84

پنجاب میں بھی تنخواہوں ، پنشن میں10فیصد اضافہ،25فیصد خصوصی الاؤنس کا اعلان

Spread the love

پنجاب تنخواہوں پنشن اضافہ

لاہور(صرف اردو آن لائن نیوز) وزیر خزانہ پنجاب مخدوم ہاشم جواں بخت نے پنجاب کا مالی سال

2021-22 کا بجٹ پیش کردیا‘پنجاب کے بجٹ کامجموعی حجم2ہزار653 ارب ‘ بجٹ میں ٹیکس

وصولیوں کا تخمینہ241ارب روپے ‘ آئندہ مالی سال کے لیے سالانہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 560 ارب

رکھا گیا ہے جس کا 35 فیصد جنوبی پنجاب کیلئے مختص ہو گا ‘سالانہ ترقیاتی بجٹ میں لاہور کیلئے

62 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج تجویز کیا گیا۔بجٹ میں ترقیاتی پروگرام کیلئے 560 ارب، تعلیم اور

صحت کیلئے 205 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے، تنخواہ پنش میں10 فیصد اضافہ، 25

فیصد خصوصی الاؤنس کا اعلان کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت

نے پنجاب اسمبلی میں بجٹ تقریر میں بتایا کہ آج میں اس مقدس ایوان میں پاکستان تحریک انصاف کی

حکومت کے چوتھے بجٹ اور پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت میں پہلی تقریر کا اعزاز حاصل کر رہا

ہوں۔پنجاب اسمبلی کی اس نئی عمارت کے 16سال سے زیر التوا منصوبے کی تکمیل کا سہرا بلاشبہ

سپیکر آپ کے سر ہے جس کے لیے میں آپ کو قائد ایوان اور تمام اراکین اسمبلی کی جانب سے

مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ پنجاب حکومت وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی عثمان بزدار کی قیادت

میں ملکی تاریخ کے سب سے بڑے مالی بحران اور بد ترین وبا کا مقابلہ کرتے ہوئے معاشی ترقی کی

نئی راہوں پر گامزن ہے جس کی منزل عوامی خوشحالی اور صوبے کی یکساں ترقی ہے ۔پنجاب

حکومت کا نئے مالی سال کا بجٹ حقیقی معنوں میں تحریک انصاف کے منشور کے عین مطابق اور

عوامی امنگوں کا ترجمان ہے ۔۔ جنابِ اسپیکر!مجھے یہاں یہ اعلان کرتے ہوئے انتہائی خوشی

محسوس ہو رہی ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 2,653ارب روپے تجویز کیا جا رہا

ہے جو پچھلے مالی سال سے 18فیصد زیادہ ہے۔ آئندہ مالی سال میں وفاقی محصولات کی وصولی کا

ہدف5,829ارب روپے متوقع ہے جس سے این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کو1,684ارب روپے

منتقل کیے جائیں گے جو رواں مالی سال کے مقابلہ میں18%زیادہ ہوں گے ۔جبکہ صوبائی محصولات

کے لیے405ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جو رواں مالی سال کے مقابلے میں28% زیادہ ہے ۔

بجٹ میں جاری اخراجات کا تخمینہ1,428ارب روپے لگایا گیا ہے ۔ جنابِ اسپیکر! مجھے انتہائی

خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ میں آج اس معزز ایوان کے سامنے آئندہ مالی سال کے لئے ایک تاریخ

ساز ترقیاتی پروگرام کا اعلان کر رہا ہوں۔صوبہ پنجاب کے ترقیاتی پروگرام کے لئے 560 ارب کے

ریکارڈ فنڈز مختص کئے جا رہے ہیں۔ترقیاتی بجٹ میں ایک سال میں66%کا یہ غیر معمولی اضافہ

بلاشبہ ہماری ترقیاتی ترجیحات کا آئینہ دار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہمار ا یہ ترقیاتی پروگرام صوبے

کی ترقی، معیشت کے استحکام اور عوام کی خوشحالی کا ضامن ہوگا اور اس کے ثمرات پنجاب کے

کونے کونے تک پہنچیں گے۔ جنابِ اسپیکر! آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں سوشل سیکٹر یعنی

تعلیم اور صحت کے لیے205ارب 50کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے

مقابلہ میں110%زیادہ ہیں۔انفراسٹر کچر ڈویلپمنٹ کے لیے 145ارب40کروڑ روپے مختص کیے گئے

ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلہ میں87%زیادہ ہیں۔اسپیشل پروگرامزکے لیے 91ارب 41کروڑ

روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلہ میں92%زیادہ ہیں۔ترقیاتی بجٹ میں

اکنامک گروتھ کے لیے پیداوری شعبوں جن میں صنعت ، زراعت، لائیوسٹاک،ٹوورازم،جنگلات

وغیرہ شامل ہیں57ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جو رواں مالی سال کے مقابلہ

میں234%زیادہ ہیں۔جناب سپیکر!بجٹ2021-22میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری ،معاشی شرح

نمو یعنی ،سماجی ترقی اور علاقائی مساوات کے تناظر میں کی گئی ہے جو پاکستان تحریک انصاف

کے منشور کی بنیاد ہیں۔ترقیاتی پروگرام کے نمایاں منصوبہ جات میں ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام،

یونیورسل ہیلتھ انشورنس پروگرام،سڑکوں کی بحالی،مدر اینڈ چاہلڈ ہیلتھ کیئر ہسپتال،سکولوں کی اپ

گریڈیشن،معاشی ترقی کے خصوصی مراعات، ورک فورس کی تیاری ، اینوائرمنٹ اینڈ گرین پاکستان

اور پبلک ہاؤسنگ سکیم شامل ہے ۔ اسپیکر!جیسا کہ میں نے پہلے بھی عرض کیا کہ تحریک انصاف

کے معاشی ترقی کے ماڈل میں سوشل سیکٹر میں بہتری اور پورے صوبے میں یکساں ترقی کو

بنیادی اہمیت حاصل ہے اس لیے معاشی ترقی کے لیے پیداواری شعبوں میں حکومتی اقدامات سے

کے ذکر سے پہلے میں ان دو ترجیحات پر بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں ۔جناب سپیکر!کرونا کہ

دوران جہاں محکمہ صحت پر بوجھ آیا وہاں ہمیں اس شعبہ کے مسائل اور درکار وسائل سے آگاہی کا

بھی موقع ملا۔جو تجربات ہمیں اس دوران ہوئے وہ ڈیٹا شاید کوئی فزیبلیٹی رپورٹ بھی فراہم نا کر

پاتی۔ صحت ہر ایک کی ضرورت ہے پنجاب نے پرائیویٹ سیکٹر کے ساتھ ملکر ویکسینین سینٹر

بنائے تو ان سے ہرطبقے نے استفادہ کیا وہ لوگ جو عام حالات میں سرکاری ہسپتالوں پر اعتبار نہیں

کرتے وہ بھی ان سینٹرز سے استفادہ کر رہے ہیں جن کو دیکھ کر ویکسینیشن سے متعلق تعصبات

رکھنے والا کم تعلیم یافتہ طبقہ بھی ترغیب ھاصل کر رہا ہے ۔اس دوران ہم نے یہ بھی دیکھا کہ

صرف ہسپتالوں کی تعداد بڑھانے سے صحت کے مسائل کم نہیں ہوں گے بلکہ علاج کی استطاعت

بھی ضروری ہے ۔ان حقائق کی روشی میں حکومت پنجاب صوبے کی تاریخ کا سب سے پہلا میگا

منصوبہ مکمل کرنے جس کا ڈی جی خان اور ساہیوال سے آغاز کیا جا چکا ہے ۔ منصوبہ کے تحت

پنجاب کی 100فیصد آبادی یعنی 11کرو ڑ عوام کو سرکاری و غیرسرکاری ہسپتالوں سے علاج کے

لیے80ارب روپے کی ہیلتھ انشورنس مہیا کی جا رہی ہے جو “صحت سب کے لیے ” ہمارے نعرے

کی تعبیر بنے گی۔میں نے اسے پنجا ب کی تاریخ کا سب سے پہلا میگا منصوبہ کہا کیونکہ یہ ماضی

کے میگا منصوبوں کی طرح صرف اخراجات میں میگا نہیں بلکہ محاصلات میں بھی میگا ہے۔انشااﷲ

آئندہ چھ ماہ میں مکمل ہونے والے اس منصوبہ کے لیے رواں مالی سال میں60ارب روپے مختص

کیے جا رہے ہیں۔ صحت کے شعبہ میں دوسرا بڑا مسئلہ ہسپتالوں تک رسائی اورناکافی موجود

سہولیات کے سبب دورانِ پیدائش ہونے والی اموات ہیں جن میں کمی کے لیے اس سال 5نئے مدر اینڈ

چائلڈ ہسپتالوں کے قیام کو یقینی بنایا جا رہا ہے جس کے لیے 12ارب روپے سے زائد کابجٹ مختص

کیا گیا ہے۔تحریک انصاف پنجاب میں حکومت سے پہلے سال سے صحت کے بجٹ میں اضافہ کر

رہی ہے آئندہ مالی سال میں مجموعی طور پر صحت کا بجٹ369ارب روپے رکھا گیا ہے جورواں

مالی سال سے30%زائد ہے ۔ ترقیاتی اخراجات کے لیے96ارب روپے جبکہ جاری اخراجات کے لیے

273ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔رواں مالی سال میں ائیر ایمبولیس کی فراہمی کے منصوبہ کا

بھی آغاز کیا جا رہا ہیتعلیم کے شعبہ میں پنجاب کا سب سے بڑا مسئلہ سکولوں سے باہر بچوں کی

سکولوں میں انرولمنٹ اور پسماندہ علاقوں میں پرائمری کی سطح سے اوپر تعلیم خصوصا بچیوں کی

تعلیم ہے جس کے لیے انصاف سکول پروگرام کے تحت پنجاب کے 22اضلاع کے577 پرائمری و

ایلیمینٹری سطح کے سکولوں کو مڈل اور ہائی سکولوں کا درجہ دیا جا رہا ہے تاکہ وہ والدین جو

پرائمری سطح کے بعد سکولوں کی گھروں سے دوری کے سبب بچوں کی تعلیم کا سلسلہ ختم کر

دیتے ہیں کم ازکم میٹرک تک مفت تعلیم کو یقینی بنائیں ۔اس مقصد کے لیے تعلیم کے بجٹ میں6ارب

80کروڑ روپے مہیا کئے جا رہے ہیں جس سے کم از کم 40لاکھ طلباو طالبات استفادہ کریں گے ۔ ہائر

ایجوکیشن کے شعبہ میں ہر ضلعے کو اعلی تعلیم کی سہولت بہم پہنچانے کے لیے پاکپتن،راجن

پور،گوجرانوالہ،اٹک،حافظ آباد،ڈ ی جی خان، ننکانہ صاحب ، بھکر، لیہ، ملتان اور سیالکوٹ میں

مجموعی طور پر 8یونیورسٹییوں کے قیام کے لیے 1 ارب 20 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز

دی گئی ہے۔سیالکوٹ میں آسڑیا کے تعاون سے عالمی معیار کی اپلائیڈ انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی

یونیورسٹی 17ارب روپے کی مجموعی لاگت سے تعمیر کی جا رہی ہے جو ٹیکنیکل ایجوکیشن کے

میدان میں اہم سنگ میل ثابت ہو گی ۔نبی کریم ؐ سے عقیدت و محبت کے اظہار میں رحمتہ للعالمینؐ

سکالر شپس کیلئے 83 کروڑ 40 لاکھ روپے کا بلاک رکھا گیا ہے جو ضرورت مند طلبا و طالبات کے

تعلیمی اخراجات میں مدد کرے گا۔تعلیم کا مجموعی بجٹ442ارب روپے رکھا گیا ہے جو پچھلے سال

سے13%زیادہ ہے ۔ ترقیاتی اخراجات کے لیے54ارب 22کروڑ روپیجبکہ جاری اخراجات کے

لیے388ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جناب سپیکر! پنجاب ایک مدت سے وسائل کی غیر متوازن

تقسیم اوریک رخی ترقی کے پیدادہ کردہ مسائل سے نبرد آزما ہے۔فرد واحد کے مسلط کردہ فیصلے

انتظامی امور میں بدعنوانیوں کا سبب بن رہے تھے ۔نظر انداز کیے جانے والے اضلاع دارلخلافہ سے

متعلق تعصبات کا شکار تھے۔ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم نے جنوبی و وسطی پنجاب کے مابین

واضح لکیر کھینچ دی تھی۔ وزیر اعلی عثمان بزدار نے کابینہ کے چھینے گئے اختیارات بحال کیے ۔

صوبے کے 11کروڑ وعوام سے متعلق ہر فیصلے میں عوامی نمائندوں کی تجاویزکا احترام

کیا،بدعنوانیوں پر کنٹرول کے لیے حکومتی اراکین کی سربراہی میں مانیٹرنگ کمیٹیاں تشکیل دی

گئیں ۔دارلخلافہ پر عوام کااعتماد بحال ہوا اورپورے صوبے میں یکساں ترقی کی راہ ہموار ہوئی۔ یہ

وزیر اعلی عثمان بزدار ہی کی قیادت ہے جس کی بدولت آج ہم جنوبی پنجاب کی عوام کے سامنے سر

اٹھا کر کھڑے ہیں۔ خطے کو نا صرف وسائل میں ان کا جائز حق دیا جا رہا ہے بلکہ مستقبل میں ایسی

کسی بھی نا انصافی کی حوصلہ شکنی لیے مختص کردہ بجٹ کی رنگ فینسنگ بھی کر دی گئی ہے ۔

انتظامی خرابیوں کی دوری کے لیے55 ایڈمنسٹریٹو اور11فنانشیل اختیارات کے ساتھ الگ سیکرٹریٹ

کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں آبادی کے تناسب سے32فیصد کوٹے کا تعین

بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ جناب سپیکر!آئندہ مالی سال میں جنوبی پنجاب کے لئے 189ارب

روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کئے گئے ہیں ۔ حکومت پنجاب کی جانب سے جنوبی پنجاب میں

چولستانی علاقوں کی ترقی کے لیے تقریبا 1 ارب روپے کے کی خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز

پیش کی جارہی ہے۔جس کے تحت پینے کے پانی کے ذخائر اور چولستانی علاقہ تک رسائی کے لیے

سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔۔صوبہ پنجاب میں کمیونٹی ڈویلپمنٹ پروگرام(CDP) کے تحت منصوبوں

کی تکمیل کیلئے15 ارب روپے کی رقوم مختص کی جا رہی ہیں۔ اِن منصوبوں سے نہ صرف ہیومین

ڈویلپمنٹ کو تقویت ملے گی بلکہ انسانی سرمایہ میں بڑھوتری اورSDGs کے تحت عالمی اداروں

سے کئے گئے حکومت پاکستان کے عزم کا اعادہ بھی ہو گا۔اس بار جنوبی پنجاب کے بجٹ کا صرف

اعلان ہی نہیں میزان بھی الگ سے شائع کیا گیا ہے جو خطے کے لیے مختص کردہ فنڈزکے استعمال

میں شفافیت کو یقینی بنائے گا اور آئندہ آنے والے دنوں میں موجودہ حکومت کی جانب سے وسائل کی

منصفانہ تقسیم کادستاویزی ثبوت ہو گا۔سابق حکومت کے دس سالہ دور میں وسائل کی غیر متوازن

تقسیم نے صرف جنوبی پنجاب کو ہی متاثر نہیں کیا بلکہ وسطی پنجاب کے بیشتر اضلاع بھی ترقی

سے محروم رہے میونسپل، سیوریج اور ایسی ہی بنیادی سہولیات کا فقدان چھوٹے شہروں کی

پسماندگی میں مزید اضافے کا سبب بنا۔ آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 295ارب

روپے کا ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام اگلے دو سال میں بلا تخصیص پنجاب کے 36اضلاع میں

ضرورت کے مطابق خدمات کی فراہمی کو بہتر بنائے گا۔منصوبے کے تحت پسماندہ علاقوں میں

سڑکوں کی تعمیر و مرمت ، فراہمیِ و نکاسیِ آب، بنیادی تعلیم و صحت سے متعلقہ ترقیاتی کام کیے

جائیں گے جس سے لوگوں کا معیارِ زندگی بلند ہو گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے جس

کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 99ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ جنابِ اسپیکر!اگلے مالی

سال کے بجٹ میں لاہور کی مرکزی اور تجارتی اہمیت کے پیش نظر ترقیاتی منصوبوں کے

لئے28.3ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔جس کے تحت شہر میں انفرا سٹرکچر کے

میگا پروجیکٹس لگائیں جائیں گے۔ لاہور میں اس وقت زیر تعمیر جاری اہم منصوبوں میں شاہ کام

چوک ، گلاب دیوی ہسپتال انڈرپاس اور شیراں والاگیٹ اوورہیڈ شامل ہیں۔ لاہور شہر میں پانی کی

شدید قلت کو مدنظر رکھتے ہوئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا جا رہا ہے جس کے لیے آئندہ مالی سال

میں ایک ارب 50کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کئے جانے کی تجویز ہے۔لاہور شہر میں آخری

بڑا جنرل ہسپتال 1984میں تعمیر ہو۔ ہماری حکومت اس سال ایک ہزار بستروں پر مشتمل جدید ترین

ہسپتا ل کی تعمیر کا آغاز کرنے جا رہی ہے۔ ! ہم لاہور کو عالمی سطح کا جدید ترین شہر بنانے کاعزم

رکھتے ہیں۔ لاہور کے مستقبل کی ضروریات کے مد نظر رکھتے ہوئے راوی اربن پروجیکٹ اور

سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ جیسے فقیدالمثال منصوبے شروع کئے جا رہے ہیں جن کی بدولت یہ تاریخی

شہر آنے والے وقتوں میں اس خطے کا ترقی یافتہ ترین شہر بن جائے گا۔یہ منصوبے نا صرف لاہور

بلکہ پنجا ب میں ترقی اور خوشحالی کے سنہر ی دور کا سنگِ میل ہوں گے۔ایک اندازے کے مطابق

صرف سنٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام سے6ہزار ارب معاشی سرگرمیاں اور ایک لاکھ سے زائد

روزگارکے مواقع دستیاب ہوں گے۔ جناب سپیکر! پاکستان کے گروتھ ریٹ میں حالیہ اضافہ جہاں

موجودہ حکومت کی مالی پالیسیوں کی کامیابی کی دلیل ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت پنجاب مستقبل

میں بھی اسی حکمتِ عملی پر آگے بڑھنے کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ معاشی ترقی کے اس سلسلے

کو جاری رکھا جا سکے اس مقصد کے لیے صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے

سازگار ماحول کی مہیا کیا جا رہا ہے۔کاروباری طبقے کے مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دی جا

رہی ہے ۔ آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں معاشی ترقی کے لیے10ارب روپے کا خصوصی

پیکج اسی سلسلے کی کڑی ہے۔جناب سپیکر! پنجاب حکومت 10ارب روپے کے اس خصوصی پیکج

کے ساتھ رواں مالی سال میں کاروبار کی بحالی اور ترقی کے لیے فراہم کردہ ٹیکس ریلیف کو آئندہ

مالی سال میں بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔اس مقصد کے لیے آئندہ بجٹ میں 51ارب روپے

کا جامع پیکج مختص کیا گیا ہے جس کے تحت ) بورڈ آف ریوینو کی جانب سے ٹیکسوں کی مد میں

اسٹامپ ڈیوٹی کی شرح کو1% پر برقرار رکھا جائے گا۔40 ارب روپے کی اس رعایت کا مقصد

کنسٹرکشن کے شعبے میں نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو گا۔ (ب)رواں مالی سال میں جن 25

سے زائد سروسز پر پنجاب سیلز ٹیکس کی شرح کو16% سے 5%کیا گیا تھا ان کو آئندہ مالی سال

میں بھی برقرار رکھا جائے گا۔اِن سروسسز میں چھوٹے ہوٹلز اور گیسٹ ہاؤسز، شادی ہال، لانز،

پنڈال اور شامیانہ سروسز و کیڑرز، آئی ٹی سروسز، ٹور آپریڑرز، جمز، پراپرٹی ڈیلرز، رینٹ اے

کار سروس، کیبل ٹی وی آپریڑز، ، زرعی اجناس سے متعلقہ کمیشن ایجنٹس، فوٹو گرافی اور پارکنگ

سروسزوغیرہ شامل ہیں اسی طرح آئندہ مالی سال میں دس مزید سروسز پر سیلز ٹیکس کو16%سے

کم کرکے 5%کرنے کی تجاویز بھی پیش کی جارہی ہیں۔ان نئی سروسسز میں بیوٹی پارلرز، فیشن

ڈیزائنزز، ہوم شیفس ، آرکیٹیکٹ، لانڈریز اور ڈرائی کلینرز، سپلا ئی آف مشینری، وئیر ہاوس، ڈریس

ڈیزائنرز اور رینٹل بلڈوزر وغیرہ شامل ہیں۔ (د) کال سینٹرز پر ٹیکس کی شرح کو ساڑھے 19%سے

کم کر کے 16%کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ رواں مالی سال میں ریسٹورانٹس کے لئے کیش

ادائیگی پر ٹیکس کی شرح 16% جبکہ بذریعہ کریڈ ٹ یا ڈیبٹ کارڈ ادائیگی پر5% کیا گیا تھا۔اس سے

نہ صرف معیشت کوڈاکیومینٹیشن میں مدد ملی بلکہ عوام میں اس اقدام کو بہت سراہا گیا۔ اگلے مالی

سال کے لئے موبائل والٹ اور QRکوڈ کے ذریعے ادائیگی پر بھی ٹیکس کی شرح5% کرنے کی

تجویز دی گئی ہے۔ محکمہ ایکسائزاینڈ ٹیکسیشن کے تحت رواں مالی سال کی طرح آئندہ مالی سال میں

بھی پراپرٹی ٹیکس دو اقساط میں ادا کیا جاسکے گا۔ پراپرٹی ٹیکس اور موٹر وہیکل ٹیکس پر نافذ شدہ

سر چارج پینلٹی کوآئندہ مالی سال کی صرف آخری دو سہ ماہیوں تک محدود کرنے کی تجویز دی گئی

ہے۔ماحولیاتی آلودگی پر کنٹرول کے لیے برقی توانائی سے چلنے والی گاڑیوں کی خریدو فروخت پر

حوصلہ افزائی کے لیےElectric Vehicles کی رجسٹریشن فیس اور ٹوکن فیس کی مد میں 50%اور

75% تک چھوٹ دی جائے گی۔ معاشی ترقی میں صنعت و تجارت کی اہمیت کے پیش نظر 28سو

ایکڑ پر محیط علامہ اقبال اِنڈسٹریل سٹی فیصل آباد،بہاولپوراور سیالکوٹ میں اِنڈسٹریل اسٹیٹ اور قائد

اعظم بزنس پارک شیخوپورہ جیسے منصوبے زیر تعمیر ہیں۔فیصل آباد اور لاہورکی انڈسٹریل اسٹیٹس

میں ترقیاتی کاموں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کئے جائیں گے۔ ایسے مقاصد کے حصول کے

لئے3ارب 50کروڑروپے کے فنڈزمہیاکئے جا رہے ہیں تاکہ معاشی اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ

دیا جاسکے ۔سیالکوٹ چیمبر آف کامرس اور انڈسٹری کے تعاون سے 50کروڑ روپے کی لاگت سے

Sialkot Tannery Zone کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس کے لئے آئندہ مالی سال میں 35کروڑ

روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔10 ارب روپے کی مجموعی لاگت سے پنجاب روزگار پروگرام کے

تحت آسان شرائط پر قرضے فراہم کئے جارہے ہیں۔ جنابِ اسپیکر! مہنگائی اس وقت نہایت اہم مسئلہ

ہے۔ ہم اشیا خوردو نوش کی قیمتوں کو عام آدمی کی پہنچ میں رکھنے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں۔ اس

ضمن میں سہولت بازاروں کا قیام حکومتِ پنجاب کی ایک خصوصی کاوش ہے۔ اِ س وقت پنجاب کے

مختلف اضلاع میں 362سہولت بازار کام کر رہے ہیں جو کہ عوام ا لناس کو معیاری اور سستی اشیا

ضروریہ ایک ہی چھت تلے فراہم کررہے ہیں۔مزید یہ کہ ہم ان بازاروں کو مستقل بنیادوں پر قائم

کرنے کے لئے ماڈل بازار اتھارٹی کا قیام عمل میں لا رہے ہیں جس کے تحت پنجاب کے تما م بڑے

شہروں میں ماڈل بازار تعمیر کئے جائیں گے جس کے لئے اگلے سال میں ایک ارب 50کروڑ روپے

کی خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔ جناب سپیکر! اس وقت پاکستان کا سب سے قیمتی سرمایہ

ہمارے نو جوان ہیں جو ملک کی کل آبادی کا 65 فیصد ہیں موجودہ حکومت اس اثاثے کی اہمیت اور

صلاحیت سے بخوبی آگاہ ہے ۔نوجوانوں کو ملکی ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم

کرنے کے لئے آئندہ مالی سال میں ایشین ڈویلپمنٹ بینک کے تعاون سے “Improving work force

Readiness in Punjab”کے نام سے شروع کیا جا رہا ہے ۔ جس کے تحت 40ہزار طلبہ کی فنی

تربیت کی جائے گی۔ اس منصوبے کے لئے ایشین ڈویلپمنٹ بینک 100ملین ڈالر اور پنجاب حکومت

10ملین ڈالر خرچ کرے گی ۔ اس کے علاوہ ہنر مند نوجوان پروگرام کے تحت نوجوانوں کی تربیت کا

سلسلہ بھی جاری ہے۔معاشی ترقی میں مواصلات کے جدید نظام کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ اسی

لئے حکومت پنجاب جدید اور معیاری روڈ نیٹ ورک کی تعمیر کو اہمیت دے رہی ہے ۔ ہم آئندہ مالی

سال سے سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور توسیع کا ایک جامع منصوبہ شروع کر رہے ہیں۔ اس

منصوبے کے تحت صوبے کے طول و عرض میں 380 ارب روپے مالیت کی 1769 ترقیاتی سکیمیں

شروع کی جائیں گی جن کے تحت13ہزار کلو میٹر لمبائی کی سڑکوں کی تعمیرو مرمت اور توسیع

مکمل کی جائے گی۔اس مقصد کے لئے 58ارب روپے کی خطیر رقم مختص کی جا رہی ہے۔ یہاں بتانا

انتہائی اہم ہے کہ ہماری مسلسل کوششوں سے وفاقی حکومت صوبے میں جدید شاہراہوں کی تعمیرو

توسیع کے ایک وسیع پروگرام کے لئے مالی وسائل مہیا کر نے پر آمادہ ہو گئی ہے۔اس پروگرام کے

تحت صوبے میں 73ارب کی مالیت سے 776 کلو میٹر لمبی 13اہم شاہراہوں کی تعمیرو توسیع کا کام

شروع کیا جا رہا ہے ۔جس کے لئے آئندہ مالی سال میں 39ارب روپے کے فنڈز مختص کئے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ8ارب روپے کی مالیت سے CM Road Rehablitation Programme کا آغاز کیا جا

رہا ہے جس کے تحت صوبے کی خستہ حال سڑکوں کی تعمیرو بحالی کے کام مکمل کئے جائیں گے۔

مجموعی طور پر آئندہ سال صوبے میں سڑکوں کی تعمیر و توسیع اور بحالی کے منصوبوں پر

105ارب روپے کی ریکارڈ رقم خرچ کی جائے گی۔اپنا گھر ہر خاندان کا خواب ہو تا ہے موجودہ دور

میں کم آمدن والے گھرانوں کا سب سے بڑا مسئلہ گھرکا حصول ہے جس کے لیے وہ ساری زندگی

محنت کرتے ہیں۔ تحریک انصاف کی قیادت پہلے دن سے کم وسیلہ خاندانوں کے اس مسئلہ کے حل

کے لیے کوشاں ہے ۔آج مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے ۔ پنجاب حکومت آئندہ مالی

سال میں پری اربن ہاؤسنگ سکیم متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت اوسطاایک گھر 14لاکھ روپے

کی قیمت پر میسر ہوگا ۔اِس منصوبے کے تحت انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ کیلئے 3ارب روپے کے فنڈز

مختص کیے گئے ہیں۔ اِسی طرح نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت ہم HUD&PHE کے

محکمے کو ایک ارب روپے کے فنڈز فراہم کیے جا رہے ہیں جس سے پرائیویٹ ڈویلپرز کے تعاون

سے وضع کردہ طریقہ کار کے تحت لوگوں کیلئے گھروں کی تعمیرممکن ہو سکے گی۔نیا پاکستان

اسکیم کے تحت 35,000 اپارٹمنٹس بنائے جائیں گے ۔اس کے علاوہ پنجاب کے شہروں میں جدید

انفراسڑکچر اور شہری سہولیات کی فراہمی کے لئے 22 ارب 44 کروڑ روپے کے فنڈز دئیے جا

رہے ہیں۔ جنابِ اسپیکر! پینے کے صاف پانی کی فراہمی ہماری حکومت کی اہم ترین ترجیحات میں

شامل ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت پنجاب آلودہ پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے

سنگین مسئلے کے مستقل حل کے لئے بھی کوشاں ہے ۔ہماری حکومت ورلڈ بینک کی معاونت

سے86ارب روپے کی لاگت سے 16پسماندہ ترین تحصیلوں میں ایک جامع منصوبے کا آغاز کر رہی

ہے جس کے تحت 100% دیہی آبادی کو پینے کے صاف پانی،سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ اور نکاسی آب

کی سہولیات فراہم کی جائیں گیں۔ آئندہ مالی سال میں اِس پروگرام کیلئے 4ارب روپے مختص کیے جا

رہے ہیں۔ اسی طرح ماحولیاتی آلودگی کے تدارک کے لیے واٹر ٹریٹ منٹ پلانٹکی تنصیب کا ایک

مربوط پروگرام شروع کیا جا رہا ہے جس کے تحت 5 بڑے شہر جس میں لاہور اور فیصل آباد شامل

ہیں ، یہ پلانٹس لگائے جائیں گے۔اِس مقصد کے لئے بجٹ 2021-22 میں 5 ارب روپے مختص کئے

گئے ہیں۔ یہ معزز ایوان آگا ہ ہے کہ پنجاب حکومت نے جامع حکمتِ عملی کے تحت پنجاب آبِ پاک

اتھارٹی تشکیل دی ہے جو دیہی اور دور دراز علاقوں کو صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ مزید

برآں ہم پانچ سالہ واسا ٹرانسفارمیشن پلان بھی متعارف کروا رہے ہیں جس کے تحت بڑے شہروں کی

پانی کی ضروریات پورا کرنے کیلئیواسا لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالا، فیصل آباد اور ملتان جامع

بزنس پلان تشکیل دیں گے تا کہ یہ ادارے خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہو سکیں۔ہم سب جانتے ہیں

کہ پاکستان اور بالخصوص پنجاب کی معاشی ترقی کا انحصار زراعت کے شعبے پر ہے ۔ اسی لیے

اس شعبے میں سرمایہ کاری وقت کی اہم ضرورت ہے ۔اِسی حقیقت کے پیشِ نظر اگلے مالی سال میں

محکمہ زراعت کے ترقیاتی بجٹ کو306% کے تاریخی اضافے کے ساتھ7ارب 75کروڑروپے سے

بڑھا کر31ارب50 کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے۔ آئندہ بجٹ میں اگریکلچرل ٹرانفارمیشن پلان

کے تحت زراعت کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے پنجاب حکومت وفاقی حکومت

کے وژن سے ہم آہنگ کئی انقلابی اصلاحات متعارف کروانے جا رہی ہے ۔یہ پروگرام دورِ حاضر

کے جدید تقاضوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے نا صرف زرعی پیداوار میں اضافے کا موجب ہوگا بلکہ

کسان کا معیارِ زندگی میں بہتر ی کا بھی امین ہو گا۔ علاوہ ازیں اس پروگرام کے تحت کسان کارڈ کا

اجرا، فارم میکانائزیشن میں جدت کا فروغ، آب پاشی میں پانی کا کفایت شعارانہ استعمال، کسان تک

قرضوں کی آسان فراہمی اور Agricultural Research and Extension اداروں میں اصلاحات

وغیرہ شامل ہیں۔دو سال پر محیط اِس اہم منصوبے کے لئے7ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز

ہے۔ اسی طرح نیشنل پروگرام برائے Improvement of Water Courses کے لیے5ارب روپے

رکھے گئے ہیں۔کسان کی خوشحالی اور اس کی فصل کی پیداوار پر اٹھنے والے اخراجات میں کمی

لانے کی خاطر کھاد، بیج اور زرعی ادویات وغیرہ کی خریداری ، فصل بیمہ (Crop Insurance)،

آسان شرائط پر قرضوں کی فراہمی پر سبسڈی کو 5 ارب 82 کروڑ روپے سے بڑھا کر 7 ارب6

کروڑ روپے کیا جا رہا ہے ۔وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان صاحب کی طرف سے فراہم کردہ کسان

دوست زرعی پیکج کے ہی ثمرات ہیں کہ گندم، چاول اور گنے کی پیداوار میں اپنے اہداف سے کہیں

زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جنابِ اسپیکر! لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کے لیے مجموعی طور

پر5 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ جس میں جاری منصوبہ جات کیلئے 1 ارب

58 کروڑ کی رقم اور نئے منصوبوں کیلئے3 ارب42 کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی جا

رہی ہے۔وزیراعظم پاکستان کے زرعی خوشحالی منصوبہ کے تحت حکومت پنجاب کی جانب سے

صوبہ بھر میں گھریلو مرغ بانی کے فروغ کیلئے اس سال 11 کروڑ کی رقم رکھنے کی تجویز ہے۔

جانوروں کی صحت کے حوالے سے ڈویژن کی سطح پر ویٹرنری ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کی اپ

گریڈیشن کا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس کیلئے10کروڑ سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز

ہے۔ جانوروں کی نشوونما کے حوالے سے کسانوں کیلئے 50 فیصد سبسڈی پر Silage مشین کی

فراہمی کا منصوبہ بھی لایا جا رہا ہے جس کے لئے 32 کروڑ سے زائد رقم رکھنے کی تجویز ہے۔!

شجر کاری کو فروغ دیئے بغیر بڑھتی ہوئی آلودگی اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں

پر قابو پانا ممکن نہیں۔ چنانچہ حکومت پنجاب نے اس شعبے کے لئے مجموعی طور پر 4ارب روپے

کی رقم مختص کرنے کی تجویز کی ہے۔ جس کے تحت صوبہ بھر میں شجر کاری کے اقدامات کئے

جائیں گے۔ وزیراعظم پاکستان کے 10بلین ٹری پروگرام کے لئے 2 ارب 56کروڑ سے زائد رقم

رکھنے کی تجویز ہے۔جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے آئندہ مالی سال کے لیے 1ارب روپے کی رقم

مختص کی گئی ہے۔وزیراعظم کے وژن کے مطابق ہیڈبلوکی پر ، نمل لیک کی آرائش اور چیچہ

وطنی کی جنگلی حیات کا فارم بنانے کا منصوبہ بھی ہماری آئندہ مالی سال کی ترقیاتی سرگرمیوں میں

شامل ہے۔محکمہ ماہی پروری کیلئے تقریبا 1 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔ جنابِ

سپیکر!شروع دن سے ہی سماجی تحفظ کا شعبہ ہمارے اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔اس ضمن

میں پنجاب سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے لیے4 ارب 50 کروڑ روپے کی خطیر رقم مختص کی گئی

ہے جس سے4 لاکھ 60 ہزار افراد مستفید ہونگے۔ اس پروگرام میں بزرگوں کے لیے باہمت بزرگ

پروگرام، فنکاروں کے لیے صلہ فن،خواجہ سراؤں کے لیے مساوات پروگرام، تیزاب گردی سے

متاثرہ خواتین کے لیے نئی زندگی پروگرام، بیواؤں اور یتیموں کے لیے سرپرست پروگرام جبکہ

سویلین شہدا کے لیے خراج الشہدا پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔

پنجاب تنخواہوں پنشن اضافہ

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں