گستاخانہ خاکوں کیخلاف قرارداد 26

سندھ اسمبلی، گستاخانہ خاکوں کیخلاف مذمتی قرارداد منظور

Spread the love

گستاخانہ خاکوں کیخلاف قرارداد

کراچی(صرف اردو آن لائن نیوز) سندھ اسمبلی میں فرانس کی جانب سے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت

کے خلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ جماعت اسلامی کی جانب سے وفاقی وزیر

داخلہ شیخ رشید کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔سندھ اسمبلی اجلاس میں وزیر اطلاعات ناصر

حسین شاہ کی جانب سے ناموس رسالت کے متعلق قرار داد پیش کی گئی، جو متفقہ طور پر ایوان نے

منظور کر لی۔قرارداد پیش کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ ناصر حسین شاھ نے اپنے خطاب میں کہا

کہ ہماری جانیں ناموس رسالت پر قربان ہیں، اس حساس مسئلہ کو بہت خوش اسلوبی سے حل ہونا

چاہیے تھا۔جماعت اسلامی کے رکن سید عبدالرشید نے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کو برطرف کرنے

کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ناموسِ رسالت کے حوالے سے کیے گئے معاہدوں پر عمل کیا جائے۔

کالعدم ٹی ایل پی کے مفتی قاسم فخری نے کہا کہ گزشتہ برس نومبر وفاقی حکومت اور تحریک لبیک

کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا حکومتی نا اہلی کی وجہ سے دوبارہ وقت دیا گیا پھر احتجاج کیا

تو ان پر گولیاں برسائیں گئیں، مظاہرین پر فائرنگ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر میری

پارٹی پر پابندی ختم کی جائے۔دریں اثناکالعدم تحریک لبیک پاکستان کے رکن مفتی قاسم فخری کی

تقریر کے بعد اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر ایوان میں ہنگامہ کھڑا

ہوگیا، پی ٹی آئی ارکان نے ایون میں زبردست نعرے بازی کی اس موقع پر قائد حزب اختلاف اور

ڈپٹی اسپیکر کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔مفتی قاسم فخری کی تقریر کے بعد پی ٹی آئی ارکان نے

ایوان میں نعرے بازی شروع کردی ۔اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو

ڈپٹی اسپیکر ریحانہ لغاری نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی جس پر ایوان میں شور شرابہ ہوگیا اور

قائدحزب اختلاف اور ڈپٹی اسپیکر کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی ۔حلیم عادل شیخ نے کہا کہ مجھے

بولنے کے لیے آپ کی اجازت کی ضرورت نہیں ہے جس پر ریحانہ لغاری نے کہا کہ آپ روڈ پر نہیں

کھڑے ہوئے اسمبلی میں میری اجازت لینا ہوگی ۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے شرجیل انعام میمن نے

کہا کہ ہم اس ایوان میں حلیم عادل شیخ کو اس وقت تک نہیں بولنے نہیں دینگے جب تک کہ وہ معافی

نہ مانگیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کون ہوتے ہیں کہ کہ کہیں اسپیکر کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ ریحانہ

لغاری نے کہا کہ آپ اسپیکر کو دھمکیاں دینگے تو بولنے نہیں دونگی۔صوبائی وزیر سید ناصر حسین

شاہ نے کہا کہ حلیم عادل اپنے الفاظ واپس لیکر معذرت کریں ، حلیم عادل جوش جذبات میں کہہ گئے

جس پر قائد حزب اختلاف نے کہا کہ مجھے بولنے دیاجائے ۔اس موقع پرحلیم عادل شیخ نے شرجیل

میمن کو چھچورا کہہ دیا۔ جس پرپی ٹی آئی اورپیپلزپارٹی ارکان کے درمیان جھگڑا ہوگیا۔ حلیم عاد ل

شیخ نے کہا کہ میں چھچوروں کی بات کا جواب نہیں دونگا جس پر شرجیل انعام میمن بھی بھڑک

اٹھے اور کہا کہ چھچورا ہوگا تو شرجیل میمن کے اس ریمارکس پر خاصاشور شرابہ ہوا بعدازاں

سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعرات کی دوپہر تک ملتوی کردیا گیا۔

گستاخانہ خاکوں کیخلاف قرارداد

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں