Bilawal Bhutto Zardari 39

پی ڈی ایم حکومت کے خلاف جنگ جیت چکی، بلاول بھٹو

Spread the love


حکومت کے خلاف جنگ

لاہور (صرف اردو آن لائن نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے

کہا ہے جب ہر ادارہ اپنا کام کرے توخوشی ہوتی ہے، ہمیں کسی ادارے سے غیر

جمہوری سپورٹ نہیں چاہیے ۔ آج تک بظاہر لگ رہا ہے سینیٹ الیکشن میں ادارے

نیوٹرل رول ادا کر رہے ہیں، ہم تنقید تب کرتے ہیں جب کردار نیوٹرل نہیں ہوتا۔

سینیٹ الیکشن کے بعد وزیر اعظم کیخلاف تحر یک عدم اعتماد آسکتی ہے،

چیئرمین پیپلز پارٹی نے یہ اہم باتیں لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہیں۔

اس موقع پر سینیٹ الیکشن میں پی ڈی ایم کے مشترکہ ا میدوار یوسف رضا گیلانی

اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا میثا ق جمہوریت میں موقف

تھا سینیٹ الیکشن میں درست طریقہ کار اپنایا جائے، خفیہ بیلٹ کو کہیں چیلنج نہیں

کیا جا سکتا، ا گر ہم نے سینیٹ الیکشن کو بہتر کرنا ہے تو یہ صرف پارلیمان اور

ڈائیلا گ سے ہو سکتا ہے۔ تحریک انصاف صرف اپنے فائدے کے قانون لانا

چاہتی ہے۔ ہم تو چاہتے ہیں چار ٹر آ ف ڈیموکریسی پر عمل ہو، اگر قانون و آئین

میں تبدیلی لانی ہے تو پا ر لیمان میں ہو سکتی ہے۔ آئین میں ترمیم کرنے کیلئے

دوسری جماعتوں سے رائے نہیں لی جاتی، کبھی الیکشن کمیشن ا و ر کبھی سپریم

کورٹ کے کندھوں پر بندوق چلانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عدلیہ اور الیکشن

کمیشن بھی آئینی وقانونی راستہ اپنائیں گے ، اگر ایسے ہوگا تو چارٹر آف ڈ یمو کر

یسی اور پاکستا ن کے فائدے میں ہوگا۔ امید ہے سینیٹ الیکشن ختم ہونے کے بعد

قانون سازی کر سکتے ہیں، ہماری کوشش ہے ایسی حکومت بنے جو عوام کا بوجھ

اٹھائے۔ افغانستان اور بنگلا دیش ہم سے آگے نکل گئے۔ سیاسی و معاشی فیصلے

پارلیمان کو کرنے چاہیں ۔ جب ناجائز، نالائق اور کٹھ پتلی کو مسلط کیا جائے تو

پھر سب کو بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔ حکومت گیمز کے دورا ن گیمز کے قوانین تبدیل

کررہی ہے تاکہ اپنا فائدہ ہو،سینیٹ انتخابات کے بعد الیکٹرول ریفارمز پر قانون

سازی کرسکتے ہیں،پی ڈی ایم نے حکومت کیخلا ف جنگ جیت لی ، کوئی بھی

الیکشن ہو حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے، ڈسکہ ضمنی الیکشن میں ثابت ہو گیا عوام

پی ڈی ایم کیساتھ ہیں، حکومت برے طریقے سے ہاری ہے، پی ڈی ایم نے یوسف

رضا گیلانی کو سینیٹ الیکشن میں امیدوار نامزد کیا ہے اور ہمیں معلوم ہے ہم کم

ہیں لیکن ایوان بالا کے انتخابات میں مل کر حکومت کو ٹف ٹائم دیں گے۔ بلاول

بھٹو زرداری نے کہا ہمیں کوئی دبا ؤ نہیں تھا لیکن چند صحافی پروپیگنڈا کررہے

تھے ضمنی انتخابات، ایوان زیریں اور بالا سے استعفیٰ دو ورنہ آپ جمہوریت

پسند نہیں ہو۔انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرکے کہا جیسے ہم آ پ کو صحا فت

نہیں سیکھاتے، اس طرح ہمیں سیاست نہ سیکھائیں، سیاسی لڑائی سیاسی میدانوں

میں کریں گے۔ پاکستان خطے میں افراط زر کی شرح میں سب سے آگے اور

معاشی تر قی میں سب سے پیچھے ہے۔ ہم چاہتے ہیں سینیٹ انتخابات کے عمل

میں بہتری لانے سے متعلق اقدامات پر ضرور بات چیت ہونی چا ہیے ، اگر میثاق

جمہوریت کی شق کو کسی دوسری شق میں تبدیل کرنا ہے تو یہ صرف جمہوری

و پارلیمانی طریقے سے ہوگا۔ ہمارا مختصر المعیاد منصوبہ ہے اس غیر جمہوری

طریقے سے بننے والی حکومت کو ختم ااور طویل المعیاد منصوبہ ہے پاکستان

میں جمہوریت کی بالا دستی کیلئے کام کرنا ہے۔

حکومت کے خلاف جنگ

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں