علی سدپارہ لاپتہ 39

محمد علی سدپارہ دنیا میں نہیں رہے، بیٹے نے موت کی تصدیق کردی

Spread the love

علی سدپارہ نہیں رہے

اسکردو(صرف اردو آن لائن نیوز) معروف کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے

ساجد سدپارہ نے اپنے والد کی موت کی تصدیق کردی۔ اسکردو میں صوبائی وزیر

سیاحت راجا ناصر علی خان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک کے

مشہور اور عالمی شہرت یافتہ کوہ پیما محمد علی سدپارہ کے بیٹے ساجد سدپارہ

نے اپنے والد کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ علی سدپارہ اپنے دو غیر

ملکی ساتھیوں کے ہمراہ کے ٹو کی مہم جوئی کے دوران لاپتہ ہوئے، مجھے اور

کئی انٹرنیشنل کوہ پیماوں کو یقین ہے کہ انہیں کے ٹو سر کرنے کے بعد واپسی پر

حادثہ پیش آیا اور جس بلندی پر حادثہ ہوا تھا وہاں چند گھنٹوں سے زیادہ زندہ رہنا

ممکن نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ میرا خاندان انتہائی شفیق باپ سے، پاکستانی قوم

سبز ہلالی پرچم سے جنون کی حد تک محبت کرنے والے محب وطن قومی ہیرو

سے اور دنیا ایک بہادر اور با صلاحیت مہم جو سے محروم ہوئی ہے، دکھ اور غم

کی اس گھڑی میں ہم سب ایک دوسرے کے لیے سہارا بنیں گے اورمیں اپنے والد

کے مشن کو جاری رکھوں گا اور ان کے ادھورے خواب پورے کروں گا۔انہوں نے

کہا کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ، عسکری ایوی ایشن اسکردو

کے بہادر پائلٹس، وزیر اعلی خالد خورشید اور فورس کمانڈر میجر جنرل جواد

قاضی، سابق فورس کمانڈر جنرل احسان محمود کا مشکور ہوں کہ سرچ اینڈ

ریسکیو آپریشن میں تمام دستیاب وسائل استعمال اور اس طویل ریسکیو آپریشن میں

جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی۔ساجد سدپارہ نے بتایا کہ علی سدپارہ نے انتھک

محنت، بہادری اور ہنرمندی سے 8ہزار سے بلند 8چوٹیاں سر کیں، نانگا پربت کو

پہلی بار سردیوں میں سر کر کے ورلڈ ریکارڈ بنایا، جبکہ اسی چوٹی کو چاروں

موسموں میں سر کرنے کا بھی ریکارڈ میرے والد کے پاس ہے، دنیا بھر کے کوہ

پیماوں نے شاندار الفاظ میں انھیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔صوبائی وزیر راجا

ناصر نے کہا کہ کے ٹو پر موسمی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت ، پاک

فوج اور لواحقین اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ لاپتہ کوہ پیما اب اس دنیا میں نہیں

رہے۔ محمد علی سدپارہ اور ساجد سدپارہ سول اعزازت سے نوازے جائیں گے،

وفاقی حکومت کو سکردو ائیر پورٹ کو محمد علی سدپارہ سے منسوب کرنے کی

تجویز پیش کی گئی ہے۔ قومی ہیرو کے بچوں کو تعلیمی سکالرز شپ دی جائے

گی، اور ان کے خاندان کی مالی معاونت بھی کی جائے گی، جبکہ حادثات کا

شکار ہونے والے کوہ پیماوں کے خاندانوں کی کفالت کیلئے باقاعدہ قانون بنایا

جائے گا۔

علی سدپارہ نہیں رہے

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں