44

احسان اﷲ احسان کے فرار میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے ، پاک فوج

Spread the love

احسان اﷲ احسان فرار

راولپنڈی (صرف اردو آن لائن) پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار

نے تصدیق کی ہے کہ احسان اﷲ احسان کے فرار میں ایک سے زائد اہلکار ملوث

ہیں جن کیخلاف کارروائی شروع کر دی ہے ،جس کی پیش رفت جلد میڈیا کے

ساتھ شیئر کی جائے گی،بھارت کی تمام فوجی نقل و حرکت پر ہماری گہری نظر

ہے اور پاکستان ان خطرات سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے،سعودی

عرب سے فوجی سطح پر اچھے تعلقات ہیں اور پاکستان کے ٹریننگ سینٹر

سعودی عرب میں موجود ہیں ،ان کا یمن تنازعے سے کوئی تعلق نہیں ،پاکستان میں

اب دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے نہیں ، نئی امریکی انتظامیہ افغان طالبان

مذاکرات کے معاملے پر غور کر رہی ہے،امن کے قیام کیلئے مذاکرات جاری

رہنے چاہئیں ۔ بدھ کو راولپنڈی میں غیر ملکی میڈیا نمائندگان سے ملاقات میں

میجر جنرل بابر افتخار نے تصدیق کی کہ تحریک طالبان پاکستان کے سابق

ترجمان احسان اﷲ احسان فوجی تحویل سے فرار ہوئے تھے اور ان کے فرار میں

چند اہلکار ملوث تھے جن کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔احسان اﷲ

احسان نے گزشتہ برس فروری میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ پاکستانی فوجی تحویل سے

فرار ہو کر بیرون ملک جانے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ میجر جنرل بابر افتخار

نے کہا تھا کہ احسان اﷲ احسان کو ایک آپریشن میں استعمال کیا جا رہا تھا کہ اس

دوران وہ فرار ہو گئے تھے ۔ انہوں نے احسان اﷲ احسان کی جانب سے جاری

آڈیو ٹیپ کو بھی جھوٹا قرار دیا تھا۔انہوں نے کہاا حسان اﷲ احسان کی دوبارہ

گرفتاری کی کوششیں بھی جاری ہیں لیکن فی الوقت انھیں علم نہیں ہے کہ وہ کہاں

ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی پالیسی ہمسایوں کی جانب امن کا ہاتھ

بڑھانا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ پاکستان مشرقی سرحد پر درپیش

خطرات سے آگاہ نہیں ہے۔سابق آرمی چیف راحیل شریف ابھی سعودی عرب میں

ہی ہیں اور اپنی عہدے پر موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایران سرحد پر باڑ

لگانے کا معاملہ باہمی طور پر حل کر لیا گیا ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید

باجوہ نے ایران کا دورہ کیا تھا اور سرحدی باڑ پر ایران کے تحفظات دور کر

دئیے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے

نہیں ہیں لیکن چند عناصر موجود ہیں جو دوبارہ فعال ہونے کی کوشش کر رہے ہیں

اورانہیں بیرونی ایجنسیوں کی جانب سے اسلحے اور مالی معاونت کی جا رہی ہے

،پاکستانی فوج ان دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔ انہوں نے

کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر بننے والے کمیشن نے بہت پیش رفت کی ہے ۔

اس کمیشن کے پاس چھ ہزار سے زائد افراد کے گمشدہ ہونے کے مقدمات تھے جن

میں سے چار ہزار حل کیے جا چکے ہیں یہ معاملہ بہت جلد حل ہو جائے گا۔ انہوں

نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ماہ بلوچستان کے علاقے کیچ میں ہزارہ برادری کے

گیارہ کان کنوں کے قتل سے تعلق کی بنا پر چند افراد کو حراست میں لیا گیا ہے،

یہ بہت اہم گرفتاریاں ہیں ۔انڈیا پاکستان مخالف شدت پسندوں کی مدد کر رہا ہے اور

اس کا علم افغان انٹیلی جنس کو بھی ہے۔پاکستان میں شدت پسندوں کی مدد

افغانستان سے کی جا رہی ہے جہاں انڈیا ان تنظیموں کو ناصرف اسلحہ اور پیسے

دے رہا ہے بلکہ نئی ٹیکنالوجی سے بھی نواز رہا ہے ہمارے پاس ایسے شواہد

ہیں۔

احسان اﷲ احسان فرار

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں