کرونا کی نئی قسم 22

کورونا سے137 اموات، سرکاری ہسپتالوں پر شدید دباو

Spread the love

کورونا سے137 اموات

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن نیوز) کورونا وائرس سے 137 افراد جاں بحق ہوگئے، جس کے بعد

اموات کی تعداد 16 ہزار 453 ہوگئی۔ پاکستان میں کورونا کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 7 لاکھ 66

ہزار 882 ہوگئی۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ 24

گھنٹوں کے دوران 5 ہزار 445 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، پنجاب میں 2 لاکھ 73 ہزار 566، سندھ میں

2 لاکھ 73 ہزار 466، خیبر پختونخوا میں ایک لاکھ 7 ہزار 309، بلوچستان میں 21 ہزار، گلگت

بلتستان میں 5 ہزار 191، اسلام آباد میں 70 ہزار 609 جبکہ آزاد کشمیر میں 15 ہزار 741 کیسز

رپورٹ ہوئے۔ملک بھر میں اب تک ایک کروڑ 12 لاکھ 72 ہزار 531 افراد کے ٹیسٹ کئے گئے،

گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 68 ہزار 2 نئے ٹیسٹ کئے گئے، اب تک 6 لاکھ 67 ہزار 131 مریض

صحت یاب ہوچکے ہیں جبکہ 4 ہزار 494 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے۔

کورونا کی تیسری خطرناک لہر کے دوران صوبائی دارالحکومت میں کورونا مریضوں کی تعداد

بڑھنے پر سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز سمیت اہم آلات اور مشینری کی تعداد کم پڑ گئی، جس

کی وجہ سے سینکڑوں مریضوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں۔ہسپتالوں میں خوف و ہراس کی فضا

زور پکڑ گئی. سرکاری ہسپتالوں میں فراہم کئے گئے480 کے قریب وینٹی لیٹر بھی مریضوں کو

بچانے کیلئے ناکافی ثابت ہو چکے بعض سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر کی تعداد ایک یا دو جبکہ

بڑے سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر کی کل تعداد 480کے قریب ہے مگر پھر بھی وینٹی لیٹر ملنا

جوئے شیر لانے کے مترادف ہے سرکاری ہسپتالوں کی انتظامیہ نے وینٹی لیٹرز اور آکسیجن بیڈز کی

تعداد کو انتہائی ناکافی قرار دیتے ہوئے محکمہ صحت سے مزید وینٹی لیٹرز اور آکسیجن بیڈز کا

مطالبہ کر رکھا ہے۔ اس میں شہر کے بڑے سرکاری جنرل ہسپتال ، جناح ہسپتال، سروسز ہسپتال اور

میو ہسپتال میں موجود وینٹی لیٹرز مرضوں سے بھر چکے اور مزید آنے والے مریضوں کو وینٹی

لیٹر اور آکسیجن نہ ملنے کے باعث اموات میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا کورونا اس تیسری اور

خطرناک لہر کے دوران جنرل ہسپتال میں کل 200 وینٹی لیٹرز ہیں ۔ ۔ کورونا اس تیسری خطرناک

لہر کے دوران مریضوں کی تیزی سے بڑھتی تعداد کے پیش نظر سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز

اور آکسیجن بیڈز کم پڑ گئے ہیں۔ ایم ایس سروسز ہسپتال نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹرز

کی تعداد مریضوں کی نسبت انتہائی کم ہے اس میں کوڈ اور نان کوڈ مریضوں کے لئے وینٹی لیٹرز

اور آکسیجن بیڈز کی ضرورت ہوتی ہے ۔ چونکہ کورونا کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور

وینٹی لیٹرز کو کورونا مریضوں کیلئے دینے کو زیادہ ترجیح دی جا تی ہے جبکہ دیگر نان کوڈ

مریضوں کو وینٹی لیٹر نہ ملنا یا کمی ہونے سے پریشانی کا سامنا ہے۔ اس میں حکومت اور محکمہ

صحت کو ہنگامی طور پر اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

کورونا سے137 اموات

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں