27

سانحہ لاہور کیخلاف ملک بھر میں جزوی ہڑتال

Spread the love

لاہور ، گوجرانوالہ , کراچی (صرف اردو آن لائن نیوز) سانحہ لاہور ہڑتال

لاہور آپریشن کے خلاف مفتی منیب الرحمان سمیت علمائے کرام کی اپیل پر راولپنڈی، اسلام آباد،

کراچی سمیت ملک گیر شٹرڈاون ہڑتال ہوئی۔ ہڑتال کے دوران تمام چھوٹے بڑے کاروباری مراکز اور

مارکیٹیں بند رہیں جبکہ سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم رہی اور دفاتر میں حاضری متاثر رہی۔

بعض مقامات پر مظاہرین نے ٹائروں کو آگ لگا کر سڑک بند کرکے احتجاج کیا۔ پنجاب بھر میں پولیس

ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ رہی اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات

رہی مفتی منیب الرحمن کی اپیل پر صوبائی دارالحکومت کی تمام چھوٹی بڑی مارکیٹیں بند رہیں تاہم

گلی محلے میں اشیائے خورودوش کی خریدوفروخت کا سلسلہ جاری رہا۔ شہر کی اہم اور بڑی سڑکیں

بھی سنسان تاہم سرکاری دفاتر اور بینک کھلے رہے، سانحہ یتیم خانہ رونما ہونے پر تاجروں میں شدید

تشویش پائی گئی۔ ہڑتال کے باعث شہریوں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔تفصیلات کے مطابق

کالعدم تنظیم کے احتجاجی شرکاء پر ہونے پر تشدد اور ہلاکتوں پر تاجر تنظیمیں بھی میدان میں آ گئیں

اور سانحہ یتیم خانہ کے خلاف پاکستان علماء اتحاد کونسل کے سربراہ مفتی منیب الرحمن کی کال پر

مکمل ہڑتال کرتے ہوئے مارکیٹیں اور بازار بند مکمل طور پر بند کر دئیے۔شہر بھر کی بڑی مارکیٹیں

جن میں غالب مارکیٹ، مین مارکیٹ، شاہ عالم مارکیٹ، برانڈرتھ روڈ، کیمرہ مارکیٹ، مون مارکیٹ ،

برکت مارکیٹ، اسلام پورہ روڈ ، کرشن نگر روڈ، حکیماں والا بازار،چاندنی چوک بازار ، ہال روڈ،

مال روڈ، دولہا سٹریٹ ،فیروز پور روڈ، شالیمار لنک روڈ، صدر بازار، باغبانپورہ بازار، جی ٹی روڈ پر

واقع تمام چھوٹی بڑی دکانیں اور مارکیٹیں بند رہیں جبکہ صدیق ٹریڈ سنٹر، حفیظ سنٹر میں واقع دکانیں

بھی مکمل طور پر بند رہیں تاہم اس تشویشناک صورتحال کے موقع سرکاری دفاتر اور بینک کھلے رہے

ہیں ۔ ہڑتال کے باعث شہریوں کو ضروریات زندگی کی اشیاء خریدنے کے لئے شدید پریشانی کا سامنا

کرنا پڑا ہے۔ اس حوالے سے آل پاکستان انجمن تاجران کے صدر خالد پرویز نے کہا ہے کہ بڑا عجیب

مسئلہ بن گیا ہے ، حکومت کو چاہیے کہ مذاکرات کر کے معاملات نمٹائے ۔ اگر حکومت پہلے دن سے

ہی مذاکرات اور تحمل و برباری کا مظاہرہ کرتی تو نوبت ہلاکتوں تک نہ پہنچتی۔ انہوں نے کہا کہ ہڑتال

کب تک رہتی ہے اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے تاہم یہ حکومت پر منحصر ہے کہ وہ کیا فیصلہ

کرتی ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ کل یا پرسوں کے بجائے مسئلہ آج شام یا رات تک مذاکرات کے

ذریعے حل ہو جائے گا۔جنرل سیکرٹری انجمن تاجران پاکستان نعیم میر نے کہا ہے کہ تحفظ ناموس

رسالت پر ہماری جانیں بھی قربان ہیں۔حکومت نے مذہبی تنظیم کو کالعدم قرار دے کر مسئلہ بنا دیا ہے۔

سانحہ یتیم خانہ رونما ہونے پر حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے ہیں اس میں حکومت کو فوری مذاکرات

کر کے معاملات حل کرنے چاہئیں۔ صدر پاکستان تحریک انصاف ٹریڈرز ونگ طاہر نوید نے کہا کہ

مسئلے کا حل مذاکرات سے ممکن ہے نا کہ سڑکوں پر آنے سے۔ فرانس کی جانب سے خاکوں کی

پرزور مذمت کرتے ہیں ۔ حکومت ہو اپوزیشن ہو یا کوئی اور جماعت معاملات و مسائل کو افہام تفہیم

سے حل کرنے میں ہی ملک و قوم کی بہتری ہے۔شاہ عالم مارکیٹس بورڈ خواجہ عامر گروپ کے صدر

خواجہ عامر اور غلام محمد بٹ نے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت پر ہماری جانیں بھی قربان ہیں۔ہمارا دین

اسلام ہے۔ہم اپنے قائدین کی کال پر متحد ہیں۔ سب سے پہلے اسلام بعد میں کاروبارہے۔ ناموس رسالتؐ

کا تحفظ کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ حکومت بیرون آقاؤں کے اشاروں پر چل کر زیادتی کر رہی ہے۔

کورونا کی آڑ میں پہلے ہی کاروبار تباہ ہو چکے ہیں اوپر حکومت نے ایک مذہبی تنظیم کو کالعدم قرار

دیکر اور احتجاجی شرکاء پر تشدد و ہلاکتیں کر کے ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے ہیں۔اس میں حکومت کو

چاہیے مذاکرات کر کے معاملات کو سلجھائے تاکہ ملک میں پھیلی بدامنی اور تشویش کا خاتمہ ہو ۔۔

مختلف تاجر تنظیموں نے لاہور واقعے کیخلاف بازاروں میں ریلیاں بھی نکالیں۔ تاجروں کا کہنا تھا کہ

علما کرام سے یکجہتی کرتے ہوئے ہڑتال کی گئی۔ صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کاشف چوہدری

نے کہا کہ عشق مصطفیؓ اور ناموس رسالت ﷺ کیلئے کاروبار تو کیا جان بھی قربان ہے۔ آل پاکستان

انجمن تاجران اور مرکزی تنظیم تاجران نے فرانسیسی سفیر کو فوری ملک بدر کرنے ، وزیراعلی

پنجاب عثمان بزدار اور وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید کو عہدے سے ہٹانے اور لاہور واقعہ کی عدالتی

تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ صدر آل پاکستان انجمن تاجران اجمل بلوچ نے ایک بیان میں کہا کہ پیغمبر صلی

ﷲ علیہ وسلم کی شان ہمیں اپنی جانوں اور مالوں سے زیادہ عزیز ہے۔لاہور واقعے کیخلاف کراچی بار

نے سٹی کورٹ میں یوم سیاہ منایا۔

سانحہ لاہور ہڑتال

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں