afsana nigar Munir faraz 149

ایک اور ناقابلِ اشاعت افسانہ: منیر فراز

Spread the love

سائیکاٹرسٹ بن یامین، کہانی کار کی باتیں غور سے سن رہا تھا ۔ اُس نے اُسے سامنے کرسی پر بٹھا کر چہرہ نیچے کرنے کا کہا اور کمرے کی تمام لائٹیں بند کر دیں۔ ایک تیز سرخ بلب، جس کی روشنی دونوں کے درمیان سے فرش پر پڑ رہی تھی، روشن تھا ۔ تب کہانی کار کہنے لگا۔ محبت کی ایک بے مثال کہانی کا پلاٹ میرے ذہن میں ہے اور میں اسے ماہنامہ’’آہنگ‘‘ کے لئے لکھنا چاہتا ہوں، مجھے یقین ہے کہ میں جب یہ کہانی لکھ لوں گا تو محبت کے ایک بڑے افسانہ نگار کی حیثیت سے پہچانا جاؤں گا۔

میرے افسانے کی ہیروئین جولی یا مارگیریٹا نہیں ہوگی کیونکہ میں یہ کہانی دریائے ٹیمز کے کنارے سے شروع کرنے والا نہیں ہوں۔ یہ کہانی رسولت نگر کی گلی نمبر آٹھ کی ماہرہ سے شروع ہوگی اور جب میں ماہرہ کو اپنی کہانی میں پینٹ کروں گا تو شہر کی ساری لڑکیاں ماہرہ کی طرح بال بنانا شروع کر دیں گی اور اپنے محبوب سے ماہرہ ہی کے لہجے میں بات کرنے لگیں گی، وہ اپنا قیمتی میک اپ کچرے کے ڈبوں میں پھینک دیں گی اور بالکل ماہرہ ہی کی طرح اپنے قدرتی حسن پر ناز کریں گی۔

میں اس کہانی میں لکھنے والا ہوں کہ رسولت نگر کی صبح ماہرہ کے آنکھیں کھولنے سے ہوتی ہے اور جب تک وہ سوتی نہیں، شہر کے تمام ٹریفک سگنلز پر پھول بیچنے والے جاگتے رہتے ہیں۔ اور جب ماہرہ گھر کے صحن میں ننھے باسط سے شٹاپو کھیلتی ہے تو علاقے کی مینائیں اُس کی دیوار پر آن بیٹھتی ہیں۔

بن یامین نے کہا، ٹھیک ہے، میں یہ کہانی تم سے سنوں گا، لیکن پہلے تم کچھ اپنے بارے میں بتاؤ ۔

کہانی کار کا چہرہ بدستور نیچے تھا اسے نیم وا آنکھوں سے فرش پر پڑتی سرخ روشنی کو دیکھنے کا کہا گیا تھا۔

وہ بولا، ایسا نہیں کہ میں کوئی پہنچا ہوا کہانی کار ہوں اور اخبارات و رسائل کے ایڈیٹر مجھے کہانی لکھنے کی فرمائشیں کرتے ہیں۔ دراصل معاذ نے ایک ہی کلاس سے میرے ساتھ میٹرک کیا تھا وہ اس رفاقت کے بہانے میری کچھ مدد کرتا ہے اور میری کہانی کو ’’آھنگ‘‘ کے شعبہ مالیات سے منظور کروا لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ میں یہ نہیں جانتا کہ وہ میری مدد کر رہا ہے۔ مجھے علم ہے کہ گذشتہ دہائی سے شہر کی بگڑتی ہوئی حالت نے میری فکر پر گہرا اثر مرتب کیا ہے اور میں بلند خیال ہونے کے باوجود ان دنوں زیر زمین سوچتا ہوں۔

حالیہ بارشوں نے میرے محلے، جوہر آرکیڈ کے بلاک ڈبلیو کے نکاسئ آب کے سسٹم کو تباہ کردیا ہے اور اسی کی مرمت کے لئے مجھے اگلے ماہ دوسرے محلے داروں کے ساتھ بارہ ہزار روپے محلے کی کمیٹی کو ادا کرنے ہیں۔ معاذ نے کئی بار یاد دہانی کرائی کہ میں اسے ’’آہنگ‘‘ کے خاص نمبر کے لئے اپنی کہانی بھیج دوں، شاید اسے علم ہوگیا ہے کہ ڈبلیو بلاک میں نکاسئ آب کا سسٹم تباہ ہوگیا ہے۔

محبت کی ایک بے مثال کہانی کا پلاٹ میرے ذہن میں ہے اور میں اسے ماہنامہ ’’آہنگ‘‘ کے لئے لکھنا چاہتا ہوں لیکن مشکل یہ ہے کہ میری پچھلی کہانی رسالہ کے ایڈیٹر معاذ نے ناقابلِ اشاعت کے نوٹ کے ساتھ مجھے لوٹا دی تھی اُس کا کہنا تھا کہ مجھے فوراً کسی ماہرِ نفسیات سے رجوع کرنا چاہئے۔

مسٹر بن یامین! کیا تم مجھے بتا سکو گے کہ میں کہانی لکھنے کے قابل ہوں کہ نہیں؟ بن یامین نے سرخ روشنی کا بلب مدھم کرتے ہوئے کہا، ہم مریض کے پیشے سے متعلق جان کر ہی اس کی ذہنی حالت کا اندازہ لگاتے ہیں، چونکہ تم ایک کہانی کار ہو تو اب تم اپنی کہانی کا پلاٹ مجھے سناؤ تاکہ میں تمہاری ذہنی کیفیت بارے جان سکوں۔ صرف ایک بات کا خیال رکھیں، کہانی سناتے ہوئے کسی جگہ ذہن پر زور نہیں دینا اور جو بات تمہارے ذہن میں آتی ہے اُسے اسی بہاؤ کے ساتھ کہہ دینا ہے تا کہ پیچھے آنے والے خیال کے رستے میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ بن یامین نے زرد رنگ کا محلول اسے پینے کے لئے دیتے ہوئے کہا، میں اسی صورت تمہاری حالت جان سکوں گا۔

کہانی کار نے ایک گھونٹ بھر کر گلاس نیچے پاوں میں رکھ دیا اور پہلو بدل کر بن یامین کو کہانی سنانے لگا۔

رسولت نگر میں صبح ہو چکی ہے کیونکہ ماہرہ جاگ رہی ہے۔ ماہرہ نے بال سمیٹ کر نارنجی رنگ کا کلپ لگایا اور وہ پینو راما سنٹر کے خود کار زینوں سے اترتی ہوئی، سنٹر کے مرکزی دروازے سے نکل کر ریگل چوک کی طرف…………. ریگل چوک سے مجھے یاد آیا کہ پچھلے ہفتے اسی ریگل چوک کے بھرے بازار سے آٹھ سالہ زمرد کو اغوا کیا گیا تھا، تین روز بعد زمرد کی لاش کالی ٹنکیوں کے پیچھے سے ملی تھی، پوسٹ مارٹم رپورٹ سے معلوم ہوا تھا کہ اغوا کار کُل تین آدمی تھے، زمرد کے بدن پر کُل آٹھ زخم تھے، اُس کی دائیں پسلی ٹوٹی ہوئی تھی اور اس کی زبان کا تین چوتھائی حصہ اس کے دانتوں تلے آ کر کٹ گیا تھا، اس کی موت شدید تکلیف کے عالم میں ہوئی تھی۔

ایک افسانہ منیر فراز

ہاں، تو میں کہہ رہا تھا کہ رسولت نگر میں صبح ہو چکی ہے کیونکہ ماہرہ جاگ رہی ہے، ماہرہ نے بال سمیٹ کر نارنجی رنگ کا کلپ لگایا ہے اور وہ پینوراما سنٹر کے خود کار زینوں سے اترتی ہوئی، سنٹر کے مرکزی دروازے سے نکل کر ریگل چوک کی طرف مڑ گئی ہے اسے کسی بھی حالت میں دو بجکر آٹھ منٹ پر گھر پہنچنا ہے کیونکہ آفاق اس کے گھر کے دروازے پر ہی اس کے انتظار میں گھڑیاں گن رہا ہے، ماہرہ آتی ہے تو وہ اسے سورج مکھی کا ایک پھول پیش کرکے لوٹ جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سورج مکھی کے پھول کی طرح ماہرہ کا تعاقب کرتا رہتا ہے۔ کسی روز ماہرہ کے آنے میں دیر ہو جائے تو آفاق کی سانسیں پھول جاتیں………….. پرانے ٹرام ڈپو کے پاس جس روز خودکش حملہ ہوا تو لوگ اپنے پیاروں کا پتا کرنے دیوانہ وار ٹرام ڈپو کی طرف دوڑ رہے تھے، لوگوں کے رنگ اڑے ہوئے تھے وہ حواس باختہ دکھائی دیتے تھے اور اُن کی سانسیں پھول رہی تھیں، ایسے ہی جیسے ماہرہ کے لیٹ آنے پر آفاق کی سانسیں پھولنے لگتی ہیں۔

اے حمید کا افسانہ شاہدرہ کی ایک شام پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

میں شاید کہانی سے بھٹک گیا ہوں کیوں بن یامین! میں کہانی سے بھٹک گیا ہوں؟ کہانی کار نے زیرِ لب کہا نہیں، تم ٹھیک جارہے ہو، جاری رکھو۔ بن یامین کی آواز تراحم آمیز تھی میں کہہ رہا تھا کہ آفاق ماہرہ کو سورج مکھی کا ایک پھول پیش کر کے لوٹ جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ سورج مکھی کے پھول کی طرح ماہرہ کا تعاقب کرتا رہتا ہے، کسی روز ماہرہ کے آنے میں دیر ہوجائے تو آفاق کی سانسیں پھول جاتی ہیں اور وہ اسے دیکھنے رسولت نگر کی گلی نمبر آٹھ سے باہر ملحقہ گارڈن، جہاں شام کو لوگ چہل قدمی کے لئے نکلتے ہیں، کی طرف بھاگتا ہے، تب ماہرہ اس کے پیچھے کھڑی شرارت سے مسکراتی ہے، وہ اسے ڈانٹنے لگتا ہے تو ماہرہ بالوں سے کلپ اتار دیتی ہے۔ ماہرہ کے سیاہ بال ڈھلک کر کاندھوں پر آن گرتے ہیں اور دفعتاً پورے رسولت نگر میں چھم چھم بارش برسنے لگتی…………… بارش سے تو مجھے پچھلے ہفتے کی بارش یاد آگئی، کس قدر تباہی مچا دی تھی، شہر کے ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ کُل چوراسی ارب روپے کا نقصان ہوا، سترہ قیمتی جانیں الگ ضائع ہوئیں اور اسی بارش میں جوہر آرکیڈ کے بلاک ڈبلیو میں نکاسئ آب کا نظام درہم برہم ہوا جس کی مرمت کے لئے مجھے اگلے ماہ بارہ ہزار روپے جمع کرانے ہیں۔

آفاق اسے ڈاٹنے لگتا ہے تو ماہرہ بالوں سے کلپ اتار دیتی ہے اس کے سیاہ بال ڈھلک کر کاندھوں پر آن گرتے ہیں اور پورے رسولت نگر میں چھم چھم بارش برسنے لگتی ہے۔ آفاق، ماہرہ کو دیکھ کر مسکرا دیتا ہے اسے پکڑنے کے لئے اس کے پیچھے بھاگتا ہے، بالکل ایسے ہی جیسے بچپن میں دودھ والی مائی ماہرہ کے پیچھے بھاگتی تھی، جس کے دودھ کا ڈول ماہرہ گرا دیتی………….،

دودھ پینے سے پچھلے اتوار کو ہماری گلی کے تین لوگ جان سے گئے تھے، پہلے تو ایف آئی آر ہی نہیں کٹ رہی تھی اور جب اسے کٹے دو روز ہو گئے تو دودھ فروش نے بھی ضمانت کرا لی تھی وہ جس بھینس کالونی سے دودھ لاتا ہے وہاں کی کمیٹی کے صدر کا، علاقے کے ایم پی اے سے تعلق واسطہ بتایا جاتا ہے، آفاق ماہرہ کو پکڑنے کے لئے دودھ والی مائی کی طرح اس کے پیچھے بھاگتا ہے، لیکن وہ اپنی رفتار کم رکھتا ہے تاکہ یہ دوڑ طویل ہوجائے۔

ماہرہ یوں تو اِس رفتار سے تیز بھاگ سکتی ہے، جتنا وہ اب بھاگ رہی ہے لیکن وہ دانستہ اپنی رفتار کم رکھتی ہے تاکہ آفاق اسے پکڑ لے……….. لیکن ہم انہیں نہیں پکڑ سکے تھے، کیونکہ ان دو میں سے ایک کے پاس ریوالور تھا وہ عقبی دیوار پھلانگ کر اندر آئے تھے اور آتے ہی اُن میں سے ایک نے ریوالور ماں کی کنپٹی پر رکھ دیا تھا انہوں نے چپ چاپ گھر کی تلاشی لی، الماری کی دراز سے انہیں اکیس ہزار دو سو روپے، حوریہ کی بالیاں اور اومیکس کی وہ جیبی گھڑی مل گئی جو برسوں پہلے ولید نے اٹلی سے ابا جی مرحوم کے لئے بھیجی تھی، اور جب وہ سامان سمیٹ کر جانے لگے تو ماں نے انہیں کچھ نہیں کہا، بس کانوں سے اپنی بالیاں، جن پر اُن کی نظر نہیں پڑی تھی، اتار کر ان کے عوض جیبی گھڑی، جو دس سال سے بند پڑی تھی، کی واپسی کی فرمائش کر دی

وہ اچھے لوگ تھے، انہوں نے یہ سودا بخوشی منظور کر لیا، ہم انہیں آخر تک نہیں پکڑ سکے کیونکہ ان میں سے ایک کے پاس ریوالور تھا۔ لیکن آفاق نے ماہرہ کو عین گارڈن گیٹ کے سامنے پکڑلیا۔ جب ماہرہ کی بیالوجی کی کتاب اس کے ہاتھ سے گر گئی تو آفاق اسے اٹھا کر ایک طرف دوڑ گیا، اور جب ماہرہ کی آواز آئی کہ فاقی اسے کھولنا مت، اس میں میری کچھ سیکریٹس ہیں، تب دفعتاً ایک تصویر کتاب سے نیچے گرتی ہے۔ آفاق اس سے پوچھتا ہے کہ میرے ہوتے ہوئے میری تصویر کی ضرورت کیوں پڑتی ہے؟ ماہرہ بس اتنا ہی کہتی ہے کہ، پڑتی ہے ۔ اور جب ماہرہ، پڑتی، ہے کی ت کو کھینچ کر تین بار ادا کرتی ہے تو ٹریفک سگنل پر سبز اشارے پر ہی ٹریفک رک جاتی ہے آفاق ٹریفک سگنل عبور ………. ہاں بالکل اسی جگہ، کھمبے سے ذرا ہٹ کر، جب تنویر نے رہزنوں کے آگے مزاحمت کی تو اُن میں سے ایک نے سیدھا اَس کے سینے پر گولی مار دی تھی۔ تنویر اگر زندہ ہوتا اور وہ دونوں نہتے ہوتے تو وہ اس سے موٹر سائیکل کبھی نہیں چھین سکتے تھے، تنویر بلیک بیلٹ تھا۔ لیکن کسی ایسے منظر میں بلیک بیلٹ وہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں ریوالور ہو۔

آپ سن رہے ہیں نا مسٹر بن یامین؟ کیا میں اپنی کہانی جاری رکھوں؟ یا آپ کو اندازہ ہوگیا ہے کہ میں محبت کی کہانیاں لکھنے والا ایک صحت مند دماغ ہوں؟ کہانی کار اپنی بات کہہ کر جواب کا انتظار کرنے لگا، کمرے میں سکوت تھا، وہ پھر بولا، کیا معاذ اس بار مجھے موقع دے گا؟ اس نے میرا پچھلا افسانہ بھی ناقابل اشاعت کہہ کر لوٹا دیا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ میری تحریر میں ربط نہیں ہے، میں ایک جملے پر فوکس نہیں کر پاتا، اور مجھے فوراً کسی ماہر نفسیات سے رجوع کرنا چاہئے۔

ایک افسانہ منیر فراز

آپ سن رہے ہیں مسٹر بن یامین؟ میں محبت لکھنے والا کہانی کار ہوں نا؟ آپ مجھے اتنا بتا سکتے ہیں کہ جب آفاق نے ماہرہ کی بیالوجی کی کتاب اٹھا کر ٹریفک سگنل عبور کیا تھا تو کیا وہاں پھول بیچنے والے موجود تھے، تاکہ میں اپنی کہانی مکمل کروں اور لکھ سکوں کہ رسولت نگر کی ماہرہ جاگ رہی ہے۔ مجھے تو وہاں چار سو تنویر ہی کا خون نظر آتا ہے۔ بن یامین!، مسٹر بن یامین! کہانی کار کی آواز رندھی ہوئی تھی، کمرے میں مکمل خاموشی تھی۔

کہانی کار نے گردن اٹھا کر آنکھیں کھول دیں۔ بن یامین سر جھکائے نیم وا آنکھوں سے فرش پر پڑتی مدھم سرخ روشنی میں گم تھا۔ شاید اُسے معاذ کی طرح کہانی کار کا مسئلہ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ وہ اسے کچھ نہ بتا سکا، حتی کہ یہ بھی، کہ جو افسانہ وہ سنا رہا ہے، قابلِ اشاعت ہے یا نہیں۔

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

ایک افسانہ منیر فراز ایک افسانہ منیر فراز ایک افسانہ منیر فراز ایک افسانہ منیر فراز

اپنا تبصرہ بھیجیں