شاعر افسانہ نگار مترجم 78

حادثے سے سانحے تک(افسانہ) نجم الدین احمد (بہاولنگر)

Spread the love

’’میں نے لڑکی کا پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ اُس کانرخرہ اُدھڑا ہوا تھا۔ گردن، بازوؤں، پستانوں، پیٹ، رانوں اور کمر کے بالائی حِصّے پر بے دردی سے بھنبھوڑنے سے گہرے زخم تھے لیکن چہرے اور باقی بدن پر خراش تک نہیں تھی۔ کلائیوں اور ٹخنوں سے اُوپر پنڈلیوں پر رَسّی کے بٹوں کے لہریے دار گہرے نشان جیسے رَسّی سے سختی سے ہاتھ پیر باندھے گئے ہوں۔ موت کا وقت: رات دس بج کر بیس منٹ، موت کی وجہ: شہ رگ اور سانس کی نالی کٹنے سے خُون کا کثیر بہاؤ اور تنفس کی بندش، بے حد خوف ودہشت کے باعث دِل کی دھڑکن کا بند ہونا تھا۔‘‘(حادثے سانحے نجم الدین)

’’اور میں نے لڑکے کا پوسٹ مارٹم تو نہیں کیا تھا کیوں کہ اُس کے والد نے اجازت نہیں دی تھی البتہ سرسری معائنہ ضرور کیا تھا۔ وہ خُود کشی تھی۔ نائن ایم ایم پسٹل کی گولی کنپٹی کے دائیں جانب سے داخل ہو کر ترچھی گھومتی ہوئی بائیں کان کے عقب سے حرام مغز کو مَس کرتی ہوئی نکل گئی۔ اور ہاں ایک اَور اہم بات…….. میری نظریں اتفاقاً اُس کے پیٹ کے نچلے حصے کی دائیں سمت ہٹی ہوئی شرٹ کی وجہ سے چلی گئیں۔ میں نے زخم کے بڑے بڑے اور پُرانے ٹانکوں کے نشان دیکھے تو تجسس کا شکار ہو گیا۔ میں نے لڑکے کی پینٹ اُتروا کر دیکھا کہ…!‘‘

’’فہیم ہمارے ساتھ کاسماس (Cosmos) ہائی سکول میں تیسری جماعت میں داخل ہوا تھا۔ اُس نے پہلی دو جماعتیں گھر ہی پر پڑھی تھیں۔ وہ ایک دبلا پتلا اور پُھرتیلا لڑکا تھا۔‘‘
’’ہاں، علی ٹھیک کہہ رہا ہے۔ پہلے چند ہفتے وہ خاموش رہا۔ پڑھائی میں بھی اِتنا تیز نہیں تھا۔ سست اور کاہل تھا۔‘‘

’’مجھے تمھاری بات سے اتفاق نہیں ہے، ربیعہ۔ وہ سست اور کاہل ہر گز نہیں تھا۔ اِس کا ہمیں بعد میں بخوبی پتا بھی چل گیا تھا۔ میرا خیال ہے کہ وہ شروع میں ماحول سے شناسا ہونے اور دِھیرے دِھیرے گھلنے ملنے کی کوشش کی وجہ سے چپ چاپ اور اپنے آپ میں مگن رہتا تھا۔ جیسے ہی وہ نئی جگہ اور نئے لوگوں یعنی ہم سے آشنا ہوا اُس کے پَر پُرزے نکلنے لگے۔‘‘

حادثے سانحے نجم الدین

’’ناصر کا کہنا بالکل ٹھیک ہے۔ بعد میں وہ نہ صرف پڑھائی میں بہت تیز ثابت ہوا بلکہ خُوب شرارتی بھی۔ وہ ہمیں بھی اپنی شرارتوں میں شریک کر لیتا تھا۔ وہ نئی نئی شرارتیں ایجاد کرتا اور ہمیں اپنے ساتھ ملا لیتا۔‘‘

’’جمال، مجھے تمھاری بات سے پُورا اِتفاق ہے۔ وہ واقعی پڑھائی اور شرارتوں دونوں میں بہت آگے کی چیز تھا۔ اکثر خُود بچ نکلتا اور الزام ہمارے سر آتا۔‘‘

’’نبیلہ، تم نے اُس کی شخصیت کا بہت حد تک ٹھیک تجزیہ کیا ہے۔ دُوسرے لفظوں میں ہمیں یُوں کہنا چاہیے کہ اُس نے بہت جلد ہمیں اپنا گرویدہ کر لیا اور ہم اُس کے سامنے پانی بھرنے لگے۔‘‘

’’نرگس، تم سے زیادہ اُسے کون جانتا ہو گا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم اُس سے دبتے تھے کیوں کہ وہ بہت امیر باپ کا بیٹا تھا۔‘‘

’’ہاں علی، ہم ہی کیا پُوری سکول انتظامیہ ہی اُس سے دبتی اور اُس کے ناز نخرے اٹھاتی تھی۔ آخر اُس کا باپ سکول کو ہر ماہ چندے میں خطیر رقم جو دیتا تھا۔‘‘

’’ربیعہ تمھارا کہنا اتنا درست بھی نہیں ہے۔ سکول کو چندہ تو ہمارے والدین بھی دیتے تھے۔‘‘

’’نرگس، تم تو اب بھی اُس ہی کی حمایت کرو گی!‘‘

’’میں اُس کی حمایت نہیں کر رہی۔ سکول انتظامیہ کتے والے حادثے کے بعد اُس سے نرمی سے پیش آتی تھی اور بس۔ تم نے خواہ مخواہ بات کا بتنگڑ بنا رکھا ہے۔‘‘

حادثے سانحے نجم الدین

’’تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ میں بھی وہیں موقعہ پر موجود تھا۔ میں بھاگ کر سکول کے اندر داخل ہو گیا تھا لیکن میں نے گیٹ سے دیکھا کہ ڈرائیور، جو ابھی گیا نہیں تھا، پُھرتی سے گاڑی سے دوبارہ نیچے اُترا۔ اُس نے سڑک کے کنارے آدھی اِینٹ کا روڑا اُٹھایا تو کتا اُس کی جانب لپکنے کے لیے مُڑا لیکن اُس نے فہیم کو بچاتے ہوے روڑا سُرعت سے کتے کو دے مارا۔‘‘

’’روڑا کتے کے پیٹ پر لگا۔‘‘

’’ وہ لڑکھڑا کر ایک بار گِرا لیکن پھر اُٹھ کر بھاگ گیا۔‘‘

’’اور دوبارہ کبھی نظر نہیں آیا۔‘‘

’’وہ تقریباً تین ماہ ہسپتال میں رہا تھا نا جمال؟‘‘

’’ہاں، جب وہ لوٹا تو کتنا کم زور اور زرد تھا! لیکن آہستہ آہستہ اُس کی صحت بحال ہونے لگی۔‘‘

’’لیکن پھر بھی اُس کے پاپا نے اُسے کئی مرتبہ ملک سے باہر علاج کے لیے بھیجا حالانکہ وہ بالکل ٹھیک ہو چکا تھا۔

’’ہاں ربیعہ، وہ پچھلے مہینے بھی تو گیا تھا!‘‘

’’اُسے صرف دو ہی چیزوں سے دِلچسپی تھی، پڑھائی اور ہاکی۔ اِس کے علاوہ وہ سکول تک ہمارا بہت اچھا ساتھی اور دوست تھا۔‘‘

’’لیکن پھر وہ بدلنے لگا تھا۔‘‘

’’اُس کا روّیہ عجیب ہو گیا تھا۔ خاص طور پر لڑکیوں کے ساتھ تو بعض اوقات انتہائی بدتمیزی سے پیش آتا۔‘‘

’’بعد میں جب اُسے احساس ہوتا اور شرمندگی گھیرتی تو وہ پچھتاوے کا اظہار کرتے ہوے کھلے دِل سے معافی بھی تو مانگ لیتا تھا۔ اُس نے تم سے تمھاری سالگرہ والے دِن کی اپنی بدتمیزی پر معافی مانگی تھی نا؟‘‘

’’پھر بھی ناصر، کبھی کبھی تو وہ بالکل باؤلا ہو جاتا تھا جیسے اُس میں اُس کتے کا باؤلا پن آگیا ہو جس نے اُسے بچپن میں کاٹا تھا۔ وہ غراتا ہوا کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔‘‘

حادثے سانحے نجم الدین

’’ہم اُسے چھوڑ بھی نہیں سکتے تھے کیوں کہ وہ ہمارے بچپن کا ساتھی تھا۔ سکول سے یُونیورسٹی تک ہم ساتھ رہے تھے، ساتھ پڑھے لکھے اور کھیلے کُودے تھے۔‘‘

’’ہاں جمال، اِس ایک معاملے کے علاوہ وہ ہمارا بہت اچھا ساتھی اور دوست تھا۔ اُس پر جب دورہ نہ پڑا ہوتا تو وہ نہایت ہم درد، غم گسار اور ساتھ نبھانے والا تھا۔‘‘

’’نرگس، تمھیں یاد ہے ایسے کسی بھی واقعے کے بعد وہ کئی کئی دِن کے لیے غائب ہو جاتا۔ بعض اوقات تو پندرہ پندرہ دِن گُزر جاتے لیکن ہمیں اُس کی شکل تک دِکھائی نہ دیتی۔‘‘

’’اور جب وہ آتا تو ہمیشہ خُوشگوار مُوڈ میں ہوتا لیکن نڈھال دِکھائی دیتا جیسے کئی روز کا بیمار ہو لیکن زبردستی بستر سے اُٹھ کر آیا ہو۔‘‘

’’شاید اُس کے ساتھ کوئی نفسیاتی مسئلہ تھا۔‘‘

’’یا شاید، ربیعہ، اُسے کوئی ایسی بیماری لگ گئی تھی جسے وہ ہم سے شیئر کرنا پسند نہیں کرتا تھا۔ کیوں شکیل؟‘‘

’’یہ سب خیال آرائیاں ہیں۔ اُس کی غیرحاضریاں ہمارے لیے معمہ تھیں لیکن شاید کالج اور بعد میں یُونیورسٹی انتظامیہ کے لیے نہیں کیوں کہ ہمیں محض تین روز کی مسلسل غیرحاضری پر شوکاز نوٹس مل جاتا تھا لیکن اُسے کبھی پُوچھا تک بھی نہیں گیا۔ تم لوگ کیا کہتے ہو؟‘‘

’’اُس کا باپ جو بہت اثرورسوخ والا ہے! اُسے کیوں پُوچھتے؟‘‘

’’سکول سے یُونیورسٹی تک صرف ہم ساتوں ہی اکٹھے رہے۔ باقی ساتھی راستے بدلتے چلے گئے۔ کسی نے کوئی شعبہ جوائن کر لیا تو کسی نے بزنس۔ لیکن ہمیں یہ نہیں معلوم کہ فہیم نے نیہا کا قتل کیوں کیا؟‘‘

’’نیہا کے ساتھ ہماری دوستی یُونیورسٹی کے شروع کے دِنوں ہی میں ہو گئی تھی۔‘‘

’’پھر آہستہ آہستہ یہ دوستی بڑھتی چلی گئی۔ فہیم کے ساتھ اُس کا تعلق جلد ہی گہرا ہو گیا تھا اور نرگس بے چاری نے اپنے دِل پر پتّھر رکھ لیا۔‘‘

’’ہاں، اُس کے بعد فہیم نے یُونیورسٹی میں بہت کم چھٹیاں کیں۔ وہ بہت کم غیرحاضر رہنے لگا تھا۔ اُس پر دورے بھی کم پڑنا شروع ہو گئے تھے۔ لیکن یہ بہت کم عرصے کے لیے ہوا۔ ‘‘

’’وہ نیہا کو اپنے ماں باپ سے ملوانے اپنے گھر بھی لے کر گیا تھا۔‘‘

’’نیہا کو اپنے ماں باپ سے ملوانے کے بعد………. دو چار رَوز بعد ہی وہ ایک بار پھر غائب ہو گیا۔ مہینے بھر بعد لوٹا تو………. تو اُس کی حالت سے لگتا تھا جیسے وہ شدید بیمار رہا ہو۔ وہ نہایت شکستہ، ٹُوٹا پُھوٹا اور مایوس دِکھائی دیتا تھا۔‘‘

’’ہم نے بہت کریدا۔ اُس کا مسئلہ دریافت کرنے کی کوشش کی لیکن اُس نے کچھ نہیں بتایا۔‘‘

’’ہاں… لیکن اگلے روز اُس نے نیہا کو شام کو ملنے کے لیے کہا۔ اُس نے یہ بھی کہا تھا نا کہ وہ اپنا معاملہ صرف نیہا سے ڈِسکس کرنا چاہتا ہے۔ اِس لیے وہ اُس سے ضرور ملے۔‘‘

’’اور اگلے روز ہمیں یہ دہشت ناک خبر سننے کو ملی۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: نجم الدین احمد، شاعر، افسانہ، ناول و ترجمہ نگار

’’فہیم یُونیورسٹی میں ایک اچھے اور ذہین طالب علم کی شہرت رکھتا تھا۔ یُونیورسٹی میں طلبا کو سکول اور کالج کی نسبت زیادہ آزادی حاصل ہوتی ہے اور اساتذہ اُن کے بارے میں کریدتے ہیں نہ اُن پر پابندیاں عائد کرتے ہیں کیوں کہ تب تک وہ میچور ہو چکے ہوتے ہیں۔‘‘

’’بلکہ یُونیورسٹی میں اساتذہ طلبا سے جھجکتے……… بلکہ یُوں کہنا چاہیے کہ ڈرتے ہیں کیوں کہ بعض اوقات کسی ایک طالب علم کی معمولی سی شکایت پر بھی طلبا تنظیمیں میدانِ عمل میں کُود پڑتی ہیں اور ہنگامہ بڑھنے سے یُونیورسٹی کو کئی کئی روز کے لیے بند کرنا پڑ جاتا ہے۔‘‘

’’اُس کے باپ نے اُس کے کالج میں داخلے کے وقت ہی بتا دیا تھا کہ………. اُسے دورے پڑتے ہیں۔ وہ اُس کا علاج کروا رہا ہے جس کے لیے ہفتے پندرہ دِن کے لیے وہ اُسے ہر دو چار ماہ بعد بیرونِ ملک بھیجتا ہے۔ اِسی لیے ہم نے کبھی سختی سے کام نہیں لیا تھا۔‘‘

’’پرنسپل صاحب درست فرما رہے ہیں۔ دُوسری بات یہ کہ وہ سب سے زیادہ محنتی اور ذہین و فطین طالب علم تھا۔ جینیئس تھا۔ اُس نے فائنل میںسب سے زیادہ سکور کیا تھا۔ میں غلط تو نہیں کہہ رہا، نذیر صاحب؟‘‘

’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اور پرنسپل صاحب نے بھی درست فرمایا ہے۔ وہ اپنے اچھے کھیل کی وجہ سے بھی کالج کی مجبوری تھا۔ وہ کالج کی ہاکی ٹیم کا کپتان بھی تھا۔ جب تک وہ کالج میں رہا ٹیم ایک بھی میچ نہیں ہاری اور ہمیشہ اوّل آکر قومی سطح پر کپ جیتتی رہی تھی۔‘‘

’’ہاں، مجھے اب بھی یاد ہے۔ وہ بہت ذہین اور محنتی لڑکا تھا۔ ہر کلاس میں اوّل آتا تھا۔ کیوں میں ٹھیک کہہ رہا ہوں نا، مقبول صاحب؟‘‘

’’کیا؟ کیا کہہ رہے ہو، احمد علی صاحب؟ ذرا اُونچا بولو۔‘‘

’’صفدر علی خاں کا بیٹا فہیم جو تیسری جماعت میں داخل ہوا تھا۔‘‘

’’اوہ ہاں، اچھا۔ وہ لڑکا۔ لیکن وہ کون سا لڑکا تھا؟ مجھے یاد نہیں آرہا؟‘‘

’’وہی جسے ایک بار کتے نے کاٹ لیا تھا۔‘‘

’’تو یُوں کہو نا کہ صفدر علی خاں صاحب کا بیٹا۔ ہاں، وہ اچھا لڑکا تھا، پڑھائی میں بھی اور کھیل میں بھی۔ ہاکی تو اچھی کھیلتا ہی تھا کرکٹ کا بھی بہترین کھلاڑی تھا۔ نویں جماعت سے سکول کی ہاکی ٹیم کا کپتان بن گیا تھا۔ سکول سے کبھی ناغہ نہیں کرتا تھا۔ وقت پر کام کرتا تھا۔ میٹرک میں بھی اُس نے بورڈ میں نُمایاں پوزیشن حاصل کی تھی۔ ہیں نا؟‘‘

’’ہاں، اُسی کی بات کر رہا ہوں۔ آپ کو اب بھی وہ واقعہ یاد ہے۔‘‘

’’لو بھلا، یاد کیوں نہ ہو۔ بہرہ ہوا ہوں، یادداشت تو نہیں گئی۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اُسے سکول میں داخل ہوئے کچھ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ اُسے ڈرائیور فوکسی کار پر سکول چھوڑنے اور لینے آتا تھا۔ ایک روز صبح سویرے سکول شروع ہونے سے چندمنٹ قبل، جب ہم سکول کے بڑے میدان میں اسمبلی کی تیاری کررہے تھے، ڈرائیور نے اُسے سکول کے گیٹ کے سامنے اُتارا۔ وہ جیسے ہی اُتر کر سکول کے گیٹ کی سمت بڑھا کسی طرف دبکا ہوا ایک ہلکایا ہوا جنونی کتا نکلا اور بھاگ کر اُس پر حملہ آور ہوا۔‘‘

’’کتے نے اُس بے چاری ننّھی سی جان کو بُری طرح کاٹا جس سے اُس کی پینٹ اور قمیص خُون سے بھر گئیں بلکہ اُن سے خُون کے قطرے بھی تسلسل سے ٹپکنے لگے۔ وہاں دُوسرے بچّے بھی سکول میں داخل ہونے کے لیے موجود تھے۔ وہ سب چیختے چلاتے گیٹ کو دھکے مارتے اندر داخل ہوے تو جیسے ایک کہرام برپا ہو گیا۔ ہم سب اسمبلی میدان سے باہر کی طرف بھاگے۔‘‘

’’تب تک صُورتِ حال جاننے کے لیے اساتذہ سکول سے باہر نکل آئے تھے۔ چاروں طرف اساتذہ اور بچّوں کا جم گھٹ اکٹھا ہو گیا تھا۔ ڈرائیور نے دو اساتذہ کی مدد سے زخمی فہیم کو گاڑی میں ڈالا اور ہسپتال روانہ ہو گیا۔‘‘

نجم الدین کے ناول کھوج اور سہیم کا تجزیہ

’’دو اساتذہ ہمراہ گئے تھے اور بعد میں باقی اساتذہ اور ہیڈ ماسٹر صاحب بھی ہسپتال گئے تھے۔ مقبول صاحب بھی تیمارداری کے لیے گئے تھے۔ کیوںمقبول صاحب؟‘‘

’’ہاں، مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ زاہد اور اقبال ہمراہ گئے تھے۔‘‘

’’افوہ، وہ دونوں تواب اِس دُنیا میں نہیں رہے۔ بس یادیں رہ گئی ہیں۔ بہت سے ساتھی چلے گئے۔ پتا نہیں کب ہماری باری آجائے۔‘‘

’’ہاں، اکثر نہیں رہے۔ شاید ہم دونوں ہی بچے ہیں۔‘‘

’’ دیکھو، ہم کب جاتے ہیں۔‘‘

’’وہ ایک حادثہ تھا، محض ایک حادثہ! بلکہ سانحہ!‘‘

’’اور یہ سانحہ بھی ہمارے ساتھ ہوا ہے۔ ہم اپنا اکلوتا بیٹا کھو بیٹھے ہیں۔‘‘

’’ اب ہم میں اتنی طاقت………. یا حوصلہ نہیں بچا کہ اِتنی بڑی جائیداد کے لیے نیا وارث پیدا کر کے پال پوس کے اُس جتنا بڑا کر سکیں۔ اُن کی دو بیٹیاں اَور بھی ہیں۔‘‘

’’بات صاف ہے۔ وقوعہ واضح تھا۔ لڑکی کے ہاتھ پاؤں درخت سے باندھ کر فہیم نے اُس کا وحشیانہ انداز میں قتل کیا اور خود پسٹل سے خود کشی کر لی۔ اب پیچھے کیا رہ جاتا ہے؟ کیا معمہ ہے اِس میں؟‘‘

’’ہمیں اُس کی یادیں دہراتے ہوے بہت تکلیف ہوتی ہے لیکن میں ایک ماں ہونے کے ناطے لڑکی والوں، خاص طور پر اُس کی ماں کا دُکھ سمجھ سکتی ہوں۔‘‘

’’ہمیں کبھی یہ شکایت نہیں ملی کہ وہ سکول، کالج اور یُونیورسٹی کے اپنے ساتھیوں سے بدتمیزی سے پیش آتا اور اُن پر غراتا تھا۔ یا اُس پر رَیبِیز کے اثرات تھے؟‘‘

’’اگر ہمیں پتا ہوتا کہ وہ رَیبِیز کے اثرات سے جنونی ہو گیا ہے اور پاگل ہو کر بالآخر کسی کا خُون کر دے گا تو…!‘‘

’’شاید ہماری تربیت میں کوئی کمی رہ گئی تھی۔ یہ اپنی کاروباری مصروفیات کی وجہ سے اُسے وقت نہیں دے پاتے تھے اور میں اپنی سوشل ایکٹیوِٹیز کی وجہ سے۔ وہ تنہائی کا شکار ہو گیا تھا۔‘‘

’’اُس نے گھر میں کبھی توڑ پھوڑ کی نہ کبھی ہم سے یا گھر کے ملازموں سے بھی بدتمیزی اور بدتہذیبی سے پیش آیا۔ ہاں، اُس لڑکی سے ملاقات کے بعد سے وہ کبھی کبھار بس اپنے کمرے میں بند ہو جاتا تھا۔ کئی کئی دِن بند رہتا۔ اُسے کھانا پینا بھی وہیں پہنچایا جاتا۔‘‘

’’وہ مجھ سے ہر وقت نیہا کی باتیں کرتا رہتا تھا۔‘‘

’’ہاں، کتےنے اُسے اِس بُری طرح کاٹا تھا کہ وہ اُس کے پیٹ اور رَانوں کو ادھیڑنے کے ساتھ ساتھ پینٹ پھاڑ کر اُس کے… اُس کے… اُس کے… ننھے سے عضو کی چھوٹی سی بوٹی کو بھی بُری طرح چبا گیا تھا۔ وہاں صرف چھیچھڑا ہی بچا تھا، الگنی پر لٹکی دھجی جیسا۔‘‘

’’ہم نے اُس کا بہت علاج کروایا لیکن…‘‘

’’میرے پاس تب بھی آج کی طرح بہت دولت تھی۔ میں اُس کے علاج کے لیے سب کچھ لٹانے کو تیار تھا۔ میں اُسے کئی ملکوں میں لے کر گیا۔ میں نے اُس کی پلاسٹک سرجری کروانے کی بھی کوشش کی لیکن اُس زمانے میں پلاسٹک سرجری نے آج جتنی ترقی نہیں کی تھی۔ تب زندہ ریشوں سے پیوند کاری نہیں ہوتی تھی اور اب جب یہ کام شروع ہوا تو زخم بہت پُرانا ہو چکا تھا۔ میرے اصرار پر ڈاکٹروں نے نئے زخم لگا کر سرجری کی کوشش کی لیکن بات نہیں بن سکی۔‘‘

’’وہ جب تک بچہ رہا اُسے احساس نہیں ہوا۔ لڑکپن میں بھی معاملہ بہت حد تک نہیں بگڑا تھا۔ لیکن…‘‘

’’وہ جانتا ہی نہیں تھا کہ اِس کا کوئی اَور مصرف بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن جوانی سب کچھ سمجھا دیتی ہے اور جب وہ سمجھ گیا………. جب وہ سمجھ گیا کہ وہ اپنے بدن کے فطری تقاضے پُورے کرنے کا اہل نہیں، اپنے جذبات کی تسکین سے عاری ہے تو اُس پر دورے پڑنے لگے۔ اُس لڑکی، نیہا کی محبت نے اُس پر مایوسی اور محرومی کے مزید در کھول دیے تھے۔‘‘

’’ وہ نیہا کو کسی اَور کا ہوتا نہیں دیکھ سکتا تھا اور خود اُسے اپنانے کا…‘‘

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں