27

کورونا وائرس پھیلانے کے سوا نیب پر ہر قسم کا الزام لگایا جاچکا ہے، چیئر مین نیب

Spread the love

نیب پر ہرالزام

اسلام آباد (صرف اردو آن لائن نیوز)قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین

جسٹس (ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب کے خلاف تواتر کے ساتھ مذموم

پروپیگنڈا جاری ہے، کورونا وائرس پھیلانے کے سوا نیب پر ہر قسم کا الزام لگایا

جاچکا ہے، نیب کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ،لوگ کہتے ہیں نیب اور پاکستان

ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ،ہم کہتے ہیں کرپشن اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل

سکتے،ہمارے ہاتھ میں کشکول ہے، ملک اربوں ڈالر کا مقروض ہے، معیشت

مضبوط ہوگی تو ملک مضبوط ہوگا،کوئی تاجر نیب کی وجہ سے ملک چھوڑ کر

نہیں گیا ، اگر ثابت ہوجائے کہ کوئی تاجر نیب کے خوف کی وجہ سے ملک چھوڑ

کر چلا گیا ہے تو میں ابھی دفتر کے بجائے گھر چلا جاؤں گا۔وفاقی دارالحکومت

میں ایوان صنعت و تجارت میں تقریب کے دوران تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ نیب کے خلاف پروپیگنڈا صرف وہ افراد کررہے ہیں جن کے

خلاف انکوائری جاری ہے یا تحقیقات ہورہی ہیں یا عدالت میں ان کا ریفرنس زیر

سماعت ہے اور اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس کے ساتھ زیادتی ہوئی تو ملک میں

عدالتیں موجود ہیں آپ نیب کے خلاف وہاں درخواست دیں۔انہوںنے کہاکہ نیب پر

الزام عائد کیا جاتا ہے کہ سیاسی انجینئرنگ کی جاتی ہے جو درست نہیں، نیب کا

سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، اور لوگ کہتے ہیں کہ نیب اور پاکستان ساتھ ساتھ

نہیں چل سکتے لیکن کرپشن اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔انہوں نے کہا

کہ ملک کے وہ افراد جن کی جانب کوئی آنکھ اٹھا کر دیکھ نہیں سکتا تھا، کوئی

چھو نہیں سکتا تھا نیب نے انہیں احتساب کے لیے بلایا اور پوچھا تو ان کے پاس

کوئی جواب نہیں تھا اور انہوں نے ملک سے جانا ہی مناسب سمجھا۔انہوںنے کہاکہ

ایک صوبے میں 10 سے 15 ارب روپے کی گندم کی خرد برد کی گئی جب پوچھا

گیا کہ یہ گندم کہاں گئی تو جواب ملا کے چوہے کھا لیتے ہیں لہٰذا جب چند موٹے

چوہوں کو پکڑا گیا تو 10 سے 15 ارب روپے کی رقم 3 ماہ میں واپس آگئی۔انہوں

نے کہا کہ جب نیب کا سلسلہ واضح طریقے سے ختم ہوگا تو میں بتاؤں گا کہ کتنی

دھمکیاں ملتی ہیں، کتنی مراعات ہیں اور کتنا لالچ ہے تاہم جب میں نے یہ عہدہ

سنبھالا تھا کہ جو کچھ میں کرسکا وہ اپنے ملک اور ملک کے عوام کے لیے کروں

گا۔انہوں نے بتایا کہ ان کے عہدے کی 3 سالہ مدت کے دوران نیب نے 4 کھرب

87 ارب روپے برآمد کیے ہیں، اتنی بڑی رقم اگر ڈکیتی کی نذر ہوچکی ہو تو اسے برآمد کرنا آسان کام نہیں ہے۔چیئرمین نیب کے مطابق اس وقت ایک ہزار

235 ریفرنسز مختلف عدالتوں میں زیر التوا ہیں جن میں سے ایک فیصد بھی

کاروباری افراد کے خلاف نہیں ہیں۔انہوںنے کہاکہ کچھ لوگوں کو شکایت ہے کہ

نیب کے حوالات چھوٹے ہیں تو اب ہم سرینا یا سینٹورس کا کمرہ کہاں سے لائیں

جو کمرے ہیں وہیں رکھا جاتا ہے۔ایک واقعہ بتاتے ہوئے جسٹس (ر) جاوید اقبال

نے کہا کہ ایک صاحب کے خلاف سو سے ڈیڑھ سو شکایات آئیں کہ پیسے دینے

کے 5 ـ6 سال بعد بھی کوئی پلاٹس نہیں ملے تو میں نے انہیں بلایا اور پوچھا کہ

کیا آپ نے پیسے لیے ہیں تو انہوں نے کہا کہ تھوڑے سے لیے ہیں پوچھنے پر

انہوں نے بتایا کہ ڈھائی ارب روپے وہ لے چکے ہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ میں

نے انہیں کہا کہ جب پیسے لے لیے ہیں یا تو زمین دے دیں یا پیسے واپس کردیں

جس پر ان صاحب نے بتایا کہ میری حکمت عملی یہ تھی کہ پہلے میں پیسہ اکٹھا

کرلوں اس کے بعد زمین خریدوں اب مجھے زمین نہیں مل رہی، نیب مجھے زمین

لے کر دے دے۔انہوں نے کہا کہ تاہم ہمارے اصرار پر انہوں نے قسطوں میں

ادائیگی کی پیشکش کی جو نیب نے منظور کرلی اور اب وہ فرد پیسے دے رہے

ہیں۔چیئرمین نیب نے کہا کہ ایک مرتبہ جو رقم لوٹ لی جائے یا ڈکیتی کرلی جائے

اس کی واپسی کا بہت کم امکان ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاہور کی ایک معروف

ہاؤسنگ سوسائٹی سے خاصے دوستانہ ماحول میں 2 سال کے عرصے میں ڈھائی

ارب روپے کی رقم حاصل کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ کاروباری افراد کی

شکایت تھی کہ ہمارا نجی معاملہ ہے، نجی معاملہ اس وقت ہوتا ہے جب ایک فرد

کا دوسرے کیساتھ ہو تاہم جب سیکڑوں افراد شامل ہوجاتے ہیں تو یہ نجی معاملہ

نہیں رہتا۔چیئرمین نیب نے اپنا واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ سے

ریٹائرمنٹ کے وقت جب مجھے واجبات ملے تو ایک پلاٹ لینے کا سوچا اور اس

کیلئے یکمشت 45 لاکھ روپے کی ادائیگی بھی کی لیکن آج تک نہ پلاٹ ملا نہ وہ

45 لاکھ روپے ملے۔انہوںنے کہاکہ میں کسی کو یہ نہیں کہتا کہ میرے پیسے واپس

کرو بلکہ میں ان کے پیسے واپس کروارہا ہوں جن کے پاس کھانے کے پیسے نہیں

جنہوں نے اپنا سب کچھ آپ کے حوالے کیا اور آپ نے لوٹ لیا۔انہوں نے کہا کہ وہ

ماضی کی باتیں تھی کہ جب کوئی پوچھتا نہیں تھا اب پوچھنے والے موجود ہیں

اور یہ اس وقت تک پوچھتے رہیں گے جب تک ہر غریب آدمی کو اس کے پیسے

یا پلاٹ نہیں مل جاتا۔چیئرمین نیب نے کہا کہ ہمارے ملک میں ایسی بھی سوسائٹیز

تھیں جنہیں کنگ میکر کہا جاتا تھا ان سے ہم نے اربوں ڈالر برآمد کیے ہیں جو

کسی دھمکی سے نہیں بلکہ قانونی طریقے سے پلی بارگین کر کے واپس لیے۔

انہوںنے کہاکہ یہ سختی سے ہدایت کردی گئی ہے کہ کسی بزنس مین کو ٹیلیفون کر

کے نیب کے دفتر نہیں بلایا جائے گا اگر کسی کو بلانا ہوا تو چائے پلانے کے لیے

میں انہیں خود بلالوں گا اور بیٹھ کر بات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ نیب 20 سال

پہلے وجود میں آیا اور میرے عہدے کو 3 سال ہوئے ہیں اس دوران نیب کی بہتری

کے لیے جو انسانی کوشش کی جاسکتی تھی وہ میں نے کی ہے۔انہوں نے کہا کہ

کوئی تاجر نیب کی وجہ سے ملک چھوڑ کر نہیں گیا لیکن اگر یہ ثابت ہوجائے کہ

کوئی تاجر نیب کے خوف کی وجہ سے ملک چھوڑ کر چلا گیا ہے تو میں ابھی

دفتر کے بجائے گھر چلا جاؤں گا۔

نیب پر ہرالزام,نیب پر ہرالزام,نیب پر ہرالزام

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں