میانمار میں فوجی حکومت 30

میانمار , فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے، سوچی پر دوسرا الزام بھی عائد

Spread the love

فوجی بغاوت خلاف مظاہرے

ینگون (صرف اردو آن لائن نیوز) میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف مظاہرے

جاری ہیں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد سڑکوں پر آگئے۔

میڈیارپورٹس کے مطابق پولیس نے میانمار کی سیاسی تحریک کی سربراہ آن سان

سوچی پر دوسرا الزام بھی عائد کردیا، میانمار فوج نے ایک بار پھر ملک میں جلد

انتخابات کے بعد اقتدار منتخب نمائندوں تک منتقل کرنے کی یقین دہانی کرادی۔

میانمار میں سول نافرمانی کی تحریک زور پکڑ رہی ہے، ینگون میں ریلوے ملاز

مین نے ریلوے ٹریکس پر لیٹ کر احتجاج کیا، جمہورت کی بحالی کے لیے نعرے

لگائے۔مظاہرین نے سینٹرل بینک جانے والے راستے بند کر دیے اور بینک

ملازمین کو سول نافرمانی تحریک میں شامل ہونے کی پیشکش کی، احتجاجی

تحریک روکنے کے لیے ملک بھر میں انٹرنیٹ معطل کر کے اضافی فورسز

تعینات کر دی گئی ہے۔دوسری طرف پولیس نے آن سان سوچی پر درآمدی و

برآمدی قوانین کی خلاف ورزی کے بعد قدرتی آفات سے نمٹنے والے قانون کی

خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کردیا ہے۔یاد رہے کہ میانمار میں فوج نے یکم

فروری کو اقتدار پر قبضہ کرکے حکمراں آن سان سوچی کو حراست میں لے لیا

تھا۔

فوجی بغاوت خلاف مظاہرے

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں