29

ایسٹرازینیکا ویکسین کورونا کی جنوبی افریقی قسم کیخلاف محض 10 فیصدمؤثر، تحقیق

Spread the love

ایسٹرازینیکا ویکسین کورونا

نیو یارک (صرف اردو آن لائن نیوز) حال ہی میں دریافت کیا گیا تھا کہ آکسفورڈ

یونیورسٹی اور ایسٹرا زینیکا کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین کورونا وائرس کی

برطانیہ میں دریافت ہونیوالی نئی قسم کے خلاف بھی بہت زیادہ مؤثر ہے،تاہم یہ

ویکسین کورونا وائرس کی جنوبی افریقہ میں دریافت ہونے والی نئی قسم کے

خلاف کچھ زیادہ مؤثر نہیں۔تحقیق کے مطابق یہ ویکسین کورونا وائرس کی جنوبی

افریقہ میں دریافت ہونیوالی قسم کے خلاف محض 10 فیصد تک تحفظ فراہم کرتی

ہے۔یہ تحقیق ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئی اور اس میں 2 ہزار افراد

کو شامل کیا گیا تھا جن کی اوسط عمر 31 سال تھی۔تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا

ہے کہ یہ ویکسین اس نئی قسم کے معمولی اور معتدل کیسز میں بہت کم تحفظ

فراہم کرتی ہے، تاہم سنگین بیماری کے خلاف زیادہ مؤثر ہوسکتی ہے۔جنوبی

افریقہ نے اس تحقیق کے نتائج کے بعد اپنے ملک میں آکسفورڈ۔/ایسٹرازینیکا

ویکسین کی تقسیم کو روک دیا ہے۔اس تحقیق میں شامل ماہرین کی قیادت کرنیوالے

یونیورسٹی کے پروفیسر شبیر مہدی نے بتایا کہ یہ ٹرائل چھوٹے پیمانے پر تھا

اور اس میں یہ تعین کرنے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی ویکسین کی افادیت اس نئی

قسم کے خلاف 60 فیصد تک ہے یا نہیں۔انہوں نے بتایا کہ نتائج سے معلوم ہوا کہ

اس نئی قسم کے خلاف ویکسین کی افادیت 10 فیصد ہے، جو یقینا 60 فیصد کے

مقابلے میں بہت کم ہے اور بڑے پیمانے پر تحقیق میں بھی 40 یا 50 فیصد افادیت

بہت مشکل نظر آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 کی سنگین شدت کے خلاف

ممکنہ طور پر ویکسینز کی افادیت زیادہ ہوسکتی ہے، جس کی بنیاد جانسن اینڈ

جانسن ویکسین کے ٹرائل کے نتائج ہیں، جو اسی سے ملتی جلتی ٹیکنالوجی پر تیار

ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی بھی امید ہے کہ برطانوی ویکسین جانسین اینڈ

جانسین ویکسین کی طرح سنگین بیماری کے خطرے میں کمی لانے کے لیے

کردار ادا کرسکتی ہے۔پروفیسر شبیر مہدی نے کہا کہ لیبارٹری اسٹڈیز سے

انکشاف ہوا ہے کہ صرف اینٹی باڈیز ہی بیماری کی سنگین شدت کے خلاف مؤثر

ثابت ہوتی ہیں بلکہ ٹی سیل امیونٹی بھی کردار ادا کرتی ہے۔اس تحقیق کے نتائج

سے یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ اس وقت دستیاب ویکسینز وباء کے خاتمے میں ناکافی

ثابت ہوں گی اور اسی وجہ سے کمپنیوں نے ویکسین کے نئے ورڑنزز کی تیاری

پر کام بھی شروع کردیا ہے۔آکسفورڈ ویکسین گروپ کی جانب سے اس ویکسین کو

تیار کرنے والی ٹیم کی سربراہ پروفیسر سارہ گلبرٹ نے کہا ہے کہ ہم مجموعی

کیسز کی تعداد میں شائد کمی نہیں لاسکے مگر پھر بھی اس ویکسین سے اموات،

ہسپتال میں داخلے اور سنگین بیماری سے تحفظ ملتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس نئی

قسم کے خلاف معمر افراد میں ویکسین کی افادیت کا تعین کرنے میں کچھ وقت

لگے گا اور ہم متعدد ٹرائلز کو اکٹھا کرسکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ موجودہ

ویکسین کی افادیت وائرس کی کچھ اقسام کے خلاف گھٹ جاتی ہے۔انہوں نے بتایا

کہ محققین کی جانب سے ویکسین کو اپ ڈیٹ کرنے پر کام جاری ہے اور جنوبی

افریقی قسم کے اسپائیک سیکونس پر مبنی ورڑن پر کام ہورہا ہے جو موسم خزاں

تک تیار ہوسکتا ہے۔برطانیہ کے ویکسینز ویر ندیم زاہوی نے بتایا کہ حکومت کی

جانب سے اس قسم کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن

جس حد تک ممکن ہوگا، تیزی سے جاری رہے گی، جبکہ متاثرہ حصوں میں

ٹیسٹنگ کا عمل تیز ترین کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہم ہر سال ویکسینیشن کی

ضرورت یا موسم خزاں میں بوسٹر ڈوز اور پھر سالانہ بنیادوں پر ویکسینیشن کے

امکانات کو دیکھ رہے ہیں، جیسا فلو ویکسینیشن میں ہوتا ہے، جس کی دنیا میں

پھیلنے والی وائرس کی قسم کو دیکھ کر ویکسین تیار کی جاتی ہے۔نتائج حیران کن

نہیں کیونکہ جنوبی افریقی قسم میں ہونے والی ایک میوٹیشن ای 484 کے بظاہر

اس وائرس کو مدافعتی ردعمل سے بچنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔اس سے قبل

جانسن اینڈ جانسن اور نووا واکس کی ویکسینز کی افادیت بھی جنوبی افریقی قسم

کے خلاف کم دریافت ہوئی تھی۔

ایسٹرازینیکا ویکسین کورونا

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں