25

توہین رسالتؐ ناقابل برداشت ، مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنیوالے معافی مانگیں،وزیراعظم

Spread the love

توہین رسالتؐ ناقابل برداشت

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے ریاست کی رٹ چیلنج کرنے پر

تحریک لبیک کیخلاف ایکشن لیا، کوئی بھی قانون سے بالا تر نہیں ، مسلمانوں کے جذبات کو مجروح

کرنیوالے مغربی باشندے معافی مانگیں، توہین رسالتؐ کسی صورت برداشت نہیں۔وزیراعظم عمران خان

نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ملکی اور غیر ملکیوں کو ایک بات واضح

کرنا چاہتا ہوں، تحریک لبیک پاکستان کیخلاف انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت کارروائی کی گئی،

تحریک لبیک پا کستا ن کی جانب سے ریاست کی رٹ کو چیلنج کیا گیا، سڑکوں پر پرتشدد مظاہرے

کیے گئے، مظاہرین کی جانب سے قانون نافذ کرنیوالوں پر حملے کیے گئے، قانون اور آئین سے کوئی

بالاتر نہیں ہوسکتا۔ مغربی حکومت نے ہولوکاسٹ کے بارے میں کسی بھی منفی تبصرے پر پابندی

لگائی، مغربی حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہوں وہ ہمارے نبی کریم ؐ کی توہین کرنیوالوں کیلئے بھی یہی

معیار اپنائیں، مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز پیغامات پھیلانے والوں کیلئے بھی سزا ء کا یہی معیار ہونا

چاہیے۔ بیرون ملک اسلامو فوبیا اور نسل پرستی میں ملوث انتہا پسند سن لیں حضوراکرمؐ ہمارے دلوں

میں بستے ہیں، بیرون ملک انتہا پسند ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے ہیں،

مسلمان سب سے زیادہ پیار اور احترام حضور اکرم ؐ کا کرتے ہیں، ہم توہین برداشت نہیں کریں گے۔

پاکستان اور دنیا بھر میں رہنے والوں کیلئے ایک بات واضح کر رہا ہوں جب تحریک لبیک نے تشدد کا

راستہ اپنایا، لوگوں اور سکیورٹی فورسز پر حملہ کیا تو اس کیخلاف کارروائی کی گئی۔ان کا کہنا تھا

مغرب میں بسنے والے انتہا پسند سیاستدان آزادی اظہار رائے کی آڑ میں مسلمانوں کیخلاف نفرت

پھیلانے میں اخلاقی طور پر اس قدر گر چکے ہیں کہ وہ 1.3 ارب مسلمانوں سے ان کی دل آزاری پر

معافی بھی نہیں مانگتے، ہم ایسے انتہاپسندوں سے معافی کا مطالبہ کرتے ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا میں

مغربی ممالک کی حکومتوں سے بھی مطالبہ کرتا ہوں جنہوں نے ہولوکاسٹ پر منفی تبصروں پر

قانونی پابندیاں لگائیں وہ اسی معیار پر پیغمبر اسلام صلی اﷲ علیہ وآلہ سلم کی توہین کر کے مسلما نو ں

کیخلاف نفرت پھیلانے والوں کیلئے بھی سزائیں نافذ کریں۔

توہین رسالتؐ ناقابل برداشت

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں