ونجھڑی کی تان خاموش 54

ونجھڑی کی تان خاموش ،رانجھا ہمیشہ کیلئے چلا گیا

Spread the love

لاہور (صرف اردو آن لائن نیوز) پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈ اداکار ،ہدایتکارو

فلمسازاعجاز درانی 88برس کی عمر میں انتقال کر گئے ، اعجاز درانی نے فلم ’’

ہیر رانجھا‘‘ سے بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی ۔اعجاز درانی 1933میں

جلال پور جٹاں کے نواحی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ہدایتکار منشی دل کی فلم ’’ حمیدہ‘‘

میں وہ بطور ساتھی اداکار متعارف ہوئے۔ یہ فلم 1956 میں ریلیز ہوئی۔ فلم ساز

داؤد چاند کی اردو فلم ’’مرزا صاحباں‘‘ میں بھی وہ سائیڈ ہیرو تھے۔ تاہم 1957 کی

ریلیز فلم ’’بڑاآدمی ‘‘میں بطور ہیرو ان کی پہلی فلم تھی جس کی ڈائریکشن ہمایوں

مرزا نے دی تھی۔ان کی بطور ہیرو پہلی کامیاب فلم راز تھی جسے پاکستان کی

پہلی نیم جاسوسی فلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔فلم راز میں ان کی ہیروئن مسرت

نذیر تھیں۔ اردو فلموں کے بعد انہوں نے پنجابی فلموں میں بھی کام کیا۔اعجاز کی

بطور ہیرو پہلی سپر ہٹ فلم اشفاق ملک کی فلم ’’سلمیٰ‘‘ تھی جو دھواں دھار بزنس

کے ساتھ 40سے زائد ہفتے چلی۔بطور ہیرو ان کی پہلی سپرہٹ پنجابی فلم ہدایتکار

مسعود پرویز کی’’ مرزا جٹ‘‘ تھی جس میں فردوس ان کی ہیروئن بنی تھیں اور

اسی فلم سے فردوس اور اعجاز کی جوڑی مقبول ہوئی۔مسعود پرویز کی سپر ہٹ

فلم ’’ہیر رانجھا‘‘ کر کے وہ ہر دور کے لئے مقبول ہو گئے۔اعجاز درانی کی

کامیاب ہیروئنز میں سرفہرست نام بلاشبہ اداکارہ فردوس کا ہی آتا ہے۔اعجاز درانی

نے 150سے زائد فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے اور انہیں بہترین اداکاری

پر بے شمار ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔انہوں نے بطور ہدایتکار اور پروڈیوسر بھی

بے پناہ کامیابیاں سمیٹیں۔انہوں نے دوشادیاں کیں پہلی شادی ملکہ ترنم نور جہاں

سے کی۔اعجاز درانی کی دونوں شادیاں طلاق پر ختم ہوئیں۔اعجاز درانی کی نماز

جنازہ گارڈن ٹاؤن لاہور میں ادا کی گئی جس میں شوبز سمیت زندگی کے مختلف

شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

شوبزشخصیات نے اعجازدرانی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکرتے

ہوئے کہا ہے کہ ان کے انتقال سے فن کا ایک اور باب بند ہو گیاسینئر ہدایتکار سید

نور ،مصطفی قریشی ، قوی خان ، شفقت چیمہ، شان ، معمر رانا، حیدر سلطان،

ریما، بہار بیگم، ریشم ، صائمہ، حسن عسکری،نیئر اعجاز،سعود ،لیلیٰ ،میرا ،سید

نور،میلوڈی کوئین آف ایشیاء پرائڈ آف پرفارمنس شاہدہ منی،صائمہ نور،میگھا،لائبہ

علی،یار محمد شمسی صابری،سہراب افگن ،بشریٰ انصاری ، حنا دلپذیر ، نیلم منیر

، مدیحہ شاہ ، مائرہ خان ، فرزانہ تھیم ، سعدیہ امام اور جویریہ عباسی ،غلام

جیلانی گام،عذرا آفتاب،عینی طاہرہ،عائشہ جاوید،میاں راشد فرزند،سدرہ نور،نادیہ

علی،شین،سائرہ نسیم،صبا ء کاظمی، ،سٹار میکر جرار رضوی،آغا حیدر،دردانہ

رحمان ،ظفر عباس کھچی ،سٹار میکر جرار رضوی ،ملک طارق،مجید

ارائیں،طالب حسین،قیصر ثنا ء اﷲ خان ،مایا سونو خان،مختار چن،آشا چوہدری،اسد

مکھڑا،وقا ص قیدو، ارشدچوہدری،چنگیز اعوان،حسن مراد،خرد حیات،حسن

ملک،عتیق الرحمن ،اشعر اصغر،آغا عباس،صائمہ نور،خالد معین بٹ ،مجاہد

عباس،حمیرا چنا ،اچھی اور وینا ملک سمیت دیگر نے اعجاز درانی کے انتقال پر

اپنے تعزیتی بیانات میں کہا ہے کہ اعجاز درانی کسی بھی فلم کی کامیابی کی

ضمانت سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے فلموں میں لازوال کردارنبھائے اورامرہو

گئے۔ انہوں نے ہدایتکاری کے میدان میں بھی شاہکارتخلیق کئے۔ وہ فلمی دنیا کا

ستارہ تھے اور ان کے چلے جانے سے حقیقی معنوں میں فن کا ایک اور باب بند

ہو گیا۔

ونجھڑی کی تان خاموش

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں