کورونا وائرس سے مزید 45

رواں سال کورونا کے مکمل خاتمے کا امکان نہیں، ڈبلیو ایچ او

Spread the love

کورونا کے مکمل خاتمے

نیویارک (صرف اردو آن لائن نیوز) عالمی ادارہ صحت نے کہاہے کہ رواں سال کے آخر تک کورونا کے مکمل خاتمے کا امکان نہیں، احتیاطی تدابیر سے اسپتال

داخلوں اور اموات پر قابو پایا جاسکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ڈائریکٹر ایمر

جنسیز ڈبلیو ایچ او مائیکل ریان نے کہا کہ مسلسل 6 ہفتوں میں کمی کے بعد گزشتہ ہفتے کورونا کیسز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل

نے کہا کہ اس وقت کورونا وائرس قابو میں ہے۔ امریکا، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور مشرقی میڈی ٹییررین میں کیسز بڑھے ہیں۔ یہ صورتحال مایوس کن

ضرور ہے، حیران کن نہیں۔مائیکل ریان کا مزید کہنا تھا کہ ویکیسن سے زندگیاں بچانے میں مدد مل سکتی ہے تاہم کورونا سے بچنے کے لیے صرف ویکسین پر

انحصار کرنا غلطی ہوگی۔

برطانیہ میں کورونا ویکسین کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے


برطانوی ماہرین نے کہاہے کہ کورونا کیخلاف ویکسینز کا استعمال شدید بیماری کیخطرے کو 80 فیصد تک کم کرسکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق پبلک ہیلتھ

انگلینڈ کے اعداد و شمارمیں بتایاگیاکہ ویکسینیشن کے تین سے چار ہفتوں بعد نتائج آنا شروع ہوگئے۔ادھر برطانیہ کے سیکریٹری صحت میٹ ہینکاک نے کہا کہ

برازیلین وائرس کے 6 کیسز ان کے ملک میں پہنچ گئے ۔لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میٹ ہینکاک کا کہنا تھا کہ برازیلین وائرس کے 3 کیسز انگلینڈ اور

اتنے ہی اسکاٹ لینڈ میں سامنے آئے۔

کورونا کے مکمل خاتمے

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں