این آراو کرپشن 29

اغیارنے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا ،مسلم دنیا خاموش رہی

Spread the love

مسلم دنیا خاموش رہی

اسلام آباد(صرف اردو آن لائن نیوز) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے اربوں

روپے کی کرپشن کرنیوالے کہتے ہیں ہمیں این آر اودو،ملک حکمرانوں کی کر پش

ن سے تباہ ہوتے ہیں،ہرسال ایک ہزار ارب ڈالرز چوری ہوکر امیر ملکوں میں جاتا

ہے، قائد اعظمؒ پاکستان کو بطور اسلامی فلاحی ریاست دنیا کا رول ماڈل بنانا چاہتے

تھے ،جس مقصد کیلئے ملک بنا تھا اس کو بنانے کیلئے علماء کا کردار اب تاریخی

ہونا چاہئے،علامہ اقبالؒ کے تصور کے تحت پاکستان کو ساری دنیا کیلئے ماڈل بنانا

ہوگا کہ حقیقی اسلام کیا ہے،ہمیں ایسا پاکستان بنانا چاہئے تھا جس کو دیکھ کر دنیا

متاثر ہوتی لیکن افسوس ہم منزل سے بہت ہٹ گئے ،مغرب کو اچھی طرح سمجھتا

ہوں،اس نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑ دیا،حالانکہ اسلام کا دہشت گردی سے

کوئی تعلق ہے ہی نہیں، مگرمسلم دنیا نے اس پر کوئی رد عمل دینے کے بجائے

خاموشی اختیار کی،نائن الیون سے پہلے سب سے زیادہ خود کش حملے بھارت میں

تامل نے کئے تھے اور وہ بندو تھے لیکن کسی نے انہیں دہشت گرد نہیں کہا ۔

گزشتہ روز اسلام آباد میں علماء مشائخ کنونشن سے خطاب میں وزیراعظم عمران

خان کا مزید کہنا تھا مسلم لیڈر شپ کو عالمی فورم پر مغربی ممالک کے رہنماؤں

کو سمجھنا چاہیے تھا آزادی اظہار اور پیغمبر ؐکی ناموس میں کیا فرق ہے لیکن ایسا

نہیں کیا گیا،جب اسلام کو دہشت گردی کے نتھی کردیا گیا تو سوچ کے اعتبار سے

مسلمانوں کی تقریق برقرار نہیں رہی اور مغرب میں تمام مسلمانوں ایک ہی نظر

سے دیکھا جانے لگا۔ مغرب میں اسرائیل اور یہودیوں کیخلاف کوئی ایک لفظ ادا

نہیں کیا جاتا۔جرمنی میں یہودی کیخلاف ہولوکاسٹ کا ظالم ہومگر اب آزادی اظہار

کے نام پر کوئی اس پر بات نہیں کرسکتا۔ سلمان رشدی نے اسلام کیخلاف کتاب

لکھی ،مسلمانوں کا نبی پاکؐ سے عشق ہے،آزادی اظہار رائے کے نام پر ان کی

بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کریں گے ٍ،مغرب نے گستاخانہ کارٹونز

کے ذریعے بے حرمتی کی ،مغرب میں ہمار ے علماء کرام اور خواتین کی بے

حرمتی کی جاتی ہے،نیوزی لینڈ میں ایک دہشتگرد50مسلمانوں کو مسجد میں قتل

کردیتا ہے،وہاں مسلمانوں کو سخت پریشانی و تکالیف کا سامنا ہے،اقوام متحدہ اور

او آئی سی میں اسلام کے حوالے سے حقائق پیش کئے۔عمران خان نے کہا ہماری

کمزوریوں کی وجہ سے گستاخانہ اقدام ہوتا ہے،مغرب اور مسلمان ممالک کو بتایا

نبیؐ کی شان میں گستاخی سے مذاہب میں تفریق ہوتی ہے،مدینہ کی ریاست نبیؐ کی

سنت ہے،ہم مدینہ ریاست کے اصولوں پر چلیں گے،جہاں تمام شہریوں کو یکساں

بنیادی حقوق ملتے ہیں ، تعلیم کا یکسا ں ومفت نظام حکومت چلاتی ہے،نبی ؐنے

قانون کی بالادستی کا پہلا تصور دیا تھا،طاقتور اور غرب کے الگ الگ قانون سے

قوم تباہ ہوجاتی ہے،بدقسمتی ہے کہ اربوں روپے کے کیسز ہیں اور وہ این آر او

مانگ رہے ہیں،گائے اور بکری چوری کرنیوالے جیلوں میں ہیں۔یہ ظلم کا نظام

ہے،کفر کا نظام چل سکتا ہے مگرظلم اور ناانصافی کا نہیں،قرآن پاک میں اﷲ

تعالیٰ فرماتا ہے نبیؐ کی زندگی تمہارے لئے مشعل راہ ہے،ہجرت کے

15سے20سال بعد پوری دنیا میں انصاف کا نظام رائج ہوگیا،ہمیں نبی پاکؐ کے

اصولوں پر چلنا ہوگا،قوم جب اچھے اور برے انسان میں فرق ختم کردیتی ہے تو

تباہ ہوجاتی ہے۔ ایک آدمی ملک کا اربوں روپے لوٹ کر باہر چلا گیا،ہمارے چند

صحافی سپریم کورٹ میں چلے گئے کہ انہیں میڈیا پر تقریر کی اجازت دی

جائے،معاشرے کے اندر سے رشوت ختم کرنا چاہتا ہوں، عوام بھی تعاون

کریں،کرپٹ لوگوں کو قبول نہ کریں،کرپٹ لوگ میڈیا پر آکر قہقہے لگاتے

ہیں،سزا اور جزا میں فرق پیدا کرنا ہوگا،غریب ملکوں کے سربراہ پیسہ چوری

کرکے امیر ملکوں میں بھیج رہے ہیں،سچائی کیلئے ہمیں جہاد کرنا ہوگا،سچ سے

ہم دور چلے گئے ہیں۔نبیؐ نے تمام قبائل کی تفریق ختم کرکے انہیں ایک قوم بنا یا

،عوام کو متحدہ کرنا سنت بنویؐ ہے،علماء یہ کردار ادا کریں۔

مسلم دنیا خاموش رہی

صدارتی امیدوار جو بائیڈن نے ٹی وی مباحثے میں ٹرمپ کو ’مسخرہ‘ کہہ دیا

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں