کم عمری کی شادی 18

جنوبی ایشیا میں کم عمری کی شادی کے رجحان میں کمی

Spread the love

کم عمری کی شادی

واشنگٹن(صرف اردو آن لائن نیوز) اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کی شادی انسانی

حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، لیکن دنیا بھر میں اس پریکٹس کو جرم

سمجھے بنا ہی جاری رکھا جا رہا ہے،لڑکیوں کی کم عمری میں شادی انہیں ذہنی

اور جسمانی طور پرعمر بھر کے لیے متاثر کردیتی ہے، یونیسیف کے اعداد و

شمار کے مطابق کم عمری میں ماں بننے والی لڑکیوں میں حمل اور بچوں کی

پیدائش کے دوران ہونے والی پیچیدگیوں سے ہونے والی اموات کی شرح بہت زیادہ

ہے اور ان میں سے بیشتر اپنی عمر کی بیسویں بہار دیکھے بنا ہی موت سے ہم

کنار ہوجاتی ہیں،اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں روزانہ

18سال سے کم عمر 37ہزار لڑکیوں کی شادی کی جاتی ہے،ترقی پذیر ممالک میں

اٹھارہ سال کی عمر سے پہلے ہر تین میں سے ایک اور 15سال کی عمر سے

پہلے ہر 9میں سے 1لڑکی کی شادی کردی جاتی ہے۔ عالمی میڈیا کے مطابق کم

عمری کی شادی کے نقصانات کم عمری میں شادی لڑکیوں سے ان کا بچپن چھین

کر، تعلیم اور ترقی کی راہیں مسدود کردیتی ہے،ان کے لیے گھریلو تشدد کے

خطرات میں اضافہ ہوجاتا ہے،15سال سے کم عمر میں ماں بننے والی لڑکیوں

میں زچگی کے دوران مرنے یا فیسٹولا میں مبتلا ہونے کا امکان 5گنا زیادہ ہوتا

ہے،کم عمری کی شادیوں میں افریقی ممالک نائجریا، وسطی جمہوریہ افریقا، اور

چاڈ سرفہرست ہیں،اس سے قبل اس فہرست میں جنوبی ایشیا سر فہرست تھا، تاہم

لوگوں میں اس بابت شعور اجاگر ہونے سے گزشتہ 10سالوں میں یہ شرح

49فیصد سے کم ہوکر 30فیصد تک آگئی ہے،اگر والدین میں لڑکیوں کی کم عمری

میں شادی سے متعلق مسائل کا شعور پیدا نہیں کیا گیا توآئندہ دس سالوں میں

18سال سے کم عمر کی مزید 11کروڑ لڑکیوں کی شادی کردی جائے۔

کم عمری کی شادی

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں