61

غیر ملکی افواج کی خدمات پر مامورافغان وطن نہ چھوڑیں، طالبان

Spread the love

افغان وطن نہ چھوڑیں

کابل (صرف اردو آن ائن نیوز) غیر ملکی افواج کیلئے کام کرنیوالے افغان شہریوں کو طالبان نے یقین

دلایا ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد وہ اپنے وطن میں محفوظ رہیں گے ۔ افغان طالبان کی

طرف سے سامنے آنیوالے بیان میں کہا گیا ہے افغان باشندے جو غیر ملکی افواج کیلئے کام کرتے

تھے انہیں فوجی انخلا کے بعد اپنا ملک ترک نہیں کرنا چاہیے کیونکہ وہ بالکل محفوظ رہیں گے۔

طالبان کے بیان میں خاص طور سے کہا گیا کہ کسی کو بھی فی الحال اپنا ملک نہیں چھوڑنا چاہیے۔

دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش انہیں پریشان نہیں کریگی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق

عشروں سے جنگ، جارحیت اور تشدد کے شکار ملک افغانستان میں گزشتہ بیس سالوں کے دوران

مقامی افغان باشندوں نے سرزمین پر تعینات امریکی اور دیگر بین الاقوامی فورسز کیلئے بطور

مترجم، سکیورٹی گارڈز اور دیگر شعبوں میں ان کیلئے امدادی خدمات انجام دی ہیں۔اب ان مقامی

افغان باشندوں کو سخت خدشات لاحق ہیں کہ انکے ملک سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے

بعد انہیں طالبان سے شدید خطرات لاحق ہوں گے کیونکہ طالبان کی طرف سے انتقامی کارروائی کے

امکانات قوی ہیں۔ان خدشات کے سبب بہت سے افغان باشندوں نے ملک ترک کرنے کے ارادے سے

مختلف بیرون ممالک میں خصوصی ویزے کی درخواست دے رکھی ہے۔ بہت سے ممالک جن میں

امریکا، جرمنی اور برطانیہ شامل ہیں نے اپنے مقامی عملے کو دوبارہ آباد کرنے کیلئے اپنے پروگرام

تیار کر رکھے ہیں۔کابل میں قائم امریکی سفارتخانے کے اعداد و شمار کے مطابق 18 ہزار افغان

باشندوں نے خصوصی امیگریشن ویزا کی درخواستیں دے رکھی ہیں۔اطلاعات کے مطابق ہزاروں

ایسے افغان مقامی باشندے جنہوں نے غیر ملکی افواج کیلئے افغا نستان میں خدمات انجام دی تھیں،

متعلقہ ممالک میں نئے سرے سے آباد ہو چْکے ہیں۔امریکی غیر سرکاری تنظیم No One Left

Behind کے ذرائع کے مطابق قریب 300 افراد جنہوں نے امریکی فوج اور فوجیوں کے خاندانوں

کیلئے بطور مقامی عملہ اپنی خدمات انجام دی تھیں 2016 ء سے اب تک ہلاک ہو چْکے ہیں۔امریکی

غیر سرکاری تنظیم نو ون لفٹ بیہائنڈ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ اب یہ

عسکریت پسند یا طالبان باغی گروپ مقامی افغانوں سے ان کے ماضی کے اقدامات اور غیر ملکی

افواج کو جو انہوں نے اپنی خدمات پیش کی تھیں اْس پر معذرت کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور

انہیں تاکید کرنا چاہتے ہیں کہ یہ مستقبل میں پھر کبھی اس طرح کی سرگرمیوں میں شامل نہ ہوں ۔

طالبان کی طرف سے دیے گئے تازہ ترین بیان میں مزید کہا گیا جب وہ براہ راست ہمارے سامنے

دشمن کی حیثیت سے کھڑے تھے تب ہم نے انہیں دشمن کی حیثیت سے ہی د یکھا تاہم جب انہوں نے

دشمنوں کی صفوں کو ترک کر دیا اور ایک عام افغان شہری کی طرح اپنے ملک میں زندگی بسر

کرنے کا فیصلہ کر لیا تو انہیں کسی قسم کی پریشانی اور مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

افغان وطن نہ چھوڑیں

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں