ریاحی بواسیر بادی بواسیر 29

ضدی بخاراور اس کا شافی علاج

Spread the love

ضدی بخاراور اس کا شافی علاج
حکیم شاہد بدرفلاحی (علیگ)
بی یو ایم ایس (اے ایم یو)
بخار (fever) کسے کہتے ہیں؟ اسکی کتنی قسمیں ہیں؟ اسکی وجوہات و اسباب کیا ہیں اور اسکا علاج کیا ہے؟ ایک معالج کیلئے اس کو سمجھنا بڑا ہی آسان ہوتا ہے اور علاج بھی۔ بخار کے علاج میں بالعموم وہی دافع بخار دوا Paracetamol اور اپنے اپنے تجربہ کے لحاظ سے الگ الگ Antibiotic دوا کا استعمال ڈاکٹر حضرات کرتے ہیں اور آرام سے مطب کرتے ہیں۔ اس دافع بخار دوا Paracetamol سے شائد ہی کوئی مطب خالی ہو۔
ہم لوگ بھی زمانہ طالب علمی (اجمل خاں طبیہ کالج علیگڑھ مسلم یونیورسٹی (1991 تا 1996) میں یہی سمجھتے رہے تھے کہ بخار کو اتارنے میں یونانی ادویہ ناکام ہیں قرص حمی وغیرہ کا نام تو سنا اور پڑھا تھا۔ امتحان پاس کرنے کیلئے یونانی نسخے لکھے بھی تھے اور یاد بھی لیکن یقین نہیں تھا کی ہماری یہ ادویہ بھلا بخار اتار سکیں گی۔ لیکن جب مطب شروع کیا تو یہ ٹھان لیا کہ صرف یونانی ادویہ سے ہی علاج کریں گے۔کتابوں کا مطالعہ کریں گے۔ دواؤں کو آزمائیں گے۔ ناکامیاں ہمیں مزید کیلئے اکسائیں گی۔ اسی تلاش و جستجو کے ذریعہ بہر حال حسب ذیل نسخہ کے ذریعہ بخار کے علاج میں کامیابی ملی۔ بالعموم وہ مریض جنہیں Typhoid بخار ہے اور وہ انگریزی ادویہ کھا کھا کر تھک چکے ہوتے تھے محض یہ جوشاندہ (چرائتہ چھ گرام گلوء چھ گرام افسنتین چھ گرام، یہ ایک پڑیا ہے) ایسی دس پڑیا پلا دینے سے ہی وہ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔کسی کو دس پڑیا اور کسی مریض کو بیس پڑیا پکا کر چھان کر پینا ہوتا ہے اور ضعف و نقاہت کو دور کرنے کیلئے خمیرہ مروارید کا اضافہ کر دیتا ہوں۔
ایک مریضہ میرے مطب پر آئی، مضمحل و مضطرب۔ اس نے بتایا کہ ’’ مجھے دو سال سے بخار ہے میں نے چار پانچ بار جانچ کرائی ہر بار ٹائیفائڈ ہی نکلتا ہے ۔ مجھے بخار ہر وقت رہتا ہے۔ پہلے تو میں نے مقامی ڈاکٹر وں سے علاج کرایا ۔وقتی آرام تو ہوجاتا تھا لیکن دوا چھوڑنے کے بعد پھر وہی تکلیف ۔ جب مقامی ڈکٹروں کے علاج سے فائدہ نہیں ہواتو شہر اعظم گڑھ کے لوٹس ہاسپیٹل میںڈاکٹر پنکج رائے MBBS MD کا دو ماہ تک علاج کیا۔ علاج سے پہلے انہوں نے میرے خون کی کئی طرح کی جانچ کرائی جسمیں ہزاروں روپیہ خرچ ہو گئے ۔ با لآخر ٹائیفائڈ بخار کی دوا ڈاکٹر صاحب نے دو ماہ تک دوا کھلانے کے بعد یہ کہہ کر دوا بند کردی کہ اب دوا کا کورس مکمل ہو گیا مزید دوا نہیں کھلائی جا سکتی لیکن مجھے آرام دوا کھانے بھر ہی تھا دوا بند ہوگئی ۔پھر وہی بخار ۔ بالآخر مجبور ہو کر ایک دوسرے ڈاکٹر، ڈاکٹر A.P یادو MBBS MDہرا کی چنگی اعظم گڑھ کو دکھایا۔ انہوں نے پھر سے سارے چیک اپ کرائے ۔وہی ٹائیفا ئڈ ہی نکلا ۔انہوں نے ڈیڑھ ماہ تک دوا کھلائی۔ کچھ ہلکا سا آرام ہو گیا پھر ڈاکٹر صاحب نے یہ کہکر دوا بند کردی کی کورس مکمل ہو گیا ۔دوا بند ہوگئی لیکن مجھے اندر ہی اندر بخا رہتا ہے۔ میں نے یہ سوچ لیا تھا کہ اب یہ بخار زندگی بھر ساتھ رہے گا۔ پھر کسی نے جڑی بوٹی سے علاج کا مشورہ دیا تو آپ کے یہاں آئی ۔
میں نے مریضہ کی حکایات سننے کے بعد اپنا وہی پرانا آزمودہ نسخہ جو پچھلے پندرہ سالوں سے میرا معمول مطب ہے ۔ جوشاندہ حمی ( چرائتہ ، گلو ، افسنتین) ہمراہ شربت بزوری صبح خالی پیٹ، شام چار بجے خمیرہ مروارید ،سات گرام رات سوتے وقت ،دس دن کیلئے دیا ۔مریضہ دس دن کے بعد آئی۔ اسے بڑا آرام تھا ۔البتہ کمر میں درد کی شکایت اس نے کی۔ میں نے وہی دوا دوبارہ دس دن کیلئے دی، صرف حب سگند کا اضافہ کردیامریضہ نے کل بیس دن تک دوا استعمال کیا ۔ وہ بہت خوش و خرم تھی اسے اب بالکل بھی بخار نہیں تھا ۔جاتے جاتے مریضہ نے یہ کہا جتنا پیسہ میرا صرف ایک ڈاکٹر کے یہاں جانچ میں ختم ہوا، صرف اتنے ہی پیسوں سے علاج مکمل ہو گیا اور میں ٹھیک ہوگئی ۔
حمی تیفودیہ ، حمی مزمنہ جسکے ایلو پیتھک علاج سے مریض عاجز ہو چکا ہے ۔کوئی مریض کہتا ہے کہ اسے چھ ماہ سے بخار ہے۔ کوئی کہتا ہے اسے دوسال سے بخار ہے ،کوئی چار سال سے بخار کی شکایت کرتا ہے۔ بخار بہت تیز ہو،ہلکا ہو،صرف مریض کو محسوس ہوتا ہو، مریض کی بھوک بالکل سے غائب ہوگئی ہو ۔ مریض ضعف ، سستی ، اضمحلال کی شکایت کرتا ہو۔ صرف دس دن تک یہ کاڑھا پلا دیں۔ کسی کسی مریض کو بیس دن تک پلانا پڑتا ہے ۔ بحمد للہ مریض ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ پچھلے پندرہ سالوں سے یہ میرا معمول مطب ہے ۔ میں موسم کی تبدیلی یا مرض کی علامات کا لحاذ کرتے ہوئے صرف شربت میں تبدیلی کرتا ہوں ۔ اگر بخار بہت شدید ہے تو اس جوشاندہ کے ساتھ شربت بزوری کا اضافہ کرتا ہوں ۔ اگر بخا کے ساتھ مریض کا لیور بھی متاثر ہے تو شربت کاسنی جوڑتا ہوں ۔اگر موسم شدید گرمی کا ہے تو اس جوشاندہ کے ساتھ شربت عناب جوڑتا ہوں ۔ اگر بخار کے ساتھ نزلہ زکام و شدید کھانسی اور سانس لینے میں دقت ہے تو شربت اعجاز جوڑتا ہوں ۔ اگر کسی مریض کو سردی، بخار، کھانسی کے ساتھ ساتھ سانس لینے میں شدید دقت ہے تو اسی جوشاندہ کے ساتھ شربت اعجاز و لعوق سپستاں خیارشنبری کا اضافہ کرتا ہوں ۔ ابھی حالیہ دنوںمیں ’’ نزلہ وبائیہ ‘‘ کے شدید اثرات ہیں،جبکہ مریض سردی ، بخار، کھانسی اور سانس لینے میں حد درجہ دقت محسوس کررہا ہے تو اسی جوشاندہ کے ساتھ شربت اعجاز و لعوق سپستاں خیارشنبری شامل کرکے صبح وشام پلاتا ہوں اور رات سوتے وقت سات گرام معجون راح المومنین گرم پانی سے کھلاتا ہوں ۔ الغرض یہ مفید ترین جوشاندہ صرف شربت کی تبدیلی کے ساتھ پورے سال استعمال ہوتا ہے ۔ حد درجہ سستا اور انتہائی شافی جوشاندہ ہے ۔
میں پورے اعتماد سے مطب کررہا ہوں اور الحمدللہ اسی نسخہ سے میرے بخار کے مریض مکمل شفا پاتے ہیں۔ اس نسخے نے پچھلے پندرہ سالوں سے کبھی خطا نہیں کیا۔ ایک دن میرے مطب پر ایک مریض آیا یہی کوئی ۲۰/۲۲ سال عمر رہی ہوگی ۔اس نے بتایا کہ وہ موضع چاند پٹی اعظم گڑھ سے آیا ہے ۔اسے ہلکا ہلکا بخار پچھلے چار سالوں سے ہر وقت رہتا ہے اور پیٹ میں ہلکی تکلیف رہتی ہے، کوئی ثقیل غذا کھانے پر معدہ بھاری ہوجاتا ہے اور متلی آنے لگتی ہے (ایسا ایلو پیتھک دوا کے کثرت استعمال سے ہو جایا کرتا ہے) کمزوری و نقاہت دن بہ دن بڑہتی جارہی ہے۔ مریض نے بتایا کہ میں ”پچھلے چار سالوں سے اپنے اس بخار کا علاج کررہاہوں۔ جانچ میں ٹائیفائڈ ہی نکلتا ہے۔ ڈاکٹر ٹائیفائڈ بخار کا ایک کورس چلاتے ہیں، جب آرام نہیں ہوتا تو کہتے ہیں کہیں اور جاؤ میں نے چاند پٹی بازا میں مشہور معالج جناب ڈاکٹر نیاز احمد صاحب کا علاج کرایا۔ علاج میں ناکامی ہونے پر، اسی بازار میں ایک دوسرے ڈاکٹر جناب ڈاکٹر ابرار احمد فلاحی سے علاج کرایا۔ اسکے علاوہ اعظم گڑھ شہر کے کئی MD ڈاکٹر کے یہاں علاج کیا۔ بس وہی وقتی فائدہ ۔بالآخر بغرض علاج میں نے ممبئی کا سفر کیا ۔وہاں کئی ڈاکٹروں کو دکھایا، جانچ رپورٹ میں وہی ٹائیفائڈ،لیکن علاج سے کچھ بھی فائدہ نہیں۔ تھک ہار کر یونانی علاج کیلئے آپ کے پاس آیا ہوں۔ مریض اپنے ہاتھ میں علاج و معالجہ کی ایک موٹی فائل لیے تھا۔ میں نے ”ھوالشافی” لکھ کر حسب ذیل دوائیں دیں۔ جوشاندہ حمی آدھا گلاس پانی میں پکا کر چھان کر شربت بزوری بیس ملی لیٹر ملاکر پینا ہے صبح خالی پیٹ، دوبارہ پھر وہی پڑیا پکا کر شربت ملاکر پینا ہے شام چار بجے اور ضعف ونقاہت کو دور کرنے کیلئے خمیرہ مروارید ایک چمچہ رات سوتے وقت کھانے کیلئے دیا۔ دس بعد وہ مریض آیا اور کہا کہ مجھے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا میں نے اسکو دس دن کیلئے وہی نسخہ پھر سے Repeat کیا کیونکہ کسی کسی مریض کو بیس دن تک بھی پلانا پڑتا ہے۔ وہ بیس دن دوا پی کر آیا اور بتایا اسے کچھ بھی فائدہ نہیں ہوا۔ مجھے حیرت ہوئی میں گہری سوچ میں پڑ گیا۔ تلاش و جستجو نے مجھے نئے دروازوں کو کھٹکھٹانے کیلئے آمادہ کیا ۔دوران مطالعہ ”حمی مواظبہ ”اور حمی لثقہ”اور ’’ حمی لیفوریہ‘‘کے مطالعہ سے کافی رہنمائی ملی۔۔
حمی لثقہـ:۔لثق کے معنی تری (بلل) کے ہیں۔ اس بخار کا نام لثقہ اس وجہ سے رکھا گیا کہ اسکے عوارض میں نرمی پائی جاتی ہے۔جسکو بلغمیت کی طرف منسوب کیا جاتا ہے۔ صفراوی بخاروں کی طرح حدت و شدت نہیں ہوتی (ترجمہ کبیر ج چہارم ص ۱۲۱)
تپ لازمئہ بلغمی کو لثقہ بھی کہتے ہیں ۔ ’’ اس تپ میں لرزہ اور سرما نہیں ہوتا اور اترنا اسکا سخت پوشیدہ ہوتا ہے۔ اور پسینہ بھی نہیں آتا ہے۔ یہ تپ ،تپِ دق سے بہت مشابہت رکھتی ہے ۔ اس وجہ سے حرارت اسکی نرم لازم ہوتی ہے اور جب ہاتھ بدن پر رکھیں حرارت محسوس نہیں ہوتی مگر اس وقت کہ تھوڑی دیر تک ہاتھ بدن پر رکھے رہیں ۔
لثقہ اور دق میں فرق یہ ہے کی لثقہ میں بعد تناول غذا کے شدت نہیں ہوتی ہے ، نبض صغیر اور لین ہوتی ہے، بخلاف دق کے کہ نبض اسمیں صلب اور ممتد ہوتی ہے (ذخیرہ خوارزم شاہی ج ۵ ص ۷۴)
حمی لیفوریہ :۔یہ وہ تپ ہے جسمیں باطن گرم ہوتا ہے اور ظاہر سرد ۔اسکو حمی لیفوریہ کہتے ہیں ۔ ( ذخیرہ خوارزشاہی ج ۵ ص ۷۵)
حمی مواظبہ:۔یہ بلغمی تپ ،جسکو مواظبہ کہتے ہیں، مدت تک رہتی ہے اور دشواری سے جاتی ہے خصوصاً اگر خریف میں عارض ہوتی ہے اور جاڑوں میں۔ چونکہ مادہ کی مقدار اس تپ میں حرارت کی کیفیت سے زیادہ ہوتی ہے لہذامناسب ہے کہ توجہ زائد خلط بلغمی کے اخراج پہ رہے ۔( کامل الصناعتہ ع ۲ ص ۲۱۷)
وہ عفونی بخار ہے جسکی باری روزانہ آئے اس بخار کا نام مواظبہ اس وجہ سے رکھا گیا کہ یہ ہمیشہ اور ہر روز آتا ہے (ترجمہ کبیر ج چہارم ص ۸۷۱)
اس بخار میں پسینہ بھی کم نمایا ہوتا ہے۔ یہ بخار لمبا، دیر پا، مزمن ہوتا ہے اور گاہے چند ماہ تک قائم رہتا ہے (ترجمہ کبیر جلد چہارم ص ۰۸۱)
حمی لثقہ میں حمی مواظبہ کی ساری علامتیں پائی جاتی ہیں لیکن یہ بخار لرزہ سے خالی ہوتا ہے۔
حمی لثقہ ،یہ بخار حمی دق سے نہایت مشابہ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے کہ اسکی حرارت بھی دق کی طرح زیادہ تیز نہیں ہوتی اور نہ کبھی اترتی ہے۔ بلکہ نرم و دائمی ہوتی ہے اور چھونے والے کو بدن کی حرارت چھوتے ہیں معلوم نہیں ہوتی بلکہ کچھ دیر کے بعد جب کہ دیر تک ہاتھ بدن پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔(ترجمہ کبیر ج چہارم ص ۲۸۱)حمی لثقہ و حمی مواظبہ میں یہ فرق ہے کہ حمی مواظبہ پسینہ آکر پورے طور پر اتر جاتا ہے یا اگر پورے طور پر نہیں اترتا ہے تو خفیف سی حرارت باقی رہ جاتی ہے جسے بخار کا اترنا ہی کہا جا سکتا ہے لیکن حمی لثقہ میں ان دو باتوں میں سے کوئی ایک بات بھی نہیں ہوتی ہے یعنی نہ تو بخار پورے طور پر اترتاہے اور نہ ہی ایسی حالت پیدا ہوتی ہے جسے بخار اترنے کے کہا جائے۔ یہ بخار لرزہ یا سردی سے شروع نہیں ہوتا یہ ایک لازمی بخار ہے جسمیں باری نہیں آتی۔ (ترجمہ کبیر ج چہارم ص 196)
اس بخار کے علاج کے ذیل میں حسب ذیل سطور نے نئی راہیں کھولیں۔”ایسے بخار کو روکنے کیلئے مخصوص دوائیں کھلائی جاتی ہیں جنکو مانعات حمی اور مانعات حرارت کہتے ہیں مثلاً افسنتین، غافث، کرنجوہ، برگ ببول وغیرہ” (ترجمہ کبیر ج چہارم ص ۲۸۱)
حب کرنجوہ:۔ یہ حب بلغمی بخار میں مفید و مجرب ہے اور بالخاصہ مانع نوبت ہے۔ نسخہ:۔ پیپل، مغز کرنجوہ ہر ایک، ایک تولہ زیرہ سفید، برگ ببول ہر ایک چھ ماشہ سب کو باریک پیس کرگوندھ کر چنے کے برابر گولیاں بنا کر استعمال کریں(ترجمہ کبیر ج چہارم ص 196) میں نے جلدی جلدی کرنجوہ خرید کر توڑ کر اسکا مغز نکالا۔ سفوف کیا اور تنہا کرنجوہ کی ہی بڑی مٹر کی سائز کی گولیاں بنائیں اور جوشاندہ حمی کے ساتھ حب کرنجوہ دو دو گولی صبح خالی پیٹ اور شام چار بجے کھانے کیلئے دیا اور نقاہت کے ازالہ کیلئے خمیرہ مروارید ایک چمچہ رات سوتے وقت کا اضافہ کیا ۔دس دن کیلئے دوائیں دیکر رخصت کردیا۔ مریض دس دن بعد لوٹا تو بہت خوش تھا۔ اس نے کہا کہ اسے بہت آرام ہے۔ اس دس دن میں ایک بار بھی بخار نہیں آیا میں نے انہیں دواؤں کو دس دن کیلئے مزید دے دیا ۔دس دن بعد مریض بہت ہشاش بشاش تھا ۔اس نے کہا کہ وہ اب الحمدللہ مکمل ٹھیک ہے۔ وہ بخار جو پچھلے چار سالوں سے تھا اب اس مرض سے بالکلیہ نجات مل چکی ہے۔
مجھے میری محنت کا پھل مل چکا تھا لیکن مجھے ابھی اپنے اس نسخہ کو یقینی بنانے کیلئے مزید تجربوں کی ضرورت تھی مجھے اور مریضوں پر اس دوا کو استعمال کرنا تھا کہ ایک دوسرا مریض میرے مطب پر آیا اور اس نے کہا کہ ”حکیم صاحب میں خود پیشہ سے ڈاکٹر ہوں میں نے بی یو ایم ایس بینا پارہ طبیہ کالج اعظم گڑھ سے کیا ہے اور پچھلے پندرہ سالوں سے میں سرکاری ڈاکٹر ہوں مجھے چار پانچ سالوں سے مسلسل ہلکا بخار رہتا ہے جس سے منہ کا ذائقہ کڑوا رہتا ہے، کھانے میں لذت نہیں ملتی پورے بدن خاص کر پنڈلیوں میں درد رہتا ہے رات میں اسی درد کی وجہ سے نیند بہت کم آتی ہے ۔اکثر راتوں میں اٹھ کر اپنے ہاتھوں سے اپنے پیروں کو دباتا ہوں تب کچھ آرام ملتا ہے۔ بہت علاج کیا لیکن یہ ہلکا بخار ساتھ نہیں چھوڑتا اور اب تو تھک ہار کر میں یہ کرتا ہوں کہ Ceftriaxon 1gm + Amikasin ملاکر آٹھ دن وریدی انجکشن لیتا ہوں تو دو ماہ تک بخار سے کسی قدر نجات ملتی ہے لیکن طبیعت تب بھی پوری طرح Fresh نہیں رہتی اور عضلات میں درد تو کسی بھی صورت میں کم نہیں ہوتا”میں نے پورے اطمینان سے جوشاندہ حمی + حب کرنجوہ دو دو گولی صبح خالی پیٹ اور شام چار بجے اور عضلات کے درد کیلئے حب اسگند تین تین گولی صبح شام بعد طعام اور ضعف و نقاہت کو دور کرنے کیلئے قرص جواہر مہرہ دو ٹکیہ صبح خالی پیٹ اور خمیرہ مروارید ایک چمچہ رات سوتے وقت کھانے کی ہدایت کی۔ ڈاکٹر صاحب دس دن بعد دوبارہ مطب پر تشریف لائے ،وہ بہت خوش تھے۔ دوا استعمال کرنے کے اگلے دن سے ہی انہیں بخار نہیں آیا۔ میں نے یہی دوا انہیں مزید بیس دن کیلئے دی، یعنی کل ایک مہینے تک علاج کیا وہ بالکل ٹھیک ہو گیے۔ انہوں نے مطب پر آکر بتایا کہ انہیں اب دوا کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہے میں تو بس ملاقات کیلئے آیا ہوں۔ طب یونانی اس قدر مفید و موثر ہے مجھے کبھی یقین نہیں آرہا تھا لیکن جس بخار کے علاج میں میں انگریزی دواؤں سے تھک چکا تھا صرف ایک ماہ کے یونانی علاج سے بحمدللہ مکمل ٹھیک ہو گیا۔
میں نے اسی جیسے بخار کو ”ضدی بخار” کا نام دیا ہے اور اس ضدی بخار کا یہی شافی علاج ہے اس دوا کا استعمال پورے اعتماد سے جاری ہے۔ ابھی دو ماہ قبل MDR TB (Multidurg resestant TB) مریضہ جسکا بخار اتر ہی نہیں رہا تھا اور کھانسی بھی رک نہیں رہی تھی TB کا مکمل علاج ہونے کے بعد بھی اسکی یہ کیفیت تھی اعظم گڑھ شہر کے مشہور معالج ،ڈاکٹر سید شہاب الدین MBBS MD کے یہاں اسکا علاج جاری تھا (مضمون کے آخر میں ڈاکٹر صاحب کا پرچہ منسلک ہے) اس مریضہ کے سرپرست میرے مطب پر آئے اور بتایا کہ ہلکا بخار مسلسل رہتا ہے اترتا ہی نہیں اور اسے شدید کھانسی آتی ہے ۔کبھی سوکھی، کبھی بلغمی، مریضہ کی بھوک بالکل غائب ہے۔ یہ میرے لئے بالکل نیا کیس تھا اس مریضہ کو TB کا پورا کورس چل چکا تھا MD ڈاکٹر نے اسکے پرچے پر اوپر ہی MDR TB نمایاں طور پر لکھ رکھا تھا۔(MDR is caused by TB bacteria that is resistant to atleast isoniazed and refampicin) میں نے ابھی تک کسی ایسے مریض کو محض یونانی دواؤں کے سہارے چھوا نہیں تھا لیکن اللہ کا نام لیکر ہمت کرلی۔
ھوالشافی
جوشاندہ حمی + حب کرنجوہ دو دو گولی صبح خالی پیٹ و شام چار بجے
سفوف سعال (خود ساختہ) ایک چمچہ + لعوق سپستاں خیارشنبری دو چمچہ + شربت اعجاز دو چمچہ باہم ملا کر چاٹیں صبح دوپہر شام
خمیرہ مروارید ایک چمچہ رات سوتے وقت
دس دن بعد مریضہ کے تیماردار آئے اور کہا کہ اسکی کھانسی مکمل ٹھیک ہو گئی ہے اور اب بخار بھی نہیں ہے الحمدللہ _البتہ بھوک ابھی تک غائب ہے۔ میں نے دوبارہ یہ دوا بیس دن کیلئے دی۔ اب اسے ہلکی بھوک لگ رہی ہے، ماشائاللہ جانے کیوں میں نے خود سے طے کرلیا کہ انہیں دواؤں کو تین ماہ تک جاری رکھوں گا۔
طبی محققین میرے اس تجربہ سے فائدہ اٹھا کر آگے تحقیق کریں کہ جہاں Isoniazed اور Refampicin جیسی اہم ادویہ ناکام ہو چکی ہوں ،وہاں حب کرنجوہ اس قدر مفید ہے؟
ایک سات سالہ بچے کو اسکی ماں لیکر آئی اور کہا کہ اس بچے کو ہر وقت بخار رہتا ہے، میں نے اسکا علاج بہت کیا لیکن ہلکا ہلکا بخار ہمیشہ رہتا ہے۔ میں نے اس خاتوں سے کہا کہ اس مرض کا علاج تو ہے لیکن بچہ چھوٹا ہے اور دوا بہت کڑوی ہے۔ لیکن اللہ کا نام لیکر کے حب کرنجوہ کی بیس گولیاں دیں اور ایک ڈبہ خمیرہ مروارید۔اس ہدایت کے ساتھ ایک گولی صبح خالی پیٹ خمیرہ مروارید میں لپیٹ کر کھلائیں اور اسی طرح ایک گولی خمیرہ مروارید میں لپیٹ کر شام کو کھلائیں ۔بچے کو پہلے دس دن میں ہی بخار سے نجات مل گئی، الحمدللہ لیکن میں نے وہی دوا مزید دس دن کیلئے دی۔ بیس دن کے علاج سے بچہ مکمل ٹھیک ہوگیا۔ میرے مخلص اطباء حضرات میری اس تحریر میں کچھ بھی مبالغہ نہیں ہے ۔میں نے اپنی ایک برس کی انتھک محنت سے جب یہ ”گوہر” حاصل کرلیا تو اسے فوراً لٹا دینے کی خواہش ہوئی۔ طب یونانی اور اس سے محبت کرنے والوں سے مجھے محبت ہے۔ اس گوہر کو لٹا دینے کیلئے اس سے بہتر جگہ کوئی اور نہیں ہے۔ اطباء کرام سے میری گزارش ہے کہ ایسے ضدی بخار کے علاج کیلئے حب کرنجوہ بنائیں یہ سستا، آسان، اور موثر علاج ہے۔ اس شافی علاج کو اپنائیں اور خلق خدا کو فائدہ پہنچائیں۔
مراجع ومستفادات

۱۔ ذخیرہ خوارزم شاہی ۔ احمد الحسن الجرجانی ۔ اردو ترجمہ ۔ حکیم ہادی حسین خاں ۔ ادارہ کتاب الشفاء ۔ کوچہ چیلان ۔ دریا گنج ۔ نئی دہلی ۔ ۲۰۱۰؁
۲۔کامل الصناعہ ۔ابوالحسن علی ابن عباس ۔ اردو ترجمہ ۔ حکیم غلام حسین کنتوری ۔ ادارہ کتاب الشفاء ۔ کوچہ چیلان ۔ دریا گنج ۔ نئی دہلی ،جنوری ۲۰۱۰ ؁
۳۔شرح اسباب ۔ اردو ترجمہ ،حکیم کبیر الدین ۔ حکمت بک ڈپو حیدر آباد۔

ضدی بخاراورعلاج,ضدی بخاراورعلاج,ضدی بخاراورعلاج,ضدی بخاراورعلاج,ضدی بخاراورعلاج,ضدی بخاراورعلاج,ضدی بخاراورعلاج,ضدی بخاراورعلاج,ضدی بخاراورعلاج,ضدی بخاراورعلاج,,ضدی بخاراورعلاج,ضدی بخاراورعلاج

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں