32

این اے75کا ضمنی انتخاب کالعدم قرار، دوبارہ ووٹنگ کا حکم

Spread the love

ضمنی انتخاب کالعدم قرار

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن نیوز) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی

کے حلقہ این اے 75ڈسکہ کے19فروری کو ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار

دیتے ہوئے18مارچ کو پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیدیا۔لیکشن کمیشن

نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ تمام شواہد دیکھ کر اس نتیجے پر پہنچے

کہ انتخابی ماحول فراہم نہیں کیاگیا، حلقے میں انتخابات آزادانہ اور ایمانداری سے

نہیں کرائے گئے ، ضمنی الیکشن کے دوران لڑائی جھگڑے کے واقعات ہوئے

اور ووٹرز کو ان کا حق مکمل طور پر فراہم نہیں کیاجاسکا، حلقے میں شفافیت کو

مدنظر نہیں رکھا گیا، فائرنگ،ہلاکتوں کیساتھ امن وامان کی خراب صورتحال رہی

جس سے نتائج کے عمل کومشکوک اورمشتبہ بنایا گیا۔الیکشن کمیشن نے کہا

آرٹیکل218(3)کے تحت ضمنی انتخاب کالعدم قرار دیاجاتاہے، این اے 75میں

دوبارہ انتخابات 18مارچ 2021کوہوگا اور تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے

گا۔دری اثناالیکشن کمیشن آف پاکستان نے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی

پنجاب پولیس کو این اے 75 سیالکوٹ کے ضمنی انتخابات کے دوران اپنے فرائض

سے غفلت برتنے پر 4 مارچ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔ الیکشن کمیشن نے

کمشنر گوجرانوالہ ڈویژن اور آر پی او گوجرانوالہ رینج کو ان کے موجودہ عہدوں

سے تبدیل کر کے گوجرانوالہ ڈویژن سے باہر بھیجنے کی ہدایت کر دی۔ الیکشن

کمیشن نے اسٹبلشمنٹ ڈویژن کو حکم دیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ ‘ ڈسٹرکٹ

پولیس آفیسر سیالکوٹ اور اسسٹنٹ کمشنر کو معطل کیا جائے۔ الیکشن کمیشن نے

وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کو بھی حکم دیا ہے کہ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ

ذیشان جاوید لاشاری ‘ ڈی پی او سیالکوٹ حسن اسدعلوی ‘ اسسٹنٹ کمشنر ڈسکہ

آصف حسین ‘ ڈی ایس پی سمبڑیال ذوالفقار ورک اور ڈی ایس پی ڈسکہ محمد

رمضان کمبوہ کو معطل کیا جائے اور ان کو آئندہ کیلئے کسی الیکشن ڈیوٹی پر

مامور نہ کیا جائے۔ ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ان تمام افسران کے خلاف

الیکشن کمیشن خود انکوائری کرے گا یا وفاقی و صوبائی حکومت کو انکوائری

کرانے کا حکم دے گا جس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ جمعرات کو الیکشن

کمیشن میں حلقہ این اے 75ڈسکہ میں دھاندلی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے

سماعت کی۔ سماعت میں مسلم لیگ (ن)کی امیدوار نوشین افتخار کی نمائندگی

کرنے والے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ جن پولنگ اسٹیشن کے پریزایڈنگ

افسران غائب ہوئے وہاں پولنگ کی شرح 86فیصد تک رہی۔انہوں نے کہا کہ

الیکشن کمیشن کے پاس اختیارات ہیں کہ معاملے کی تہہ تک تحقیقات کریں کہ ڈی

ایس پی ذوالفقار ورک کی دوسری مرتبہ تعیناتی کا کون ذمہ دار ہے۔سلمان اکرم

راجا نے کہا کہ پی ٹی آئی امیدوار کے سب سے بڑے سپورٹر نے کہا تھا کہ یہ

ڈنڈے اور سوٹے کا الیکشن ہے، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ گاؤں میں

ڈنڈے سوٹے تو ویسے بھی چل جاتے ہیں۔

ضمنی انتخاب کالعدم قرار

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں