش ہوئی، شہر تباہ کردیا گیا، گجر نالہ کے متاثرین کیلئے ایک ہفتہ

میں حکمت عملی بنانے کی ہدایت کردی جبکہ آپریشن جاری رکھنے کا حکم دے دیا ۔بدھ کوسپریم

کورٹ رجسٹری میں کراچی میں غیر قانونی تجاوزات آپریشن کے معاملے کی سماعت ہوئی۔ عدالت

نے گجر نالہ اور اورنگی نالہ پر متبادل پلان طلب کرتے ہوئے پوچھا کہ متاثرین کو آباد کرنے کے

لیے سندھ حکومت کے پاس کیا پلان ہے؟۔اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ گجر نالہ آپریشن سے متعلق

بڑا انسانی المیہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے، میں وزیراعلی سندھ اور چیئرمین این ڈی ایم اے سے

مشاورت کرنے کو تیار ہوں، میری گزارش ہے کہ اگلی سماعت تک آپریشن روک دیا جائے، متبادل

پلان کے بعد پھر چاہے گھروں کو مسمار کردیا جائے، ایک ہفتے کے لیے آپریشن روک دیا جائے،

متبادل دینے تک لیز گھروں کو نہ گرایا جائے، ورنہ 40 ہزار لوگ شدید متاثر ہوں گے۔عدالت نے

گجر، اورنگی نالہ آپریشن روکنے سے انکار کرتے ہوئے نالوں سے متعلق کارروائی جاری رکھنے

کی ہدایت کی۔سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ گجر نالہ کے متاثرین کیلئے ایک ہفتہ میں حکمت

عملی بنائی جائے۔ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے بتایا کہ الہ دین، پویلین اینڈ کلب پر تجاوزات کے خلاف

کام شروع ہوچکا، تجاوزات بہت زیادہ ہیں، مزید مہلت کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہاکہ مزاحمت

ہوئی نقص امن کا مسئلہ ہوا تھا پولیس اور رینجرز کی مدد سے کام شروع کیا ہے۔چیف جسٹس گلزار

احمد نے ریمارکس دیئے کہ آپ لوگوں نے ہی قبضہ کرایا ہے۔ جن لوگوں نے دو نمبر کام کیے ہیں،

سب گرفتار ہوں گے۔ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے کہا کہ مشینری کم ہے کچھ عرصہ لگ سکتا ہے،

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کے آپ لوگوں نے کے ایم سی جیسے ادارے کو کھوکھلا کردیاہے۔

کے ایم سی تو خود اپنا فنڈز جنریٹ کرتی تھی۔ ساری مشینری گل سڑ رہی ہے۔ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی

نے کہا کہ آکٹرائے ٹیکس ختم ہوا ہے، جب سے ہم ڈیپنڈنٹ ہوگئے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ایک ایک

ذمہ دار بندے کو پکڑیں گے، یہ ابتدا ہے، سب کچھ ٹوٹے گا، یہ سب آپ لوگوں ہی نے تجاوزات

کرائی ہیں، کے ایم سی کا کوئی ملازم کام کرتا نظر نہیں آتا، کے ایم سی کو کھوکلا کردیا گیا، آپ 80

فیصد کے ایم سی اسٹاف کو نکالیں، کے ایم سی کو اتنے اسٹاف کی ہرگز ضرورت نہیں، کے ڈی اے،

کے ایم سی میں ہزار فیصد اوور اسٹاف بھر دیا گیا، ان اداروں کو تباہ کر دیا، کراچی برباد کردیا گیا،

یہ ادارے کراچی کا قیمتی اثاثے ہوتے تھے، لائنز ایریا کو آپ کے افسران نے فروخت کردیا، آج نارتھ

ناظم آباد کچی آبادی سے بھی بدتر ہے، ہر طرف مٹی نظر آتی ہے، گٹر بھرے ہوئے، سٹرکیں ٹوٹی

ہوئی ہیں، کراچی کے خلاف بہت بڑی سازش ہوئی، شہر کو تباہ کردیا گیا، امتیاز اسٹور اور دیگر

عمارتیں بنا کر تباہی مچا دی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سب سے پہلے تو عملہ دس فیصد کردیں۔

کس کام کا یہ اسٹاف ہے جو سڑکوں پر ایک آدمی نظر نہیں آتا۔ کوئی آفت آجائے تو لوگ رل جاتے

ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔ پورے شہر کو تباہ کردیا جو ادارے کام کررہے تھے انہیں ختم کردیا۔

چیف جسٹس نے کہاکہ کرپشن کا راج ہے، آپ کے پاس صرف تنخواہیں لینے والا اسٹاف ہے۔ آپ

کرکیا رہے ہیں؟ کشمیر روڈ پر میدان خالی کرایا ؟ کلب آپ کی زمین پر غیرقانونی بنایا ہوا تھا۔وکیل

کے ایم سی نے کہا کہ چھت مسمار کردی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ چھت گرا دی مگر ملبہ اب بھی

موجود ہے۔ پارک کو بحال کریں بچوں کیلئے اور عوام کیلئے۔ کشمیر روڈ پاکستان کے خوبصورت

ترین سڑکوں میں تھا۔ یہ تو اخباروں میں آتا تھا۔ آگے جاکر امتیاز اسٹور بنادیا ، تباہی مچادی ساری۔ آپ

کے میئر کی کوئی کنسٹرکشن کمپنی تھی اس کا دفتر بنادیا تھا۔ وہ دفتر گرایا یا نہیں آپ نے؟۔

ایڈمنسٹریٹر نے کہا کہ کے ایم سی آفیسرز کلب مسمار کرچکے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بڑے

بڑے دفاتر بنے ہوے تھے ہم نے کہا تھا گرائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اپنا حکم نہیں روکیں گے،

کام جاری رکھیں۔ایڈوکیٹ جنرل نے کہا کہ لوگوں نے چیک وصول نہیں کیے، کیس کردیا سمجھ رہے

تھے، مکان بچ جائے گا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ خیال رکھیے گا، کچھ لوگ چیک بھی لیں گے اور

دعویٰ بھی کردیں گے۔عدالت نے ایک ہفتہ میں وفاقی اور صوبائی حکومت کو متاثرین کیلئے حکمت

عملی بنانے کی ہدایت کردی۔سپریم کورٹ نے سندھ میں تمام سرکاری اراضی واگزار کرانے کا حکم

دے دیا۔ عدالت نے 3 ماہ کے اندر زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرانے کی ہدایت کر دی۔ چیف

جسٹس نے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مزید وقت ہرگز نہیں دیا

جائے گا، اگر عدالتی فیصلے پر عمل نہ ہوا تو آپ ذمہ دار ہوں گے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں

سندھ کی زمینوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے

سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے استفسار کیا 2007 سے ریکارڈ اب تک کمپیوٹرائزڈ کیوں نہیں ہوا ؟

آپ دو ماہ مانگ رہے تھے مگر برسوں گزر گئے۔ اس پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے کہا کہ

سوائے ٹھٹھہ ضلع کے تمام ریکارڈ مرتب کرلیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ ٹھٹھہ کا ریکارڈ کیوں

کمپوٹرائزڈ نہیں ہو پا رہا ؟ عدالت تین سال سے ٹھٹھہ کا ریکارڈ مرتب نہ ہونا عجیب بات ہے۔چیف

جسٹس گلزاراحمد نے ریمارکس دیئے کہ ہزاروں زمینوں کے تنازعات پیدا ہو رہے ہیں، کسی کی

زمین کسی کو الاٹ کر دیتے ہیں آپ لوگ، زمینوں پر قبضے بھی اسی وجہ سے ہو رہے ہیں، بورڈ

آف ریونیو سب سے کرپٹ ترین ادارہ ہے۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ سندھ، خیبرپختونخوا اور

بلوچستان میں زمینوں کے ریکارڈ کو کمپیوٹرائزڈ کیا جائے۔

نسلہ ٹاور گرانے کا

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں