فرانسیسی سفیر ملک بدری 25

فرانسیسی سفیر کی ملک بدری, قومی اسمبلی میں قرارداد بحث کیلئے منظور

Spread the love

فرانسیسی سفیر ملک بدری

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن نیوز) فرانس میں سرکاری سرپرستی میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر

فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کے معاملے پرقومی اسمبلی میں پیش کی جانیوالی قرارداد پربحث کے

حوالے سے تحریک متفقہ طور پر منظور کرلی گئی ہے،بحث کے بعد قرارداد کی منظوری دی جائے گی۔قرارداد کے متن پر اپوزیشن کے احتجاج کے بعدسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپوزیشن اور

حکومت کو مشترکہ قرارداد لانے کا کہتے ہوئے اجلاس جمعہ تک ملتوی کر دیا ۔منگل کوسپیکر اسد

قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو وزیر مملکت علی محمد خان نے قومی

اسمبلی کی معمول کی کارروائی معطل کرنے کی تحریک ایوان میں پیش کی جس پر ایوان نے قومی

اسمبلی کی معمول کی کارروائی معطل کر دی۔ فرانسیسی میگزین کی جانب سے سرکاری سرپرستی میں

توہین رسالت کے ارتکاب کیخلاف فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کی قرارداد پیش کی گئی ۔ رکن

اسمبلی امجد علی خان نے بطور پرائیوٹ ممبر قرارداد پیش کی ۔پاکستان پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی

کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ ن لیگ اور جے یو آئی ف کے ارکان اسمبلی میں

موجود رہے ۔تحریک انصاف نے اپنے ارکان کو قومی اسمبلی اجلاس میں زیادہ سے زیادہ حاضری

یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔ن لیگ کے 34 اراکین جبکہ جے یو آئی کے 7 اور جماعت اسلامی کا

ایک رکن ایوان میں موجود تھے۔ ایوان میں پیش کی گئی قرار داد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان

متنازعہ فرانسیسی میگزین چارلی ہیپڈو کی طرف سے یکم ستمبر 2020 ء کو شان رسالت ؐ میں

گستاخی اور توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی پرزور مذمت کرتا ہے ۔ فرانسیسی میگزین کی طرف سے

پہلی بار 2015 ء میں پیغمبر اسلام ؐ کے گستاخانہ خاکے شائع کرنے پر پوری دنیا کے مسلمانوں کی

طرف سے شدید غم و غصے کے اظہار کے باوجود ایک بار پھر عالمی سطح پر مذہبی ہم آہنگی اور

امن کو ٹھیس پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ فرانسیسی صدر کی طرف سے آزادی اظہار رائے کے

نام پر کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے عناصر کی حوصلہ افزائی انتہائی

افسوسناک ہے لہذا یہ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے کے مسئلہ پر بحث

کی جائے ۔ تمام یورپی ممالک بالعموم اور فرانس بالخصوص کو اس معاملہ کی سنگینی سے آگاہ کیا

جائے ۔تمام مسلم ممالک سے معاملے پر سیر حاصل بات کی جائے اور اس مسئلے کو اجتماعی طور پر

بین الاقوامی فورمزپر اٹھایا جائے ۔یہ ایوان اس بات کا بھی مطالبہ کرتا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات کے

معاملات ریاست کو طے کرنے چاہئییں اور کوئی فرد ، گروہ یا جماعت اس حوالہ سے بے جا غیر

قانونی دباؤ نہیں ڈال سکتا

فرانسیسی سفیر ملک بدری

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں