33

پاکستان کی سلامتی کونسل میں نئی مستقل نشستوں کی مخالفت

Spread the love

پاکستان کی سلامتی کونسل میں

نیویارک (صرف اردو آن لائن نیوز)پاکستان نے اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل میں

نئی مستقل نشستوں کی تشکیل کی واضح مخالفت کرتے ہوئے خبردارکیا ہے کہ

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی)کی مستقل نشستوں کے خواہش مند،

بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان (المعروف جی4)کی جانب سے 15 رکنی باڈی

کی اصلاح کے لیے دبا ئوڈالنے کی کوششیں اتفاق رائے پر مبنی عمل کو زیادہ

موثر، نمائندہ اور قابل احتساب بنانے کو ختم کردیں گی۔غیرملکی خبررساں ادارے

کے مطابق اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر منیر اکرم نے نئے مستقل اراکین

بنانے پر پاکستان کی سخت مخالفت کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ بین الحکومتی

مذاکرات (آئی جی این)کونسل کی جامع اصلاحات کے لیے واحد معتبر پلیٹ فام رہا

ہے۔نیویارک میں طویل عرصے سے جاری آئی جی این عمل دوبارہ شروع ہونے

پر پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ آئی جی این عمل کو نقصان پہنچانے یا ڈی ریل

کرنے کی کوئی بھی کوشش الٹ ثابت ہوگی۔منیر اکرم کا کہنا تھا کہ جی4 اراکین یہ

خوف پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جب تک عمل کو شارٹ سرکٹ کرنے

کے ان کے طریقہ کار کے اقدام کی توثیق نہیں کی جاتی اصلاحت کے لیے مواقع

جلد ضائع ہوسکتے ہیں۔پاکستانی سفیر کا کہنا تھا کہ ہم آئی جی این میں نئی زندگی

جینے کے لیے تیار ہیں لیکن کچھ ریاستیں اس عمل کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔

اپنے بیان میں سفیر منیر اکرم کا کہنا تھا کہ یو ایف سی کی 11 نئی غیر مستقل

نشستیں شامل کرنے کی تجویز سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مساوی

نمائندگی کے خسارے کا ازالہ ہوگا کیونکہ اس میں تمام گروپس کے مفادات کو

پورا کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ 1945 میں کونسل نے اقوام متحدہ کی رکنیت

کی 20 فیصد کی نمائندگی کی اور آج یہ رکنیت کی 8 فیصد نمائندگی کررہی ہے،

1945 میں 8 رکن ریاستوں کے لیے ایک غیرمستقل نشست تھی جبکہ آج 19 رکن

ریاستوں کے لیے صرف ایک غیرمستقل نشست ہے۔ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی

نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے ایک تہائی اراکین نے کبھی کونسل میں خدمات انجام

نہیں دیں جبکہ سینٹ ونسینٹ اور گریناڈائنز صرف دوسری چھوٹی آئی لینڈ ترقی

پذیر ریاست ہے جس نے یو این ایس سی میں کبھی خدمت انجام دی۔پاکستانی سفیر

کا کہنا تھا کہ یو ایف سی کی تجویز افریقی گروپ، چھوٹی آئی لینڈ ڈیولپنگ

ریاستیں، عرب گروپ اور اسلامی تعاون تنظیم )او آئی سی(کی امنگوں کو ایڈجسٹ

کرسکتی ہے تاہم جی 4 کی جانب سے اپنے خطوں کے لیے افریقی علاقائی نقطہ

نظر کو لاگو کرنے کا امکان نہیں ہے۔انہوں نے نشاندہی کی اتفاق رائے پر مبنی

افریقی ماڈل نمائندگی اور احتساب کی دو ضروریات پر متحرک ہے۔ساتھ ہی منیر

اکرم کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان اور یو ایف سی آئی جی این کے گرشتہ اجلاس

کے دوران ہونے والی پیش رفتوں کے فروغ کے لیے خواہاں ہے، مزید یہ کہ

صرف مذاکرات اور اتفاق رائے کے ذریعے ہی مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکتا

ہے۔پاکستانی سفیر نے کہا کہ ہم اس مقصد کے فروغ کے لیے آپ کے ساتھ کام

کرنے کے تیار ہیں۔

پاکستان کی سلامتی کونسل میں

ڈاکٹر وحید قریشی بطور محقق

قارئین : ہماری کاوش پسند آئے تو شیئر ، اپڈیٹ رہنے کیلئے فالو کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں