اسلام آباد ہائیکورٹ پر دھاوا 35

ہائی کورٹ حملہ کیس ،21وکلاء کے لائنس بحال کر نے کی استدعا مسترد کر دی گئی

Spread the love

21وکلاء لائنس استدعا

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ہائیکورٹ حملہ کیس میں ملوث 21 وکلاء کے خلاف مس کنڈکٹ کیس میں وکلاء کے لائنس بحال کر

نے کی استدعا مسترد کر دی ۔ پیر کو چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی۔ دور ان سماعت آئندہ سماعت تک 21 وکلاء کے

معطل لائسنس بحال کرنے کی استدعا مسترد کر دی گئی ۔ عدالت نے بار کے سینئر وکلاء پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کی استدعا بھی مسترد کر دی ۔اسلام آباد

ہائی کورٹ نے وکلاء تنظیموں کو حملے میں ملوث وکلاء کے نام بتانے کیلئے ایک بار پھر مہلت دیدی۔ چیف جسٹس نے کہاکہ وکلاء کی تمام تنظیموں نے اس

واقعہ کی مذمت کی۔ چیف جسٹس نے عدالت میں موجود وکلاء سے مکالمہ کیاکہ آپ سب کو ایک ایک چیز معلوم ہے۔ ایک سینئر وکیل نے استدعا کی کہ بار کے

چھ سات سینئر وکلاء کی کمیٹی بنا دیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کیا ہوا، کوئی باہر کا بندہ تو موجود نہیں تھا، ایک آئینی عدالت کو پورے دن کیلئے

غیرفعال رکھا گیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ اگر کوئی دوسرا ایسا کریگا تو پھر ان کے ساتھ بھی وہی ہونا چاہیے جو وکلاء کے ساتھ ہو۔ وکیل شعیب شاہین نے کہاکہ

یہ تاثر نہیں بننا چاہیے کہ عدلیہ وکلاء کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ چیف جسٹس نے کہاکہ ایسا کچھ نہیں ہے آپکو کس نے کہا کہ ایسا کچھ ہے، کچھ

وکلاء نے وکلاء کے یونیفارم میں یہ عمل کیا۔ چیف جسٹس نے کہاکہ بارز ان وکلاء کے نام دیں اور اس تاثر کو ختم کر دیں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ کوئی جے

آئی ٹی نہیں بنانی کوئی کمیٹی نہیں بنانی ہمیں بارز پر اعتماد ہے، اگر بار یہ کہتی ہے کہ ہم نے یہ نہیں کرنا اور انکو بچانا ہے تو پھر بھی بتا دیں، آپ مزید وقت لے

لیں اور عدالت کو آئندہ سماعت پر آگاہ کریں۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت

غیرمعینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

21وکلاء لائنس استدعا

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں