فضائی دفاع کے وسائل 25

ہم نے فضائی دفاع کے وسائل سعودی عرب کو دے رکھے ہیں’ فرانس

Spread the love

فضائی دفاع کے وسائل

پیرس (صرف اردو آن لائن نیوز) فرانس نے ستمبر 2019ء سے سعودی عرب کو اپنے دفاع کے لیے فضائی دفاعی آلات اور وسائل فراہم کر رکھے ہیں۔فرانس نے

ایک بار پھر سعودی عرب پر یمن کے ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں کی طرف سے ہونے والے میزائل حملوں کی مذمت کی ہے۔فرانسیسی وزارت خارجہ کی طرف

سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی طرف سے ہونے والے حملوں پر پیرس، الریاض کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ بیان میں

کہا گیا ہے کہ شہری آبادی کو حملوں کا نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ میزائل اور بمبار ڈرون کی

مدد سے حملے کرنا خطے میں سنگین خطرات کی واضح علامت ہے۔ بیان کے مطابق پیرس نے ستمبر 2019ء سے سعودی عرب کو اپنے دفاع کے لیے فضائی

دفاعی آلات اور وسائل فراہم کر رکھے ہیں۔خیال رہے کہ 23 جنوری کو یمن کے حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض پر میزائل

حملے کی کوشش کی گئی تھی تاہم عرب اتحاد اور سعودی محکمہ دفاع نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے یہ میزائل فضا ہی میں تباہ کردیا تھا۔ عرب ممالک اور

عالمی برادری نے اس حملے کو امن کی کوششوں کو تباہ کرنے کی بزدلانہ کوشش قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔قبل ازیں بائیس جنوری کو

عرب اتحاد نے بتایا تھا کہ اس نے جنوبی بحر احمر میں حوثیوں کی ایک بمبار کشتی کو تباہ کرکے دہشت گردی کی کارروائی ناکام بنا دی ہے۔ اسی روز حوثیوں

کی طرف سے سعودی عرب پر بمبار ڈرون کی مدد سے حملے کی بھی ناکام کوشش کی گئی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا۔عرب عسکری اتحاد کے ترجمان

بریگیڈئر ترکی المالکی نے بتایا کہ 15 جنوری کو اتحادی فوج نے حوثیوں کے تین بمبار ڈرون فضا میں تباہ کر دیے تھے۔ یہ تینوں ڈرون طیارے سعودی عرب

میں شہری آبادی پر بم گرانے کے لیے بھیجے گئے تھے۔

فضائی دفاع کے وسائل

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں