Mudassir Bhatti 151

شکریہ صاحبزادہ حامد رضا و مفتی کریم خان

Spread the love

شکریہ صاحبزادہ حامد رضا

پیر کی شام چار بجے تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ ایک جنازہ پڑھا کر آ رہے تھے۔ اس گرفتاری کے پس منظر میں حکومتی اراکین کے ساتھ فرانس کے سفیر کو نکالنے کے ہونے والے مذاکرات کی ناکامی تھی۔ حیرت انگیز طور پر سعد رضوی کی گرفتاری کے صرف آدھ گھنٹے کے بعد ہی پورا لاہور جام ہو کر رہ گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ اس دوران پورا ایک ہفتہ پورا ملک عام طور پر اور لاہور شہر خاص طور پر تختہ مشق بنا رہا۔

اس دوران جو کچھ بھی ہوا وہ کسی سے چھپا ہو ا نہیں ہے ہنگاموں نے جو صورت اختیار کی اس سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہاں پر تحریک لبیک کے اراکین کے علاوہ بھی بہت سے مفسدین اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے رہے اور ہر طرح سے فائدہ اٹھایا گیا۔ پولیس پر ہونے والا تشدد اور لاٹھے چارج ایک مسئلہ تھا دوسری طرف یہ بھی سمجھ نہیں آرہا تھا کہ آخر کار یہ سب ہو کیسے رہا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں جو سعد رضوی کی گرفتاری کے محض تیس منٹ کے اندر ہی جمع ہو گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک پر امن جماعت کیسے پر تشدد مظاہروں پر اتر آئی۔

اس سے قبل فیض آباد دھرنے کی مثال ہمارے سامنے تھی 16 روز تک ایک طرف بیٹھ کر احتجاج کیا گیا مگر ایک پتہ تک نہیں گرا۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ جماعت اہلسنت (بریلوی) کا تعلق صوفیا کرام سے ہے اور صوفیا کرام کی تمام تر تعلیمات اور عمل ہمیشہ سے امن اور آشتی پر مبنی رہا ہے۔ اس سے قبل ہمارے پاس کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس میں ایسی صورتحال پیش آئی ہو۔

یہ بات بھی غور طلب ہے کہ پولیس پر تشدد جیسا بدنما واقعہ بھی پیش آیا اور اس میں دو پولیس اہلکار جان کی بازی بھی ہار گئے جس پر سوشل میڈیا پر بہت شور برپا ہوا بلا شبہ یہ افسوسناک واقعہ ہے ہنگامہ آرائی میں کسی کا جان سے جانا تو کیا زخمی ہونا بھی انتہائی افسوسناک امر ہوتا ہے۔ اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ سامنے آئی ہے کہ اس ہنگامہ آرائی میں تحریک لبیک کے 6 اراکین بھی اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے لیکن ان احباب کے لیے کسی میڈیا یا سوشل میڈیا نے آواز نہیں اٹھائی حالانکہ وہ بھی ہمارے بھائی ہی تھے جیسا کہ پولیس اہلکار۔ اس کے علاوہ ایک شخص آج بھی جان سے گیا اور ایک شخص جس کے بارے میں پولیس کے ایک اعلی عہدِ دار نے دعوی کیا تھا کہ وہ ان کا عزیز تھا اور ایمبولینس کو راستہ نہ ملنے کی وجہ سے اس کا انتقال ہوا ہے۔

یہاں پر تمام تر ذمہ داری تحریک لبیک پر ڈال کر حکومت اپنا پلہ جھاڑ رہی ہے اور کسی بھی سطح پر کوئی کمیشن قائم نہیں کیا جا رہا جو اس بات کی تحقیق کرے کہ ہنگامہ آرائی کرنے والے لوگ حقیقت میں کون تھے ، اس بات کی تحقیق کی جانی بہت ضروری ہے کہ کیا وہ تحریک کے ہی لوگ تھے جنہوں نے ہنگامہ آرائی کی اور لوگوں کی جان و مال واملاک کو نقصان پہنچایا۔

میں سمجھتا ہوں کہ اس امر کی خاص طور پر تحقیق ہونی چاہیے کہ کہیں ہمیشہ کی طرح مخالفین نے یا پھر حکومت نے تو اپنے گلو بٹوں کی ذریعے یہ ساری ہنگامہ آرائی نہیں کرائی۔

یہ بات بھی تحقیق طلب ہے کہ اس وقت تک الیکٹرونک میڈیا میں 92 نیوز کسی حد تک معتدل پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے اور تحریک لبیک کے لیے بہرحال نرم گوشہ رکھتا ہے اور اس کے تمام تر پروگراموں کو مناسب کوریج دیتا ہے اس کے رپورٹر اور کیمرہ مین کو فیروز پور روڈ پر مارا گیا اور اس کا موبائل چھین کر توڑ دیا گیا، جس سے کوریج کے لیے آئے اراکین میں بددلی پھیلی۔ میرا گمان ہے کہ یہ سارا کام تحریک کے اراکین کا تو نہیں ہوسکتا۔

یہاں مجھے یہ کہنے میں بھی کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی کہ تحریک لبیک پر پابندی کا فیصلہ حکومت کا غیر دانشمندانہ اقدام ہے اس جماعت پر پابندی عائد کی گئی ہے جو 2018ء کے الیکشن میں تیسری سب سے زیادہ ووٹ بنک رکھنے والی جماعت کے طور پر سامنے آئی تھی اور یہ بات بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے کہ اس جماعت نے ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ الیکشن میں حصہ لیا تھا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا جاتا اور سیاسی پارٹیوں کو اعتماد میں لیا جاتا اور اس پر بحث کی جاتی کیونکہ تحریک لبیک کی نمائندگی ملکی اسمبلیوں میں موجود ہے۔

مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ عمران خان کی حکومت نے گذشتہ اڑھائی سالوں میں ابھی تک کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی بنیاد پر ہم اس کو آئندہ الیکشن میں منتخب کرنے کی جسارت کریں۔ اس کی تمام تر حرکات و امور وہی ہیں جو استعماری قوتیں اپنے مخالفوں کے ساتھ کرتی آئی ہیں۔ ابھی تک جتنے بھی کیس بنائے گئے تھے ان میں سے کسی کو بھی حکومت ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ میرا خیال ہے کہ اگر حکومت اسی طرح چلتی رہی تو آنے والے الیکشن میں پی ٹی آئی کی ضمانتیں بھی ضبط ہو جائیں گی۔

بہر حال اس ایک ہفتے کی اعصاب شکن محاذ آرائی میں اگر کسی نے کوئی کام کیا ہے تو وہ صاحبزادہ حامد رضا اور مفتی کریم خان ہیں جنہوں نے بروقت اس ساری صورتحال کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے فریقین میں مفاہمت کی نہ صرف پیش کش کی بلکہ اس مختصر عرصہ میں ملک بھر سے اہلسنت علمائے کرام کو جمع کیا سعد رضوی اور حکومت کے درمیان مفاہمت کروائی اور ماہ صیام میں 8 گھنٹے سے طویل مذاکرات کے بعد اس مسئلہ کو سلجھایا۔
اس ساری صورتحال پر کوئی اپنا یا پرایا سامنے آنے کو تیار نہیں تھا جس سے بھی بات کرنا چاہی اس کا نمبر بند ہی ملا لیکن صاحبزادہ حامد رضا خود سے سامنے آئے اور رابطہ کر کے اپنی خدمات پیش کیں۔ اس سارے عمل کی روح رواں مفتی کریم خان تھے جنہوں نے فرداً فرداً احباب سے رابطہ کیا اور میڈیا کا محاذ بھی سنبھالے رکھا ان کو میں خاص طور پر مبارکباد اور تحسین اس لیے پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اس سارے عمل میں انہوں نے امن کا پرچم تھامے رکھا لیکن کسی بھی جگہ نمایاں ہونے کی کوشش نہیں کی۔ بلاشبہ ایسے علمائے کرام ہی ہمارے سروں کے تاج ہیں اور ہمارا فخر ہیں۔

شکریہ صاحبزادہ حامد رضا

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں