اسلام آباد ہائیکورٹ پر دھاوا 30

وکلاء کا اسلام آباد ہائیکورٹ پر دھاوا ،عدا لیتں غیر معینہ مدت کیلئے بند

Spread the love

اسلام آباد ہائیکورٹ پر دھاوا

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز) اسلام آباد ضلع کچہری میں تعمیر اپنے غیر

قانونی چیمبرز گرانے پر وکلاء نے احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ پر

دھاوا بول دیا۔انہوں نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے دفتر میں بھی توڑ

پھوڑ کی اور ان کیخلاف نعرے لگائے جس کے نتیجے میں چیف جسٹس اسلام آباد

ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اﷲ اپنے چیمبر میں محصور ہوگئے اور وکلا نے چیف

جسٹس سے بدتمیزی بھی کی۔اسلام آباد انتظامیہ نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں

وکلا کے چیمبرز کو غیر قانونی قرار دے کر رات گئے گرا دیا۔ سی ڈی اے

انفورسمنٹ اور پولیس نے کچہری میں بنے وکلاء کے غیر قانونی چیمبرز مسمار

کردیے۔بڑی تعداد میں وکلا اپنے چیمبرز گرانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے

اسلام آباد ہائیکورٹ میں نعرے بازی کرتے ہوئے داخل ہوگئے۔ مشتعل وکلا چیف

جسٹس بلاک میں بھی داخل ہوگئے، انہوں نے کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے جبکہ

چیف جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اﷲ، اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کے

خلاف شدید نعرے بازی کی جس کے نتیجے میں جسٹس اطہر من اﷲ اپنے چیمبر

میں محصور ہوگئے۔ وکلا نے صحافیوں سے بھی بدتمیزی کا مظاہرہ کیا اور ویڈیو

بنانے پر لڑ پڑے۔وکلا کی بڑی تعداد نے چیف جسٹس اطہر من اﷲ کے چیمبر اور

سیشن جج طاہر محمود کے دفتر میں داخل ہوکر اندر بھی توڑ پھوڑ کی۔ وکلا نے

چیف جسٹس کے مرکزی دروازے پر لاتوں کی برسات کردی۔ صورتحال پر قابو

پانے کے لیے پولیس کی بھاری نفری کو طلب کرلیا گیا ہے۔جسٹس محسن اختر

کیانی نے وکلا کو بار روم میں بیٹھ کر بات چیت کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ

بیٹھ کر بات نہیں کریں گے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا، چیف جسٹس کے چیمبر سے

ساتھیوں کو نکالیں تاکہ بات ہو سکے، اگر وکلا کو لگتا ہے ان سے زیادتی ہوئی

تو بیٹھ کر ہمیں بتائیں۔وکلا نے مطالبہ کیا کہ جو بات ہوگی اوپن ہوگی اور سب کے

سامنے ہوگی۔ شدید ناخوش گوار صورتحال کے نتیجے میں اسلام آباد ہائیکورٹ

کی تمام عدالتوں نے کام بند کردیا، داخلی دروازے بند کردیے گئے اور وکلا و

سائلین کو داخلے سے روک دیا گیا۔وکلا کے مطالبے پر ججز نے ہنگامہ آرائی

کرنے والے تمام گرفتار وکلا کو رہا کرنے کا حکم دیا۔ پولیس نے حکم کی تعمیل

کرتے ہوئے تمام گرفتار وکلاء کو فی الفور رہا کردیا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے

احتجاجی وکلا کو بلایا تو انہوں نے وہاں جانے سے بھی انکار کردیا۔ وکیل

رہنماؤں نے ججز کی گزارشات تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے

خلاف بیشک دہشت گردی کی دفعات کے تحت پرچے درج کر لیں، اگر ہمارے

مطالبات نہ مانے تو سپریم کورٹ آف پاکستان بھی بند کریں گے، جب تک چیمبرز

تعمیر نہیں ہوں گے تب تک ڈسٹرکٹ اور ہائی کورٹس نہیں کھلنے دیں گے۔وکلا

نے مطالبات کیے کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گرائے گئے چیمبرز کو دوبارہ

تعمیر کیا جائے، فی چیمبر پانچ لاکھ روپے ہرجانہ بھی ادا کریں، ڈی سی اسلام

آباد، متعلقہ ایس پی اور سیشن جج کو اسلام آباد سے ٹرانسفر کیا جائے، ڈسٹرکٹ

کورٹس کی ایف ایٹ سے منتقلی تک ملحقہ فٹبال گراؤنڈ کی باقی اراضی پر بھی

ینگ لائرز کے لیے چیمبر بنائیں، ڈسٹرکٹ کورٹس جہاں منتقل ہو وہاں وکلاء

چیمبرز کے لیے دس ایکڑ اراضی دی جائے۔وکلا کے پرتشدد احتجاج کے بعد چیف

جسٹس ہائی کورٹ اطہر من اﷲ نے اسلام آباد ہائیکورٹ اور اسلام آباد کچہری

تاحکم ثانی بند کرنے کی ہدایت کردی،۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد

نے اسلام آباد ہائی کورٹ واقعے میں ملوث افرادکے خلاف قانونی کارروائی کی

ہدایت کردی۔ ذرائع کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من

اﷲ نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان سے ملاقات کی اور انہیں تمام

صورت حال سے آگاہ کیا۔ذرائع کاکہنا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان نے واقعے میں

ملوث افرادکیخلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔دوسری طرف اسلام آباد

ہائیکورٹ کے ترجمان نے کہا ہے عدالتوں پر حملوں مین ملوث 21وکلا کیخلاف

مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔حملون مین ملوث وکلاء کے لائسنس منسوخ کرنے

کیلئے بار کونسل کو ریفرنس بھی بھیج دیئے گئے ہیں

اسلام آباد ہائیکورٹ پر دھاوا

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں