pic nikah nama 51

کیا نکاح نامہ عورتوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے؟

Spread the love

قانونی اعتبار سے نکاح نامے کو ایک معاہدہ قرار دیا گیا ہے جس میں دو فریق اکھٹے زندگی گزارنے کے لیے مختلف شرائط طے کرتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا نکاح نامہ عورتوں کے حقوق کا تحفظ کرتا ہے؟
‘عام طور پر شادی کے موقعے پر نکاح نامے کو اتنے غور سے نہیں پڑھا جاتا اور نہ ہی تفصیلات طے کی جاتیں ہیں۔ جن کی شادی ہو رہی ہوتی ہے وہ تو نکاح نامے کو دیکھتے بھی نہیں ہیں۔ کبھی گھر کے بڑے اور کبھی نکاح خواں ہی نکاح نامہ پُر کر دیتے ہیں۔(نکاح نامہ طلاق مہر)

نکاح نامہ غور سے پڑھنا کیوں ضرور ی ہے؟

ضروری ہے کہ نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی نکاح نامے کو دھیان سے پڑھیں تاکہ انھیں معلوم ہو کہ ان کے ازدواجی حقوق کیا ہیں اور ان کا تحفظ کس طرح کیا جا سکتا ہے۔
نکاح خواں کا کام صرف یہ ہے کہ وہ نکاح پڑھائے اور پھر اس کی رجسٹریشن کروائے-

یہ ایک بہت مثبت سوچ ہے کہ شادی سے پہلے لڑکا اور لڑکی دونوں مل کر نکاح نامہ پُر کریں۔ اگر آپ اپنے ہونے والے ہم سفر سے نکاح سے پہلے ہی شادی کی شرائط طے کر لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

نکاح نامے میں 25 شقیں ہیں

مروجّہ نکاح نامے کی 1 سے 12 نمبر شقیں سادہ اور آسان ہیں جن میں دولھا اور دلھن کے کوائف، شادی انجام پانے کی تاریخ اور وکیلوں اور گواہان کی تفصیلات لکھی جاتی ہیں۔23 سے 25 نمبر شقیں بھی عام ہیں جن میں نکاح خواں کے کوائف اور شادی رجسٹر کرانے کی تاریخ درج ہوتی ہے۔ لیکن شق نمبر 13 سے 22 انتہائی اہم ہیں جن پر بالخصوص توجہ دینے کی ضرورت ہے

مہر بیوی کا حق ہے

نکاح نامے کی شقیں 13 سے 17 مہر سے متعلق ہیں۔ مہر وہ رقم یا اس کا متبادل ہے جو شادی کے موقع پر شوہر بیوی کو ادا کرتا ہے۔ مہر دو قسم کا ہوتا ہے، ایک معجل اور دوسراغیرمعجل۔
مہر معجل نکاح کے وقت یا بیوی کے مطالبے پر فوری ادا کرنا ہوتا ہے جبکہ مہر معجل کسی معیّنہ تاریخ یا واقعے کے رونما ہونے پر ادا کرنا ہوتا ہے۔
مہر معجل کی صورت میں مہر کی ادائیگی کی شرائط نکاح نامے میں درج کرنا ضروری ہے۔

بیوی بھی طلاق دے سکتی ہے

نکاح نامے کی شق 18 میں پوچھا جاتا ہے کہ آیا شوہرنے طلاق کا حق بیوی کو دے دیا ہے؟
میں نے دیکھا ہے کہ اچھے پڑھے لکھے خاندانوں میں حق مہر کی تفصیلات پر تو کافی سنجیدہ مذاکرات ہوتے ہیں لیکن لڑکی کے حقِ طلاق جیسے اہم موضوع پر کوئی بات نہیں ہوتی۔ طلاق کے موضوع پر بات کرنا آج بھی ہمارے معاشرے میں نامناسب سمجھا جاتا ہے۔ طلاق کا فیصلہ والدین کے لیے بہت بڑا صدمہ ہوتا ہے لیکن جب انھیں اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی بیٹی اپنے شوہر کے گھر کن تکالیف سے گزرچکی ہے اور گزر رہی ہے تب اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ کاش حق طلاق کا کالم بھی پر کیا ہوتا۔ حق طلاق کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ طلاق کے لیے شوہر کے پیروں میں نہیں پڑنا پڑتا۔
اگر بیوی کے پاس حقِ طلاق نہیں ہو تو اُس کے پاس خلع یعنی عدالت کے ذریعے شادی ختم کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ جب لڑکی خلع کے لیے درخواست دیتی ہے تو وہ اپنے مہر کے حق سے دستبردار ہو جاتی ہے۔ اس طرح اسے ایک تو عدالت جانا پڑتا ہے اور دوسرا وہ اپنے مہر کی رقم سے محروم ہوتی ہے اور تین ماہ کا عرصہ بھی درکار ہوتا ہے۔

لڑکی کے حقِ طلاق کی صورت میں یونین کونسل میں طلاق کے لیے رجسٹریشن کروائی جاتی ہے جس کے بعد عدالت جائے بغیر طلاق بھی ہو جاتی ہے اور لڑکی کو اس کا حق مہر بھی ملتا ہے۔
لڑکی کا حقِ طلاق مشروط یا غیر مشروط ہو سکتا ہے لیکن مشورہ ہے کہ اُسے اپنا حقِ طلاق غیر مشروط رکھنا چاہیے۔

شوہر کا مشروط حقِ طلاق

نکاح نامے کی شق 19 کے مطابق بیوی شوہر کے حقِ طلاق پر شرائط عائد کر سکتی ہے۔
دیکھا گیا ہے کہ طلاق کے اکثر مقدمات میں لڑکیوں کے مالی مفادات کا تحفظ نہیں ہوتا۔ اس شق کے ذریعے بیوی پابندی لگا سکتی ہے کہ شوہر کے طلاق دینے کی صورت میں اُسے نان نفقہ یا دیگر اخراجات کے لیے معاوضہ دیا جائے گا۔

کوئی بھی شرط نکاح نامے کا حصہ بن سکتی ہے؟

نکاح نامے کی شق 20 کہتی ہے کہ اگر شادی کے موقع پر مہر و نان نفقہ سے متعلق کوئی دستاویز تیار کی گئی ہے تو اس کی تفصیلات درج کی جائیں۔
اس شق کے ذریعے میاں بیوی کے درمیان طے پانے والے اضافی نکات کا اندراج کیا جا سکتا ہے۔
مثلاً بیوی کہہ سکتی ہے کہ جائیداد اس کے نام کی جائے یا شوہر کی ماہانہ آمدنی کی ایک مقررہ شرح مخصوص مدّت تک بیوی کو ادا کی جائے۔

جعلی اکائونٹس کیسز ، آصف علی زر داری کے خلاف پانچواں ریفرنس سماعت کیلئے مقرر
اس شِق کے علاوہ میاں بیوی کے درمیان طے پانے والی کوئی بھی شرط ضمیمے کے طور پر نکاح نامے کا حصہ بنائی جا سکتی ہے۔

دوسری شادی کی اجازت

نکاح نامے کی شق 21 اور 22 مطالبہ کرتی ہیں کہ شوہر کی دوسری شادی کی صورت میں ثالثی کونسل سے اجازت حاصل کی جائے۔
عام طور پر دوسری شادی کے موقع پر پہلی بیوی سے اجازت نہیں لی جاتی۔ یہ کام چُھپ چُھپا کے ہی ہوتا ہے۔
شوہر کی دوسری شادی کے لیے پہلی بیوی کی تحریری اجازت تو ضروری ہے ہی، لیکن صرف یہ کافی نہیں۔
اس سلسلے میں حتمی اختیار ثالثی کونسل کے پاس ہے۔ ثالثی کونسل کو دوسری شادی کی وجوہات بتانی پڑتی ہیں اور پہلی بیوی اور شوہر کے نامزد نمائندے یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ دوسری شادی ہونی بھی چاہیے یا نہیں۔
لڑکا اور لڑکی نکاح نامے کو غور سے پڑھیں تاکہ انھیں اپنے حقوق کا علم ہو

اپنے حقوق کا تحفظ کریں

نکاح نامے سے متعلق معاشرے کی سوچ کو بدلنے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ صورتحال میں خواتین کے حقوق کا تحفظ نہیں ہو رہا۔
اگر ریاست نے شوہر اور بیوی کو حقوق دیے ہیں اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کی ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ یہ حقوق اپنے پاس رکھیں۔
‘میں یہ نہیں کہتا کہ اگر نکاح نامے میں لڑکی کو طلاق کا حق دیا گیا ہے تو وہ اس کو ضرور استعمال کرے مگر کم از کم اس حق کو اپنے پاس رکھے۔ آپ کو نہیں معلوم کہ مستقبل میں کیا ہو اور کب آپ کو یہ حق استعمال کرنا پڑ جائے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نکاح نامے کی دستاویز کے ذریعے شوہر اور بیوی کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
میں ایسے بے شمار لوگوں کو جانتا ہوں جو نکاح نامے کی تمام شقوں کو بخوبی سمجھنے کے بعد اس پر دستخط کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے قانونی حقوق کا تحفظ کر رہے ہیں۔

نکاح نامہ طلاق مہر نکاح نامہ طلاق مہر نکاح نامہ طلاق مہر

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں