بھوک بیماری عمران خان 29

ہم خیال گروپ کی وزیر اعظم سے ملاقات، ترین سمیت کسی سے ناانصافی نہیں ہو گی عمران

Spread the love

ہم خیال گروپ ملاقات

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن نیوز) جہانگیر ترین کے حامی ہم خیال گروپ کے رہنماؤں نے

وزیراعظم عمران خان سے اہم ملاقات کی اور ان کے سامنے مطالبات پیش کئے۔ وزیراعظم نے اس

معاملے پر جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ہم خیال گروپ نے رکن قومی اسمبلی

راجہ ریاض کی سربراہی میں وزیراعظم سے ملاقات کی جس میں شوگر انکوائری اور مبینہ منی

لانڈرنگ کے بارے میں بات کی گئی۔وزیراعظم عمران خان ملاقات کیلئے آئے وفد کی توجہ سے

گفتگو سنی لیکن جہانگیر ترین کے حوالے سے کمیشن بنانے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

وزیراعظم عمران خان نے ہم خیال گروپ کے اراکین کو یقین دہانی کرائی کہ آپ لوگ مجھ پر بھروسہ

رکھیں، کسی کیساتھ بے انصافی نہیں ہوگی۔وزیراعظم کیساتھ ملاقات کے بعد میڈیا نمائندوں سے

گفتگو کرتے ہوئے راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے بہت اچھے ماحول میں ملاقات ہوئی،

انہوں نے جہانگیر ترین کے معاملے میں ہر صورت انصاف کا یقین دلایا ہے۔ اس کے علاوہ شہزاد

اکبر کا معاملہ بھی وزیراعظم کے علم میں لایا گیا، تو انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ مجھ پر چھوڑ دیں۔

راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ آپ سب لوگ میرے ساتھی ہیں، کسی مخالف

کیساتھ بھی ناانصافی نہیں ہوگی، کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دوں گا۔ جہانگیر ترین کے حامی

ارکان اسمبلی نے وزیراعظم کی جانب سے تمام مطالبات تسلیم کیے جانے کا دعویٰ کیا ۔رکن قومی

اسمبلی راجا ریاض کا کہنا ہے کہ ملاقات میں وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ ہر صورت انصاف ہوگا

،کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔نذیر چوہان نے کہا کہ وزیراعظم نے ان کی تمام باتیں مان

لیں،شہزاد اکبر سے متعلق تحفظات پر وزیراعظم نے کہا کہ جہانگیر ترین کیس خود مانیٹر کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ قانون کی بالادستی کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا،

جہانگیر ترین سمیت کسی کیساتھ نا انصافی نہیں ہو گی، شوگر کمیشن کی تحقیقات پر کسی بھی قسم کا

دباؤ قبول نہیں، اگر کسی کا خیال ہے کہ میں کسی کے دباؤ میں آکر جاری تحقیقات روک دوں گا تو وہ

بڑی غلطی پر ہے،یہ ذہن میں رکھیں کہ صرف وزیر اعظم رہنے کے لیے حق کا ساتھ چھوڑ دوں،

ایسا نہیں ہو گا۔ وزیراعظم عمران خان سے جہانگیر ترین گروپ کی ملاقات کی اندرونی کہانی بھی

سامنے آگئی ہے، راجہ ریاض، نعمان لنگڑیال، عبدالحئی دستی، نذیر چوہان نے وزیراعظم سے بات

کی۔ راجہ ریاض نے کہا کہ وزیراعظم صاحب ! جہانگیر ترین صاحب کی خدمات آپ سے ڈھکی

چھپی نہیں ہیں، ہم حمایت نہیں مانگ رہے، چاہتے ہیں انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔نذیر چوہان نے

کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ شہزاد اکبر صاحب کا ٹارگٹ صرف جہانگیر ترین ہیں۔نعمان لنگڑیال نے کہا

کہ معاملہ چینی کا تھا، اس میں سے کچھ نہیں ملا تو اور کیسز کھول دیے،ارکان نے مطالبہ کیا کہ

مشیر داخلہ شہزاد اکبر اور انکی ٹیم کو اس معاملے سے الگ کرکے کمیشن سے تحقیقات کروائیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے اچھا لگا کہ آپ نے اپنے اعتراضات بتائے، آپ سب لوگوں

کو مجھ پر اعتماد ہے؟ میری واضح پالیسی ہے کہ احتساب کے دوران مخالفین کے ساتھ بھی زیادتی نہ

ہو۔انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین میرے ذاتی دوست اور پارٹی کے اہم رہنما ہیں، انصاف کا تقاضا ہے

کہ ہم سب قانون کے سامنے جوابدہ ہوں، ہم میرٹ اور انصاف کا مقصد کے لیے اقتدار میں آئے ہیں،

چینی کی قیمت میں اچانک اتنا اضافہ ہوا تو کیا ہم پوچھیں بھی نہیں؟عمران خان نے کہا کہ آپ لوگ

یقین رکھیں کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی، قانون کی بالادستی کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی نہیں

کر سکتا، انصاف کا تقاضا ہے کہ سب کو صفائی کا پورا موقع ملے، عمران خان شہزاد اکبر کو کسی

سے ذاتی دشمنی نہیں، وہ میرٹ پر کام کررہے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے شوگر کمیشن پر جاری

تحقیقات پر کسی بھی قسم کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ساری کارروائی بلاامتیاز

ہو گی، اگر کسی کا خیال ہے کہ میں کسی کے دباؤ میں آکر جاری تحقیقات روک دوں گا تو وہ بڑی

غلطی پر ہے، یہ ذہن میں رکھیں کہ صرف وزیر اعظم رہنے کے لیے حق کا ساتھ چھوڑ دوں، ایسا

نہیں ہو گا۔راجہ ریاض کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آپ میں سے بہت لوگ بعد میں

تحریک انصاف کا حصہ بنے، یہ ذہن میں رکھیں کہ میں صرف وزیر اعظم رہنے کے لیے حق کا

ساتھ چھوڑ دوں،ایسا نہیں ہو گا۔ جہانگیر ترین ہم خیال گروپ کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کی

ملاقات کے دورا ن ارکان کی طرف سے وزیراعظم کو خط بھی دیا گیا۔ خط کے مندرجات کے مطابق

اراکین ا سمبلی وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کے خلاف پھٹ پڑے۔ انکا کہناتھا دس

شوگر ملوں کو انکوائری کے لئے منتخب کیا گیا جن میں سے تین جہانگیر ترین کی ہیں ۔ ایک شریف

فیملی اور ایک خسرو بختیار ملیں شامل ہیں ۔ اومنی گروپ اور ہمایوں اختر فیملی کی کسی جگہ خلاف

کارروائی نہیں کی جارہی ۔شہزاد اکبر نے کابینہ اجلاس میں بتایا تھا کہ کے ڈی ڈبلیو کے اکاؤنٹس میں

بے ضابطگیاں پائی جاتی ہیں۔ترین کی تین ملوں کے فرانزک آڈٹ میں کوئی سیکرٹ اکاؤنٹ یا ڈبل

انٹری سامنے نہیں آئی۔شہزاد اکبر نے 27 جولائی 2020 کو کہا کہ انکوائری کمیشن نے اینٹی منی

لانڈرنگ ایکٹ کے تحت شواہد حاصل کئے ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ شہزاد اکبر نے کہا کہ یہ شواہد

ایف آئی اے کے سپرد کئے جائیں گے۔لیکن ایسی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔خسرو فیملی کی ملوں

کے ساتھ دوستانہ سلوک رکھا جارہا ہے۔شہباز شریف کے خلاف ایک جبکہ ترین ان کے بچوں اور

ملازمین پر تین مقدمات درج کئے گئے ۔جہانگیر ترین کا تمام لین دین مکمل طور پر کاروباری ہے

ایف آئی اے کا اس سے کوئی تعلق نہیں بنتا۔جے ڈی ڈبلیو کے کسی شراکت دار نے کبھی کسی بے

ضابطگی کی شکایت نہیں کی۔ایف آئی اے جے ڈی ڈبلیو کے خلاف کسی شکایت پر نہیں بلکہ شہزاد

اکبر کے ایما پر ازخود نوٹس کے تحت کارروائی کی۔ ارکان نے وزیراعظم سے شہزاد اکبر کو ہٹانے

کا مطالبہ بھی کیادریں اثنا وزیر اعظم نے جہانگیر ترین اور ہم خیال گروپ کے تحفظات سننے کیلئے

سینیٹر علی ظفر کی سربراہی میں کمیٹی بنا دی ہے

ہم خیال گروپ ملاقات

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں