افغانستان میں بد امنی سے 25

افغانستان میں بد امنی سے پاکستان، تاجکستان متاثر ہونگے ، عمران خان

Spread the love

افغانستان میں بد امنی سے

اسلام آ باد (صرف اردو آن لائن نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاک بھارت تعلقات تعطل

کا شکار ہیں ،بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے اقدامات واپس نہ لئے

جانے تک تعلقات بہتر نہیں ہوسکتے،پاک بھارت تعلقات بہتر نہ ہونے کا نقصان دونوں ممالک سمیت

وسطی ایشیا کو بھی ہے،تعلقات بہتر ہونے سے پورے خطے کے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں،افغانستان

میں انتشار کی صورت میں دہشت گردی میں اضافہ ہو گا، افغانستان میں انتشار کی وجہ سے پاک

تاجک تجارت بھی متاثر ہوگی اور دہشت گردی بڑھ جائے گی، پاکستان اور تاجکستان کو افغانستان

سے آنے والے دہشت گردوں سے خطرہ ہے، تاجکستان کے ساتھ تجارتی روابط مضبوط ہونگے،

گوادر کے ذریعے پاکستان تاجکستان تجارت ہوسکے گی۔انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور تاجکستان کے

ساتھ کئی مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہوئے ہیں اور دو طرفہ تعلقات کو مزید استحکام دیا جائے گا،

اسلام کو شدت پسندی اور دہشت گردی سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ ان دونوں وجوہات کی وجہ سے

اسلاموفوبیا پھیل رہا ہے جبکہ تاجک صدر نے کہا کہ تاجکستان پاکستان کو اہم برادر ملک سمجھتا

ہے،پاکستان کے ساتھ تجارت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے خواہاں ہیں،امن وامان سے متعلق

پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہیں، دورہ پاکستان میں ہونے والے معاہدوں سے دونوں ممالک کے

درمیان تعاون مزید بڑھے گا۔ بدھ کوپاکستان اور تاجکستان میں مختلف معاہدوں پر دستخط کی تقریب

ہوئی۔ اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان بھی موجود تھے۔

تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کے معاہدوں پر دستخط کیے

گئے جبکہ وزیر اعظم عمران خان اور تاجکستا ن کے صدر امام علی رحمان نے یاداشتوں پر دستخط

کیے۔ اس موقع پر تاجکستان کے صدر امام علی رحمن کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ تاجکستان کے صدر کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں ۔ انہوں

نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان تجارت بہت اہمیت رکھتی ہے اور تجارت کے شعبے

میں دونوں ممالک کے روابط مضبوط ہوں گے جس میں گوادر کنیکٹیوٹی بہت اہمیت رکھتی ہے،

جبکہ تاجکستان کے ساتھ تعلیم اور دفاع کے شعبے میں بھی معاہدے کیے ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ

پاکستان کے تاجکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات بہت اہمیت رکھتے ہیں، اس کے حوالے سے تبادلہ خیال

کیا گیا اور مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کو

مستقبل کے حوالے سے کئی مشترہ چیلنجز کا سامنا ہے، تاجکستان سے تجارت اور کنیکٹیوٹی بڑھانے

کے لیے افغانستان میں امن بہت ضروری ہے، دونوں ممالک کو یہ خدشہ ہے کہ امریکا کے انخلا تک

افغانستان میں سیاسی تصفیہ نہ ہوا تو کہیں سوویت یونین کے چھوڑ کر جانے کے بعد والی صورتحال

نہ پیدا ہوجائے جو دونوں ممالک کے لیے بہت نقصان دہ ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں انتشار

پھیلنے کی صورت میں ہماری تجارت بھی متاثر ہوگی اور دہشت گردی بڑھنے کا بھی خدشہ ہے،

ابھی بھی پاکستان کو افغانستان سے دہشت گردی کا سامنا ہے اور استحکام نہ ہونے کی وجہ سے بڑھ

جائے گی ۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ افغانستان میں سیاسی تصفیہ ہو

تاکہ جب امریکا وہاں سے جائے تو استحکام ہو اور ایسی متفقہ حکومت ہو جو اس انتشار کو روک

سکے، اس لیے دونوں ممالک نے اتفاق کیا ہے کہ دیگر ممالک کو ساتھ ملا کر افغانستان میں سیاسی

تصفیے کی کوشش کی جائے گی ۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان اور تاجکستان کو جو دوسرا

مشترکہ چیلنج درپیش ہے وہ موسمیاتی تبدیلی کا ہے، گلوبل وارمنگ کی وجہ سے درجہ حرارت بڑھ

رہا ہے، تاجکستان کا بھی پورا پانی گلیشیئرز سے آتا ہے جبکہ پاکستانی دریاں میں بھی 80 فیصد پانی

گلیشیئرز سے آتا ہے، اس لیے ہم نے عالمی سطح پر اس حوالے سے زیادہ آواز بلند کرنے کا فیصلہ

کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی فوائد اس وقت حاصل کر سکتا ہے جب خطے میں امن ہو،

بھارت کی طرف سے 2019 میں مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے یکطرفہ اقدام اٹھائے جانے کے بعد

ہمارے لیے ان کے ساتھ تجارت معمول پر لانا بہت مشکل ہے، کیونکہ یہ کشمیریو ں کی قربانیوں کے

ساتھ غداری ہوگی، لہذا بھارت جب تک یہ اقدامات واپس نہیں لیتا ہمارے تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے

جس کا نقصان ان دونوں ممالک کے علاوہ پورے وسطی ایشیا کو ہوگا ۔ اس موقع پر امام علی رحمن

نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے آج کی ملاقات روایتی دوستانہ ماحول میں ہوئی جس میں

مختلف امور پر تبادلہ خیال ہوا، جبکہ تاجکستان دونوں ممالک کے اعلی وفود کے درمیان ملاقات سے

مطمئن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وفود کی سطح پر تعمیری بات چیت کے دوران دونوں ممالک کے بین

الجہتی تعلقات پر گفتگو ہوئی اور کئی دوطرفہ معاملات پر نکتہ نظر میں مماثلت پائی گئی ۔اس سے

قبل تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کی وزیراعظم ہاس آمد پر وزیراعظم عمران خان نے معزز

مہمان کا استقبال کیا اور انھیں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔۔ تاجکستان کے صدر کی وزیراعظم ہاوس آمد

پر دونوں ملکوں کے قومی ترانہ بجائے گئے اور امام علی رحمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا ، جس

کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے تاجک صدر سے کابینہ ارکان کا تعارف کروایا۔ اس سے قبل وزیر

خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان، تاجکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید

مستحکم بنانے کے لیے پر عزم ہے، دونوں ممالک کی اعلی قیادت، ان دو طرفہ مراسم کو مزید وسعت

دینے اور مستحکم بنانے کیلئے کوشاں ہے ، کاسا 1000 جیسے اہم منصوبوں کی بروقت تکمیل،

جنوبی و وسطی ایشیا کے مابین توانائی راہداری کے قیام میں معاون ثابت ہوگی، پاکستان خطے کی

تعمیر و ترقی کیلئے افغانستان میں دیرپا امن کو ناگزیر سمجھتا ہے، افغانستان میں قیام امن کیلئے

تاجکستان کی کوششیں قابل ستائش ہیں، پاکستان، افغانستان سمیت خطے میں قیام امن کیلئے اپنی

مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تاجک صدر امام علی رحمان

سے ملاقات کی، اس موقع پر سیکرٹری خارجہ سہیل محمود اور تاجکستان میں پاکستان کے سفیر

عمران حیدر بھی موجود تھے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے تاجکستان کے صدر کو پاکستان آمد

پر خوش آمدید کہا، اس دوران دو طرفہ تعلقات، مختلف شعبہ جات میں دو طرفہ تعاون کے فروغ

سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر خارجہ نے اپنے حالیہ دورہ تاجکستان کے

دوران ہونے والی ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسس اجلاس کے کامیاب

انعقاد اور بھرپور میزبانی پر تاجک صدر کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ

پاکستان اور تاجکستان کے مابین گہرے تاریخی برادرانہ تعلقات ہیں جو یکساں مذہبی، تہذیبی اور

ثقافتی بنیادوں پر استوار ہیں، پاکستان، تاجکستان کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے

لیے پر عزم ہے، خوش آئند بات یہ ہے کہ دونوں ممالک کی اعلی قیادت، ان دو طرفہ مراسم کو مزید

وسعت دینے اور مستحکم بنانے کیلئے کوشاں ہے۔بعد ازاں پاکستان اور تاجکستان کے درمیان مختلف

شعبوں میں 12 معاہدوں پر دستخط ہو گئے ، معاہدوں سے متعلق اعلامیہ بھی جاری کردیا گیا ۔

اعلامیہ کے مطابق پاکستان اور تاجکستان میں مختلف معاہدوں پر دستخط کی تقریب اسلام آباد میں

ہوئی ، اس موقع پر وزیر اعظم عمران خان اور تاجکستان کے صدر امام علی رحمان بھی موجود

تھے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان اور تاجکستان کے درمیان انٹرنیشنل روڈ ٹرانسپورٹ کے

معاہدے پر دستخط کیے گئے ، پاک تاجک وزرائے خارجہ کے درمیان تعاون پروگرام کا معاہدہ بھی

طے پایا ، چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری تاجکستان اور کوئٹہ، سیالکوٹ، لاہور چیمبرز کے مابین

معاہدہ بھی ہوا ہے ، پاکستان اور تاجکستان میں کرپشن کی روک تھام میں تعاون کی مفاہمتی یاد داشت

پر دستخط کیے گئے ، کرپشن سے متعلق روک تھام کی یاد داشت نیب اور تاجک ایجنسی میں طے

پائی ، جب کہ پاکستان اور تاجکستان میں فن اور ثقافت کے شعبے اور ہنگامی صورتِ حال سے

نمٹنے میں تعاون کے معاہدے بھی ہوئے ہیں۔اعلامیہ کے مطابق کامسیٹس اور ٹیکنیکل یونیورسٹی

تاجکستان کے درمیان مفاہمتی یاد داشت پر دستخط بھی کیے گئے جب کہ انڈس یونیورسٹی اور تاجک

ٹیکنیکل یونیورسٹی میں تعاون کا معاہدہ طے پایا ، نمل اور تاجک انسٹیٹیوٹ آف لینگویجز کے درمیان

مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کیے گئے

افغانستان میں بد امنی سے

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں