فرانسیسی سفیر ملک بدری 29

قومی اسمبلی، فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

Spread the love

فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن نیوز) قومی اسمبلی نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کی قرارداد متفقہ

طور پر منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی مخالفت کرتا ہے

،فلسطینیوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے،اسرائیلی مظالم پر جنگی جرائم کے تحت مودمات

چلائے جائیں،سلامتی کونسل کی فلسطین کے حوالے سے قراردادوں پر عملدرآمد کیا جائے،اسرائیل

کو فوری طور پر الاقصی مسجد کی بے حرمتی سے روکا جائے اور فلسطینیوں کو عبادت کا حق اور

مسجد اقصی میں نماز کی آزادانہ ادائیگی کا حق دیاجائے،بین الاقوامی برادری فلسطینیوں کے انسانی

حقوق کی خلاف ورزیوں کا ٹرائل کرے،او آئی سی فیصلہ کن اقدامات کے ذریعہ فلسطینیوں کی مدد

کرے۔ پیر کو قومی اسمبلی کا اجلاس اسد قیصر کی زیر صدارت ہوا جس میں وزیر خارجہ شاہ محمود

قریشی نے اسرائیلی حملوں کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں قرارداد پیش کی جسے ایوان نے

متفقہ طورپر منظو رکرلیا ۔ قرار داد میں کہاگیاکہ ایوان فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی مظالم کی

مذمت کرتا ہے۔ قرار داد کے مطابق فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی مظالم بڑھ رہے ہیں،

فلسطینیوں کی نسل کشی کی جارہی ہے،ایوان فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی مخالفت کرتا

ہے،فلسطینیوں کو ان کا حق خودارادیت دیا جائے۔ قرارداد میں کہاگیاکہ اسرائیلی مظالم پر جنگی جرائم

کے تحت مودمات چلائے جائیں۔ قرارداد میں کہاگیاکہ ایوان پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق پر زور

دیتا ہے،1973کی سرحدوں کی بنیاد پر دوریاستی حل نکالا جائے۔ قرار داد میں کہاگیاکہ سلامتی

کونسل کی فلسطین کے حوالے سے قراردادوں پر عملدرآمد کیا جائے،۔ قرار داد میں کہاگیاکہ سلامتی

کونسل یو این چارٹر کے چئپٹر سیون کے تحت انسانیت کے خلاف فلسطینیوں پر مظالم بند کرائے،یو

این جنرل اسمبلی اور انسانی حقوق کونسل فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرائے۔ قرارداد

میں کہاگیاکہ اسرائیل کو فوری طور پر الاقصی مسجد کی بے حرمتی سے روکا جائے،فلسطینیوں کو

عبادت کا حق اور مسجد اقصی میں نماز کی آزادانہ ادائیگی کا حق دیاجائے۔قر ارداد میں کہاگیاکہ بین

الاقوامی برادری فلسطینیوں کی نسل کشی اور زبردستی انخلاء کا عمل بند کرائے،بین الاقوامی برادری

فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ٹرائل کرے۔قرار داد میں کہاگیاکہ او آئی سی فیصلہ

کن اقدامات کے ذریعہ فلسطینیوں کی مدد کرے۔ ۔دوسری جانب فلسطینی عوام پر صہیونی مظالم

کیخلاف پاکستان اور ترکی نے اقوام متحدہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پاک ترک وزرائے خارجہ اقوام

متحدہ میں فلسطین کیلئے بھرپور آواز اٹھائیں گے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ وہ آج

اقوام متحدہ اجلاس میں شرکت کیلئے روانہ ہونگے۔ قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں غزہ کی

صورتحال پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہماری پہلی ذمہ داری فلسطین میں سیز فائر کرانا ہے۔

انہوں نے کہا وزیر اعظم کی ہدایت پر آئنہدہ جمعہ کو ملک بھر میں یوم القدس منیایا جائے گا۔ سلامتی

کونسل اور او آئی سی میں پاکستان کے تاریخی موقف پر رجحان بڑا واضح دکھائی دے رہا تھا۔وزیر

خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے فلسطین میں جارحیت کی مذمت کی ہے۔ گزشتہ روز 16 مئی کو

فلسطین کے حوالے سے دو اہم اجلاس منعقد کیے گئے تھے۔ ان میں سے ایک او آئی سی ایگزیکٹو

کمیٹی فارن منسٹر کا اجلاس جبکہ دوسرا اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا اجلاس تھا۔ سیکیورٹی

کونسل اجلاس کو چین کے وزیر خارجہ نے چیئر کیا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں یہاں چین کی

قیادت کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ چین نے سلامتی کونسل کو یکجا کرنے کی کوشش کی۔ سلامتی

کونسل کے تمام ممبران قائل ہو چکے تھے لیکن بدقسمتی سے امریکا نے ویٹو کرکے راستے میں

رکاوٹ ڈالی۔انہوں نے کہا کہ ایوان سے وعدہ ہے کہ ہم مسئلہ فلسطین اور مسئلہ کشمیر پر کبھی آنچ

نہیں آنے دیں گے۔ مانتا ہوں راستے کٹھن ہے، عالمی دنیا کا دہرا معیار ہے لیکن سچائی میں بڑا وزن

ہوتا ہے۔اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ امریکہ کے ویٹو پر سلامتی

کونسل کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے پر بہت سے ممالک کو مایوسی

ہوئی،فلسطین میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف مغربی دارالحکومتوں میں

لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں،میڈیا ہاؤسز پر بمباری کر کے خاموش نہیں کیا جا سکتا ،انسانی حقوق

کی تنظیموں کودوہرامعیارختم کرکے فلسطینیوں کیساتھ کھڑاہوناہوگا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود

قریشی نے کہاکہ گزشتہ روز او آئی سی ایگزیکٹو کمیٹی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں میں نے

واضح اور دو ٹوک الفاظ میں فلسطینی کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی،فلسطین کے وزیر

خارجہ نے پاکستان کے دو ٹوک موقف کو سراہتے ہوئے اس کٹھن گھڑی میں فلسطینیوں کی بھرپور

حمایت پر شکریہ ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کی فلسطین کی صورتحال پر

سعودی فرمانروا خادم الحرمین الشرفین شاہ سلیمان بن عبدالعزیز ،ترک صدر رجب طیب اردگان اور

فلسطین کے صدر محمود عباس کے ساتھ تفصیلی گفتگو ہوئی ہے،میں نے اس حوالے سے مختلف

ممالک کے وزرائے خارجہ بشمول امریکہ، چین سعودی عرب، ترکی، فلسطین کے ساتھ رابطے کیے

اور پاکستان کا موقف پیش کیا ، اسرائیلی بربریت کے خلاف مسلم امہ نے آواز اٹھائی ، ایک مشترکہ

اعلامیہ جاری ہوااور آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ چین کی صدارت میں سلامتی

کونسل کا اجلاس منعقد ہوا ،سلامتی کونسل کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے پر بہت

سے ممالک کو مایوسی ہوئی ، امریکہ کی جانب سے ویٹو ہو جانے کے باعث یہ مشترکہ اعلامیہ

جاری نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہاکہ فلسطین میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے

خلاف مغربی دارالحکومتوں میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا ہاؤسز پر بمباری

کر کے انہیں خاموش نہیں کیا جا سکتا ،سوشل میڈیا کے اس دور میں اس آواز کو جبراً نہیں دبایا جا

سکتا۔ انہوں نے کہاکہ یورپی ممالک میں بھی عوام الناس کی جانب سے فلسطینیوں کی حمایت میں

مظاہرے ہو رہے ہیں،اسرائیلی جارحیت کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے کہاکہ فلسطین

میں ایک طرف جدید جنگی ہتھیاروں سے لیس اسرائیلی فوج ہے تو دوسری جانب نہتے فلسطینی ہیں

،ایک طرف انسانیت اور دوسری طرف بربریت دکھائی دیتی ہے۔دریں اثنا شاہ محمود قریشی سے

فلسطینی سفیر احمد جواد امین نے ملاقات کی، دونوں رہنماؤں نے فلسطین میں امن و امان کی بگڑتی

ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔شاہ محمود قریشی نے معصوم فلسطینیوں کی شہادتوں پر فلسطینی

سفیر سے تعزیت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی

جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں، اسرائیلی بربریت رکوانے کیلئے اہم مسلم ممالک اور عالمی

برادری سے رابطے جاری ہیں،۔فلسطینی سفیر نے مشکل گھڑی میں پاکستان کی بھرپور حمایت اور

اظہار یکجہتی پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شکریہ اداکیا۔ فلسطینی سفیر نے فلسطین میں

جاری جارحیت کے خاتمے کیلئے وزیراعظم عمران خان کی کاوشوں کی تعریف کی۔ اپوزشن لیڈر

میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ 1948ء سے لے کر آج تک اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں پر ظلم

کر رہی ہے۔ مشرقی یروشلم میں انتہا پسند یہودیوں نے مارچ کیا، پوری دنیا نے یہ دلخراش مناظر

دیکھے۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں آج یہاں اس ایوان

میں حکومت کی چیرہ دستیوں اور اپوزیشن کے خلاف ظلم کا ذکر نہیں کروں گا۔ کیونکہ آج ہم نے

اسرائیل کے مظالم کی بات کرنی ہے۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے

میں مسجد اقصیٰ میں نہتے نمازیوں پر حملے کیے گئے۔ اسرائیل کی بدترین سفاکی زوروں پر ہے۔

ماضی میں فاشسٹ ہٹلر جہاں تھا، آج وہاں نیتن یاہو کھڑا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کی دوسری نسل

بدترین ظلم کا شکار ہے۔ حالیہ جارحیت کے نیتجے میں درجنوں بچے اور خواتین کو شہید کیا گیا۔

اسرائیلی بمبار طیاروں نے اندھا دھند گولہ باری کی۔ غزہ میں الجزیرہ چینل کی بلڈنگ کو گرتے دنیا

نے دیکھا۔ اس طرح کی سفاکی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ یہ ہے وہ ظلم کی

داستان جو فلسطینی آج تک برداشت کر رہے ہیں۔ اوسلو کے معاہدے کو انہوں نے ردی کی ٹوکری

میں پھینک دیا۔ یاسر عرفات، کو نوبل پرائز ملا لیکن آزاد فلسطین کا قیام آج تک نہ ہو سکا۔ کشمیر کی

طرح فلسطین کی قراردادوں کو بھی ٹھکرا دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ فلسطین میں قتل عام اسلامی دنیا

کے لیے پیغام ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا رواج جڑیں پکڑ رہا ہے۔ قومی اسمبلی کو آج 22

کروڑ عوام کی دلوں کی آواز بننا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج عالم اسلام کے اندر ہر آنکھ اشکبار اور ہر

دل غمگین ہے۔ دوسرے ممالک نے بھی اسرائیلی سفاکیت کی مذمت کی ہے۔ نہتی قوم پر اسرائیلی فوج

بمباری کر رہی ہے۔ اگر خدانخواستہ ایسی ہلکی سی حرکت کوئی اسلامی ملک کرتا تو پھر کیا عالمی

طاقتیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھتی؟ اگر کوئی اسلامی ملک ایسا کرتا تو فوری جنگ مسلط کر دی جاتی

اور ہر قسم کی پابندیاں لگا دی جاتیں۔ آج عالمی میڈیا خاموش ہے، اس کی زبان کو تالے لگ گئے ہیں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسی حرکت کسی اور ملک میں ہوتی تو کیا دنیا خاموش رہتی؟ آج عالمی

طاقتیں کہاں ہیں؟ فلسطینیوں کا قصور یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مشرقی تیمور اور

جنوبی سوڈان کے حوالے سے قراردادوں پر کتنی تیزی سے عمل کیا گیا تھا۔ مشرقی تیمور کو آزادی

دلوائی گئی تھی لیکن اس کے مقابلے میں بوسنیا میں کیا ہوا تھا؟شہباز شریف نے کہا کہ بوسنیا میں

سینکڑوں لوگوں کو لقمہ بنایا گیا۔ بوسنیا میں اجتماعی قبروں کا بدترین سکینڈل سامنے آنے تک عالمی

طاقتوں کا ضمیر نہیں جاگا تھا۔ بوسنیا میں شہروں کے شہر قبرستان بن گئے تھے۔ بوسنیا، ایسٹ تیمور

اور جنوبی سوڈان کا موازنہ کریں گے تو صورتحال سمجھ آ جائے گیدوسری طرف وزیراعظم عمران

خان نے نہتے فلسطینی بھائیوں پر اسرائیل ظلم وستم اور بربریت کیخلاف جمعہ کے روز ملک گیر

یوم احتجاج منانے کی ہدایت کر دی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت حکومتی رہنماؤں

اور ترجمانوں کا اہم اجلاس ہوا جس میں غزہ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر سرکاری

سطح پر یوم احتجاج منانے کی تجویز دی گئی جسے وزیراعظم نے منظور کرتے ہوئے اس کی تیاری

کرنے کی ہدایت جاری کردی۔اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کیس میں دائر

اپیل پر بھی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کے خلاف اربوں روپے کی

کرپشن کے کیسز ہیں۔ مجھے کسی سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں لیکن قومی دولت لوٹنے والوں کو نہیں

چھوڑا جا سکتا۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قانون کی حکمرانی کے لیے کسی بھی حد تک جائیں گے۔

ہماری 25 سالہ سیاسی جدوجہد انصاف اور قانون کی حکمرانی کی جدوجہد ہے۔ احتساب کا عمل اور

قانون کی حکمرانی کی جدوجہد جاری رہے گی۔ملک میں عالمی وبا کی صورتحال پر بات کرتے

ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس باوجود ہمارے معاشی اعشاریے مثبت ہیں۔ برآمدات اور

ترسیلات زر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔معاشی ٹیم کا بریفنگ میں کہنا تھا کہ اس وقت مہنگائی

پوری دنیا کا مسئلہ ہے تاہم پاکستان میں مہنگائی دیگر ممالک کی نسبت کم ہے۔ خطے میں سب سے

کم پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پاکستان میں ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حکومت

مہنگائی میں کمی کے لیے ہر ممکن انتظامی اور پالیسی فیصلے کر رہی ہے۔ مثبت معاشی اعشاریوں

کا فائدہ براہ راست عوام کو ملنا چاہیے۔ آئندہ بجٹ میں عوامی ریلیف اور ترقیاتی منصوبوں پر توجہ

دی جائے۔

فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں