66

گھوٹکی ،2 مسافر ٹرینوں میں تصادم، 51افراد جاں بحق

Spread the love

مسافر ٹرینوں میں تصادم

گھوٹکی (صرف اردو آن لائن نیوز) سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی کے قریب دو مسافر ٹرینوں

کے تصادم کے نتیجے میں 50افراد جاں بحق اور 100سے زائدزخمی ہوگئے،ملت ایکسپریس کی

بوگیاں الٹ کر دوسرے ٹریک پر جاگریں، امدادی کارروائیوں میں پاک فوج اور رینجرز کے جوان

شریک ہوئے پاک فوج کے 2 ہیلی کاپٹر ز بھی ریسکیو آپریشن میں شامل رہے ،وزیر ریلوے محمد

اعظم خان سواتی نے ٹرین حادثے پر نوٹس لیتے ہوئے 24 گھنٹوں میں انکوائری کا حکم دیدیا ۔

ترجمان ریلوے کے مطابق ٹرین حادثہ رات 3 بج کر 45 منٹ کے قریب ہوا، ملت ایکسپریس حادثے

کے فوری بعد سرسید ایکسپریس ٹر یک پر گری بوگیوں سے جاٹکرائی، سرسید ایکسپریس نے ولہار

سٹیشن کو 3 بج کر 25 منٹ پر کراس کیا، ملت ایکسپریس نے ڈہرکی کو 3 بج کر 30 منٹ پر چھوڑا،

ماچھی گوٹھ سے ڈہرکی تک ٹریک بوسیدہ اور مرمت کرنیوالا ہے ۔ حادثے کے نتیجے میں اب تک

51افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جبکہ سو سے زائد زخمی ہیں۔ ہلاک ہونیوالوں

میں زیادہ تر ملت ایکسپریس میں سوار تھے جبکہ سرسید ایکسپر یس کے زیادہ مسافر زخمی ہوئے

ہیں۔ ایس ایس پی میرپور ماتھیلو عمر طفیل کا کہنا ہے کہ حادثے میں 7 بوگیاں متاثر ہوئی ہیں جن میں

3 بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہیں۔مقامی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ 6 سے 8 بوگیاں ایک دوسرے

میں پھنسی گئیں ، ان بوگیوں میں پھنسے متعدد مسافر وں کو بوگیاں کاٹ کر نکالا گیا جب کہ مقامی

ریسکیو رضاکار کے علاوہ رینجرز اور پاک فوج کے اہلکار بھی امدادی کاموں میں مصروف رہے ۔

۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی سے سرگودھا جانے والی ملت ایکسپریس کی 6 بوگیاں ٹریک اتر

کر دوسری ٹریک پر چلی گئیں، اسی اثنا میں مخالف سمت سے آنے والی سر سید ایکسپریس بھی پہنچ

گئی اور ملت ایکسپریس کی اتری ہوئی بوگیوں سے ٹکرا گئی۔ حادثے کے حوالے سے عینی شاہد کے

مطابق ملت ایکسپریس میں لگائی گئی بوگی نمبر 10 کا ہک خراب تھا، ڈرائیور نے 10 نمبر بوگی کو

گاڑی میں شامل کرنے سے انکار کیا تھا لیکن مکینیکل ڈیپارٹمنٹ نے زبردستی 10 نمبر بوگی کو

گاڑی میں ڈالا جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا، 10 نمبر بوگی ہی رونتی اسٹیشن کے قریب آ کر پٹری

سے اتر گئی جس کی وجہ سے حادثہ ہوا 11 اور 12 نمبر ہوگی کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ حادثے کے

نتیجے میں سندھ اور پنجاب کے درمیان ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہوگئی ہے۔ ریلوے انتظامیہ کا

کہنا ہے کہ پہلے زخمیوں کو نکال کر بوگیوں کو ہٹایا جائے گا، اس کے بعد ہی ٹرینوں کی بحالی کا

عمل شروع کیا جاسکے گا۔ وزیر ریلوے محمد اعظم خان سواتی نے ٹرین حادثے پر نوٹس لیتے ہوئے

24 گھنٹوں میں انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔وزیرریلوے اعظم خان سواتی نے جائے حادثہ پر امدادی

کارروائیاں تیزی کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ذمہ داران کیخلاف سخت کارروائی اور سزا دینے کے

احکامات جاری کردیے۔ اعظم خان سواتی ٹرین حادثے کے جائے وقوعہ پر پہنچے اور واقعے

پراظہارافسوس کرتے ہوئے کہا اﷲ مرحومین کے درجات بلند ،لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ اس

موقع پر وزیر ریلوے کو ڈی ایس سکھر نے حادثے کے حوالے سے بریفنگ دی ، اعظم خان سواتی

نے ٹرین حادثے کا جائزہ لیا اور امدادی کارروائیاں تیزی کرنیکی ہدایت کردی۔ ۔ وزیرریلوے نے ٹرین

حادثے کی فوری طور پر ابتدائی رپورٹ پیش کرنے کا بھی حکم دیا۔ بعد ازاں اعظم سواتی زخمیوں

کی عیادت کے لئے اوباڑواسپتال پہنچے ، اس موقع پر انھوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن میں حصہ

لینے والے اداروں،مقامی افراد کا مشکور ہوں، واقعے کی تمام تحقیقات کی میں خود نگرانی کروں گا

اور متاثر ہونے والے مسافروں کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔ دوسری جانب ٹرین حادثہ میں

شیخ زیداسپتال میں منتقل کئے گئے زخمیوں کے نام سامنے آگئے ہیں ، زخمیوں میں محمداسلم

ولدگمیرخان ،مقبول احمدولداقبال،خلیل الرحمان ولد عبدالعلیم ، آسیہ ولد محمد عمران،روبینہ ولداحسن

الہی،عذراولداﷲ رکھا، نصیرولداکبر،اعجاز حسین ،ممتاز بی بی ولد اﷲ دتہ،سمیع ولد شہزاد شامل ہیں۔

دیگر زخمیوں میں حسین ربانی ولدربانی ،اﷲ دتہ ولد بشیر احمد ،بشیراحمدولدپٹھانے خان ، آفتاب

ولدایازحسین،بابرولدفیاض،یاسمین ،حفصہ ولد حضور، گل شبیر ولد ولایت خان،محمداسحاق ولدبڈن

خان ، خداداد،کائنات ،کوثرولدمہدی عباس،جاویداخترولدنورالہی ، گل صاحب،مشرف ولدطفیل

،دلاورولد ارشد بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف وزیر اعظم عمران خان نے ڈہرکی کے قریب مسافر

ٹرینوں کے حادثے میں مسافروں کی اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے

دیا۔انہوں نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پرعمران خان نے کہا کہ وزارت ریلوے کو سیفٹی

کی خرابیوں کی جامع تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ صدر مملکت عارف علوی نے ڈہرکی ٹرین حادثے پر

دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ اپنے بیان میں صدر مملکت نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاں

پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ۔صدر مملکت نے اہل خانہ سے اظہارِ ہمدردی اور جاں بحق افراد

کیلئے دعائے مغفرت کی اور کہاکہ اﷲ تعالیٰ جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے اور اہل خانہ کو صبر

جمیل عطا فرمائے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے ڈہرکی کے قریب ٹرین

حادثے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سندھ ریسکیو آپریشن کے لیے ٹھوس اقدامات

اٹھائے، وفاقی حکومت جاں بحق افراد کے لواحقین کو معاوضہ ادا کرے۔جے یو آئی سربراہ مولانا

فضل الرحمان نے گھوٹکی کے قریب ٹرین حادثے میں درجنوں قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہار

افسوس کرتے ہوئے واقعہ کی انکوائری کی جائے۔ اپنے بیان میں مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ٹرین

حادثے روزمرہ کا معمول بن گئے ہیں،ایسے واقعات کی روک تھام تب ہی ممکن ہے جب غفلت کے

مرتکب افراد کو سزا دی جائے گی۔

مسافر ٹرینوں میں تصادم

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں