43

کورونا سے بچاؤ کیلئے فیس ماسک کا اصل مقصد نظرانداز

Spread the love

فیس ماسک بطور فیشن

لاہور(صرف اردو آن لائن نیوز) صوبائی دارلحکومت میں کورونا کے بڑھتے کیسز کے باعث

شہریوں نے ماسک کا استعمال تو شروع کردیا مگر ہر کوئی اپنے انداز سے اس کو پہن رہا ہے ۔کئی

لوگ ماسک صرف منہ تک محدود رکھ کر پہن رہے ہیں ۔حقیقت میں ماسک پہننے کا مقصد منہ اور

ناک دونوں کو ڈھانپنا ہے تاکہ وباء سے بچا جاسکے مگر نوجوان نسل فیشن کے طور پر ماسک ا

ستعمال کررہی ہے جس کا طبی نقطہ نظر سے کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ اسوقت عوام کئی قسم کے ماسک

استعمال کررہے ہیں جن میں سرجیکل ، کپڑے اور کاغذکے ماسک شامل ہیں جن کا سب سے زیادہ

عام استعمال کیا جارہا ہے ۔سرجیکل ماسک وائرس سے سب سے کم تحفظ فراہم کرتے ہیں جبکہ ایف

ایف پی 3 یا این 100 ،99.97 فیصد ذرات کو آپ کے سانس میں دا خل ہونے سے روک لیتے ہیں

جبکہ کپڑے اور کاغذ کے ماسک عوام میں کووِڈ-19 پھیلنے سے تو روک سکتے ہیں لیکن یہ کسی

بھی طرح انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں استعمال کیلئے موز و ں نہیں ہوتے۔یہاں انفیکشن کا خطرہ

سب سے زیادہ ہوتا ہے اور طبی عملے کو بلند ترین معیار کا حفاظتی سامان چاہیے ہوتا ہے تاکہ وہ

خود کو وائرس سے مکمل طور پر محفوظ کر سکیں ۔ ما سک کی سادہ ترین مثال سرجیکل ماسک ہے

جو عام طور پر کپڑے یا کاغذ کی تین تہوں سے بنایا جاتا ہے۔ یہ چھینکوں یا کھانسی سے نکلنے

والے قطروں کو تو روک لیتا ہے لیکن وائرس کے ذرات سے نہیں بچا پاتا جو صرف 100 نینو میٹر

کے لگ بھگ ہوتے ہیں۔دوسری جانب ریسپائریٹر چہرے پر مضبوطی سے ٹھہر جاتے ہیں تاکہ نہ

کوئی ہوا لیک ہو کر باہر جا سکے اور نہ ہی اندر آ سکے۔پیشہ وارانہ حفاظت اور صحت کے ذمہ دار

امریکی ادارے نیشنل انسٹیٹیوٹ فار آکیوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ (این آئی او ایس ایچ) نے ایف ایف پی

ریسپائریٹرز کی درجہ بندی اس لحاظ سے کی کہ وہ کتنے ذرات کو آپ کے نظامِ تنفس تک پہنچنے

سے روکتے ہیں۔ چنانچہ این 95 اور این 99 ماسک بالترتیب 95 اور 99 فیصد ذرات کو روکتے ہیں

جبکہ این 100 ڈیوائسز 99.97 فیصد ذرات کو روک لیتی ہیں۔ پاکستان میں اسوقت ملکی و غیر ملکی

ماسک کا استعمال عام ہے اور اب حکومتی ایس او پیز کے بعد ہر فرد ہی اس کا استعمال کررہا ہے

مگر اس کیلئے فیشن نہیں بلکہ طبی لحاظ سے اس کا استعمال بہت ضروری ہے تاکہ اس کا مقصد

وباء سے بچاؤ پر پورا اتر سکے۔

فیس ماسک بطور فیشن

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں